💥القرضاوی: معاشقے سے مصافحے تک💥
تحریکیوں کے پیر و مرشد یوسف قرضاوی کے یہاں بہت ساری فکری گمراہیاں اور دینی مسلمات کا انکار پایا جاتا ہے جن پر ایک دفتر ناکافی ہے۔ ان میں ایک دلچسپ بات موصوف کا اجنبی عورت سے مصافحہ کو جائز قرار دینا ہے۔ قرضاوی فرماتے ہیں: (مصافحة النساء جائزة إذا دعت الحاجة لذلك وأمنت الفتنة) ترجمہ: عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز ہے اگر اس کی ضرورت آن پڑے اور فتنے سے آدمی محفوظ ہو۔
اس حساس موضوع پر محترم کا انٹرویو سنیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=216820865740026&id=100022363430440
💥سوال یہ ہے کہ بيعة النساء والی آیت کے نزول کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت سے مصافحہ کیوں نہیں کیا؟ جب کہ بغیر مصافحہ کے بیعت کا تصور ہی نہیں ہوتاہے۔ آخر اس سے بڑی ضرورت کب ہو سکتی ہے نیز آپ سے فتنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
در اصل یہ حرام ہے۔ اسی لئے آپ نے اتنے اہم موقع پر بھی ایسا نہیں کیا اگر استثنا کی کچھ بھی گنجائش ہوتی تو ضرور آپ مصافحہ کر کے عورتوں سے بھی بیعت کرتے۔
اس کی حرمت پر بہت ساری دلیلیں ہیں جن میں سے چند ایک پیش خدمت کرتا ہوں:
1- قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (لَأَنْ يُطعَنَ في رأسِ أحَدِكُمْ بِمَخْيَطٍ من حَدِيدٍ خَيرٌ له من أنْ يَمسَّ امْرأةً لا تَحِلُّ لَهُ). الراوي: معقل بن يسار المحدث: الألباني - المصدر: صحيح الجامع - الصفحة أو الرقم: 5045 خلاصة حكم المحدث: صحيح ۔ التخريج : أخرجه الروياني في ((المسند)) (1283) باختلاف يسير، والطبراني (20/211) (486)، والبيهقي كما في ((الترغيب والترهيب)) للمنذري (3/26) واللفظ لهما۔
ترجمہ: تمہارے سر میں لوہے کی سوئی سے چبھویا جائے یہ بہتر ہے اس سے کہ تم کسی اجنبی عورت کو چھوؤ۔
2- عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: "لَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَط ۔ وفي رواية: ما كان يبايعهن إلا بالكلامُّ". رواه البخاري (6674)، ومسلم (3470)، والترمذي (3228)، وابن ماجة (2866)، وأحمد (23685)، وغيرهم.
ترجمہ: اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بیعت کے موقع پر آپ عورتوں سے بات کر کے بیعت کرتے تھے۔
3- بیعت والی مشہور حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں: (هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ مِثْلِ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ).
ترجمہ: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ہوں۔
💥یہ تو رہی مصافحہ کی بات۔ ویسے جناب پر ان کی جزائر کی مطلقہ بیوی اسماء نے الزام لگایا ہے کہ شادی سے پہلے میرے پاس عشقیہ خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اسے بہت سارے اخبار نے نشر بھی کیا میں ایک پیپر کے حوالے سے خطوط کے کچھ پیراگراف بلا ترجمہ نقل کر رہا ہوں:
💔"هذه أول رسالة يخطها إليك قلمي يا حبيبة الروح، ومهجة الفؤاد، وقرة العين، لأعبر لك فيها بصراحة عن حب عميق كتمته في نفسي طوال خمس سنوات”.
ويتساءل القرضاوي في الرسالة المنسوبة إليه مخاطبا أسماء “أهو مجرد حب أستاذ لتلميذة نجيبة، أو أب لابنة حنون أم هو شيء آخر يختلف عن ذلك؟”.
ولم تتوقف الرسالة التي نشرتها طليقة الرئيس الحالي للاتحاد العالمي للعلماء المسلمين عند التغزل، بل ذهبت وصف الجسد بالقول: “يا أغلى اسم وأحلى رسم وأجمل وجه وأروع جسم وأطهر قلب وأعذب صوت”.وتضيف: “وإني أتهرب الآن من الإمامة ما استطعت فإن تفكيري فيك يجعلني أسهو وأغلط ومع السهو أسهو أن أسجد للسهو”.
الرسالة المنسوبة للقرضاوي كانت بمثابة مرافعة عشق، إذ جاء فيها: “أحبك بكل قلبي بكل روحي بكل عقلي بكل أعصابي بكل خلية، بل بكل ذرة من كياني ويكفيني منك أن تحبيني عشر ما أحبك فلم تستطيعي يا حبيبتي أن تنافسيني فحبي هو الأسبق والأعمق وكل لحظة تجعلني أزداد لك حبا وحبا وحبا…”.
مطالبے پر ترجمہ بھی پیش خدمت ہے:
🌹جان من، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح دل !
یہ میرے پیار کا پہلا خط ہے جس میں دل کی گہرائیوں سے تم سے اس محبت کا اظہار کر رہا ہوں جسے پانچ سالوں سے چھپائے ہوئے تھا۔
کیا یہ محبت ایک استاذ کی اپنی شریف شاگردہ کے لئے ہے یا ایک باپ کی اپنی پیاری بیٹی کے لئے ہے یا یہ محبت ان سب سے الگ کچھ اور ہی ہے؟
میرے سب سے قیمتی نام، سب سے میٹھا بدن، سب سے حسین چہرہ، انوکھا جسم، شیشے کی طرح صاف دل اور شہد کی طرح میٹھی آواز !! مجھے امامت کی طاقت نہ رہی تمہاری یاد میں ادھر ادھر بھاگتا پھر رہا ہوں، تمہاری سوچ میں اس طرح غافل اور غلطاں و پیچاں ہوں کہ نماز میں سجدہ سہو بھی بھول جاتا ہوں۔
مجھے تم سے محبت ہے دل کی گہرائیوں سے، دل وجان سے، پورے عقل و حواس سے، اعصاب بدن اور ایک ایک جوڑ سے، جسم کے ہر خلیے اور ایک ایک ذرے سے بلکہ میرے پورے وجود سے۔ تمہارے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ تم مجھ سے میری محبت کا عشر عشیر ہی محبت کر لو۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ جان من تم مجھ سے اتنے میں بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ میری محبت ہی غالب اور گہری ہے جو ہر لمحہ غالب اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔
تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھیں:
https://al-marsd.com/53687.html
👈نوٹ:
کیا محترم نے ملکہ قطر موزہ بنت ناصر آل مسند سے مصافحہ کرنے کی خاطر یہ جواز کا فتویٰ دیا ہے؟ نیز آنجناب کی مطلقہ اسماء کے اس الزام پر کیا کہا جائے جس نے موصوف پر معاشقے کا الزام لگایا ہے؟
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق