السبت، 20 أكتوبر 2018

بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی ترک کمپنی نے لیا بنانے کا ٹھیکہ

🎪بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی ترک کمپنی نے لیا بنانے کا ٹھیکہ🎪
☠اردگانی بھکتوں کیلئے لمحہ فکریہ!☠
((رواں مہینے کے شروع ہی سے تحریکی یہ خبر پھیلا رہے ہیں کہ سعودی عرب، اردن اور امارات مل کر بیت المقدس کے اندر ترکی رفاہی کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس خبر کی کیا سچائی ہے ذرا تفصیل ملاحظہ کریں۔ اور ایک تازہ خبر یہ کہ ترکی نے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی ذمیداری لے ہے اسے تحریکی کیوں نہیں پھیلا رہے ہیں اسکی بھی حقیقت ملاحظہ کریں اور تحریکیوں کی دوغلا پنی دیکھیں:))
💥سارے مسلم ممالک میں صرف ترکی ایک واحد ملک ہے جسکا کھلے عام اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب کے اندر سفارت خانہ ساٹھ سال سے موجود ہے اور اسرائیلی مقبوضہ بیت المقدس میں ترکی کونسلیٹ بھی موجود ہے۔ 
ترکی اپنے اسی وجود اور اثر ورسوخ کی وجہ سے فلسطینیوں کے ساتھ جھوٹی خیر خواہی میں اپنے ایک رفاہی ادارہ (تیکا) کے ذریعے مشرقی یوروشلم میں اسلامی مقدسات کے اندر حالیہ ایام میں کچھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ پوری دنیا سے خصوصاً عرب ممالک سے آنے والی امداد اور صدقات وزکوٰۃ پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل سکے۔ یعنی نام کا نام اور کام کا کام بھی بنتا رھے۔ حالانکہ ان مقدس مقامات کے دیکھ ریکھ کی پوری ذمیداری اقوام متحدہ کی طرف سے اردن کو ملی ہے۔ 
((یہ حقیقت بھی آشکارا ہو جانا چاہئے کہ مذکورہ مقامات مقدسہ کی دیکھ بھال اور اسکی مرمت وغیرہ کیلئے سب سے زیادہ تعاون ہمیشہ سعودی عرب کا رہا ہے پھر امارات، کویت اور اردن کا ہے۔ ترکی نے تو قیام اسرائیل ہی سے اسکے ساتھ مضبوط تعلقات بناکے رکھے ہیں۔ وہی اسرائیلی فوج ترکی سے ٹریننگ اور اسلحہ لیکر آتے ہیں اور فلسطینی بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ پھر سیر وتفریح کیلئے ترکی سفر کرتے ہیں۔ اور اردگانی دور حکومت میں یہ سارے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ لہذا اگر آج ترکی یہ دعویٰ کرے کہ وہ فلسطینی عوام کا خیر خواہ ہے تو اسے ایک اردگانی منافقت اور ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔ الیکشن کے موقعے پر اور اس سے پہلے گزشتہ ترک عوام خود اردگان سے کتنی بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ اگر فلسطینی عوام سے اتنی محبت ہے تو اسرائیل سے سارے تعلقات ختم کیوں نہیں کئے جاتے؟! لیکن آج تک ڈھونگی اردگان کے کان پر جوں تک نہیں رینگا ہے۔ ))
💥چنانچہ مذکورہ ترک دخل اندازی اور حرکت کو دیکھ کر فلسطینی اتھارٹی نے ترکی کے اس رفاہی ادارے کے خلاف آواز اٹھائی جسے وہیں کے ایک ویب سائٹ نے چھاپا بھی۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:  
http://m.maannews.net/Content.aspx?id=954370
گزشتہ مہینے کی آٹھ تاریخ کو اسی خبر کو ایک مصری اخبار نے چھاپ دیا۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو: 
http://fanarmisr.com/2018/07/إسرائيل-تخطط-لحظر-نشاطات-تركيا-في-القد/
🏄پھر کیا تھا تحریکی اخوانیوں کے ہل چل مچ گئی۔ انہوں نے ترکی کے خدمات کو سراہنا اور اس کی چاپلوسی کرنا شروع کر دی۔ اور فلسطینی اتھارٹی کا حوالہ نہ دیکر کبھی سعودی اور اردن پر اسکا الزام لگایا تو کبھی سعودی اور امارات پر۔ اور اسے اس طرح بڑھا چڑھا کر پھیلایا گیا گویا ترکی فلسطینی عوام کا بہت بڑا خیر خواہ ہو۔ اور سعودی عرب ودیگر عرب ممالک ان کے دشمن ہوں۔ 
🏇رواں مہینے جولائی کے شروع میں گھومتے پھرتے یہ خبر بر صغیری تحریکیوں کے پاس بھی آ پہونچی پھر کیا تھا ترکی کے تعلق سے اس خبر کو لے کر اڑنے لگے اور خبر کی حقیقت جانے بغیر سعودی اور امارات کو امریکی پٹھو، یہودی ایجنٹ اور ان تحریکیوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والوں کو ریالی ہونے جیسے مختلف الزامات سے متہم کرنے لگے۔ حالانکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ اردگان پکا کمالی کمنسٹ ہے وہ یہودیوں سے اپنے تعلقات کبھی ختم نہیں کرے گا اور ترکی میں کمالی کمنسٹ اور الحادی دستور کو کبھی بھی ختم نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسلامی دستور نافذ کر سکتا ہے لیکن سعودی دشمنی میں اندھا ہوکر انہیں کوئی بھی ایسا رہنما مقبول ہے جو انکی تائید کر رہا ہو۔ بطور مثال ایک تحریکی لنک کا ملاحظہ کر لیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=871789709679337&id=100005449477359
🎪ابھی ابھی تازہ ترکی کی یہ خبر ہے کہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی ذمیداری اور اسکا ٹینڈر ایک ترک کمپنی لیماک LIMAK  نے لی ہے جو کہ اردگانی پارٹی آق کا قریبی مانی جاتی ہے۔ یہی منافق اردگان جس نے کہا تھا کہ بیت المقدس امریکی سفارت خانے کی منتقلی سرخ پٹی ثابت ہو گی لیکن اسی مہینے کے شروع میں ناٹو تنظیم کانفرنس کے موقع پر أردگان نے ٹرمپ سے مل کر اسی امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی ذمیداری بھی لے لی ہے۔ پوری خبر اس امریکی اخبار میں دیکھیں: 
https://edition.cnn.com/2018/07/17/politics/us-embassy-jerusalem-cost/index.html
کیا اس خبر کو اب برصغیر کے تحریکی پھیلانے کی جراءت کریں گے ؟! یا اردگانی بھکتی میں اسے اردگان کا ذاتی معاملہ بتا کر اپنی زبانوں کو سی لیں گے؟! 
اگر یہی کام سعودی عرب یا امارات کی کسی کمپنی نے کیا ہوتا تو یہ تحریکی ان عرب ممالک اور وہاں کے حکمرانوں پر کیا کیا الزامات اب تک لگا دیتے! کیا یہ اردگانی اندھ بھکتوں کیلئے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟!

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...