السبت، 20 أكتوبر 2018

مودودی کی فضیلت میں قرضاوی کی کتاب: کبوتر با کبوتر باز با باز

🎪مودودی کی فضیلت میں قرضاوی کی کتاب: کبوتر با کبوتر باز با باز🎪
☠خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد☠
💥تحریکیوں کے روحانی پیشوا یوسف قرضاوی 2011 سے ابو الاعلی مودودی پر (نظرات فی فکر الإمام المودودی) کے نام سے تبصرہ لکھ رہے تھے جسے 2015 میں کتابی شکل دے دی جو 120 صفحات پر مشتمل ہے جس کے اندر مصنف نے ابو الاعلی مودودی کو وقت کا امام اور مفکر اسلام بنا کر پیش کیا ہے۔ 
یہ کتاب تحریکیوں کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی۔ چنانچہ اسے فورا ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسکا اردو میں ترجمہ بھی کیا گیا جسکی ذمیداری ابو الاعلی سید سبحانی نے نبھائی اور اس پر ایک مقدمہ لکھا عنایت اللہ سبحانی نے۔ ترجمے کا یہ کام ایک سال بعد 2016 ہی میں ہو چکا ہے لیکن اس وقت اسے بڑے پیمانے پر دوبارہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے۔ اسکی اصل لنک ملاحظہ کریں: 
https://m.facebook.com/drinayatullahsubhani/photos/a.1507378279496202.1073741828.1500044160229614/1755360024698025/?type=3
چونکہ مزعوم "مفکر اسلام" نے اپنی فکر وعقل کو بنیاد بنا کر بہت ساری احادیث کو رد کیا اور بہتوں پر نقد کیا ہے جس طرح کہ قدسی صفات بعض صحابہ کرام پر بھی کیچڑ اچھالنے سے باز نہ آسکے۔ اور یہ ساری باتیں بہت مشہور ہیں۔ بہت سارے لوگوں نے مودودی کی فکر اور انکے اسلام مخالف اور خمینی نواز آراء پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں علامہ داؤد راز، اسحاق بھٹی، جسٹس تقی عثمانی، حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا صلاح الدین مقبول وغیرہ معروف ہیں۔ 
ویسے ابو الاعلی مودودی پر بالتفصیل جانکاری کیلئے اس پوسٹ کا مطالعہ ضرور کریں تاکہ تقابلی جائزہ سامنے آ سکے: 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1650296301750317&id=100003098884948
💥پہلے صرف دو مثالوں کے ذریعے مودودی کی کل فکر اور انکی عقل کے منتہی کا خلاصہ دیکھتے ہیں پھر قرضاوی کی عقل پر ماتم کیا جائے گا: 
چنانچہ ابو الاعلی مودودی حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں: 
"یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا، 
جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ ڈکٹیٹرشپ کا مطالبہ تھا۔ اور اس کے نتیجے میں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل ہے"۔ 
( تفہیمات۔ج۲،ص۱۲۲، طبع پنجم،۱۹۷۰ء)
حدیث رسول کے بارے مودودی صاحب کیا خوب فرماتے ہیں:
"آپ کے نزدیک ہر اس روایت کو حدیث ِ رسول مان لینا ضروری ہے، جسے محدثین سند کے اعتبار سے صحیح قرار دیں- لیکن ہمارے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے. ہم سند کی صحت کو حدیث کے صحیح ہونے کی لازمی دلیل نہیں سمجھتے" (رسائل و مسائل ج/١ ص/١٨٤)
یہ ہے مودودی کی فکر اور سوچ جنہیں قرضاوی نے مفکر اسلام بنا کر پیش کیا ہے۔ یہی قرضاوی ہیں جنہوں نے حسن ترابی جیسے بیہودے اور دین اسلام کے خلاف ہفوات بکنے والے کو مجدد دین ثابت کیا ہے اور اس بد عقل کی فضیلت پر بھی ایک کتاب لکھ ماری ہے۔ اس پوسٹ پر ایک نظر دوڑا لیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1681173931995887&id=100003098884948
⁦👩‍❤‍💋‍👩⁩شیخ حماد الانصاری رحمہ اللہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ایک بار مولانا مودودی رحمہ اللہ ریاض (سعودی عرب) کے ایک بطحا نامی ہوٹل ميں تشریف فرما تھے. میں اور میرے کچھ ساتھی عصر کے وقت ان سے ملاقات کرنے گئے. جب ہم پہنچے تو وہ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے. میں ان کی نماز کو دیکھنے لگا. نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے ان سے کہا : آپ کو اپنی نماز درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ رفع الیدین نہیں کرتے اور آپ کی نماز میں اطمینان نہیں ہے .... وغيرہ. 
تو انهوں نے جواب دیا : میں حنفی المسلک ہوں. 
میں نے کہا: یہ تو اور بڑی مصیبت ہے. آپ کے لئے اس طرح کا جواب زیب نہیں دیتا. ہم نے تو آپ کو آپ کی کتابوں کے حوالے سے جانا پہچانا ہے کہ آپ آزاد فکر کے حامل ہیں. مگر آج معلوم ہوا کہ آپ بھی تقلید کی بیڑیوں ميں جکڑے ہوئے ہیں. پھر میں نے مزید کہا کہ اگر آپ امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہیں تو یہ بتائیے امام ابو حنیفہ کس کی تقلید کرتے تھے؟ مولانا سے کوئی جواب نہیں بن پڑا اور وہ خاموش ہو گئے.
(حوالہ :  المجموع في ترجمة العلامة المحدث الشيخ حماد بن محمد الأنصاري (رحمه الله) (2 /604)
⁦ ایسے مقلد جامد کو مفکر اسلام کہنا کیا شرم کی بات نہیں ہے؟!؟!؟!
ہم اس مختصر پوسٹ میں در اصل مذکورہ کتاب کے مصنف یوسف قرضاوی کی اس فکر کو جاننے کی کوشش کریں گے جسے معیار بنا کر ابو الاعلی مودودی کو مفکر اسلام قرار دیا ہے۔ چنانچہ ابو الاعلی مودودی کی طرح اپنی عقل و فکر کا استعمال کر کے دین اسلام کی من مانی تشریح کی اور جس کی خاطر احادیث کے انکار اور بہت سارے دینی مسلمات کی بے جا تاویلات کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے: 
1⃣• بعض صحیح احادیث کا رد وتاویل بے جا:  
 1- صحیح مسلم کی مشہور روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (إنَّ أبي وأباك في النار) ترجمہ: بیشک میرے باپ اور تمہارے باپ دونوں جہنم میں ہیں۔ 
🚫👈قرضاوي کہتے ہیں: (قلتُ: ما ذنب عبد الله بن عبد المطلب حتى يكون في النار وهو من أهل الفترة، والصحيح أنهم ناجون) ترجمہ: میں کہتا ہوں عبد اللہ بن عبد المطلب آخر کس گناہ کی پاداش میں جہنمی ہیں جب کہ وہ اہل فترہ میں سے تھے۔ صحیح بات یہ ہے کہ وہ سارے کے سارے جنتی ہیں۔ 
📌المصدر: كيف نتعامل مع السنة النبوية ص97📚.
2- صحیح بخاری کی مشہور روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (يُؤتى بالموت كهيئة كبش أملح) ترجمہ: قیامت کے دن موت کو ایک خوبصورت مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔  
🚫👈قرضاوي کہتے ہیں: (من المعلوم المتيقَّن الذي اتفق عليه العقل والنقل أنَّ الموت ليس كبشاً، ولا ثوراً، ولا حيواناً من الحيوانات) ترجمہ: یہ یقینی طور پر ایسا معلوم شدہ بات ہے کہ جس پر عقل و نقل سب متفق ہیں کہ موت نہ تو مینڈھا ہے، نہ بیل ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا جانور ہے۔ 
📌المصدر كتاب :كيف نتعامل مع السنة النبوية ص 162📚.
3- صحیح بخاری کی مشہور روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لن يُفلح قوم ولَّوا أمرهم امرأة) ترجمہ: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جو اپنے معاملات عورت کے حوالے کر دے گی۔ 
🚫👈قرضاوي کہتے ہیں: (هذا مُقيَّدٌ بزمان الرسول صلى الله عليه وسلم الذي كان الحكم فيه للرجال استبدادياً، أمَّا الآن فلا) ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان آپ ہی کے زمانے کے ساتھ خاص ہے کہ جب حکومت مردوں نے اپنے ہاتھ میں ظالمانہ طور پر لے رکھی تھی، لیکن اب وہ معاملہ نہیں رہا۔ 
📌المصدر:برنامج في قناة art بتاريخ 4/7/1418هـ.
4- صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت موجود ہے: (ما رأيتُ من ناقصات عقل ودين أذهب لِلُبِّ الرجل الحازم من إحداكنَّ) ترجمہ: میں نے تم لوگوں سے زیادہ کم عقل اور کم دین نہیں دیکھا جو عقلمند مرد کے دماغ کو کھانے والی ہو۔ 
🚫👈قرضاوي کہتے ہیں: (إنَّ ذلك كان من الرسول على وجه المزاح) ترجمہ: (یہ حقیقت نہیں ہے) اللہ کے رسول نے بس مذاق کیا تھا۔ 
📌المصدر: برنامج في قناةart بتاريخ 4/7/1418هـ.
5- صحیح بخاری کی مشہور روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لا يُقتل مسلمٌ بكافر) ترجمہ: کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ 
🚫👈قرضاوي نے پہلے صریح حدیث کے خلاف یہ ثابت کیا کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کیا جائے گا پھر اسکے آنجناب کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے: (إنَّ هذا الرأي هو الذي لا يليق بزماننا غيره.. ونحن بترجيح هذا الرأي نُبطل الأعذار ونُعلي راية الشريعة الغراء) ترجمہ: جو میں نے کہہ دیا ہے اسکے علاوہ ہمارے اس زمانے میں کوئی بات قابل قبول نہیں ہے۔ اور ہم اسی رائے کو ترجیح دے کر سارے اعتراضات کو دور کر سکتے ہیں اور شریعت مطہرہ کے جھنڈے کو بلند کر سکتے ہیں۔ 
📌المصدركتاب الشيخ الغزالي كما عرفته ص168📚.
2⃣• عقل پرستوں کی طرح سنت نبویہ کی شرعی وغیر شرعی حیثیت میں تقسیم کرنا: 
چنانچہ آنجناب اسی اصول کا استعمال کرکے طب نبوی کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: (لم يُبعث عليه الصلاة والسلام ليقوم بطبِّ الأجسام، فذلك له أهله، وإنما بُعث بطب القلوب، والعقول، والأنفس، ومهما يكن اعتزازنا بما سمَّاه العلماء: الطب النبوي، فمن المتفق عليه أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم لم يدَّع العلم بالطب، ولا بُعث لذلك) ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی علاج کیلئے نہیں بھیجا گیا تھا، اس عمل کیلئے خاص لوگ ہوتے ہیں، آپ کو عقلوں، دلوں اور روحوں کے علاج کے لیے بھیجا گیا تھا، ہم طب نبوی جیسی کتابیں لکھ کر کتنا ہی کیوں نہ فخر کر لیں لیکن متفق علیہ بات یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی علم طب کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اسکے لیے بھیجے گئے تھے۔ 
📌المصدركتاب السنة مصدراً للمعرفة والحضارة ص66-67📚.
3⃣• شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی دعوت کی تنقیص: 
🚫👈قال القرضاوي: (وربما يعترض معترض بالحركة الوهابية، فهي حركة سلفية، تستمد من تراث المدرسة التيمية، ولكنها لم تُعرف بالتجديد والاجتهاد.. ولعلَّها هي التي أثَّرت في كثير ممن ينتمون إلى السلفية في عصرنا من المعادين للتجديد، وقد يكون عذر هذه الحركة أنها نشأت في مجتمع بسيط بعيد عن معترك الحضارة تغلب عليه حياة البداوة) ترجمہ: اعتراض کرنے والا وہابی تحریک پر کچھ بھی اعتراض کر سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ ایک سلفی تحریک ہے جو ابن تیمیہ کے مدرسے کا امتداد ہے، لیکن یہ تحریک تجدید واجتہاد میں ناکام رہی ہے،  اور شاید یہی تحریک ہے جسکی طرف دور حاضر کے بہت سارے سلفی حضرات منسوب ہیں جو دین میں تجدید کے دشمن ہیں۔ اس تحریک کو اس بنا پر معذور سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کا نشو ونما تہذیبوں سے دور اکھڑ بدوی علاقوں میں ہوئی ہے۔ 
 📌المصدر:الصحوة الإسلامية وهموم الوطن العربي والإسلامي ص46-47📚.
نوٹ: دیکھا رافضیوں کی طرح کیسے سلفیوں پر بدویت کا الزام لگا رہے ہیں۔ اور حسن ترابی والے تجدید دین کی کس طرح وکالت کرتے نظر آرہے ہیں۔ نعوذ باللہ من ھذا الخذلان! 
4⃣• مسلم نوجوانوں کو سودکاری بینکوں میں کام کرنے پر ابھارتے ہوئے: 
🔴👈 قرضاوی فتویٰ دیتے ہوئے کہتے ہیں: (أُفتي الشباب الملتزم ألاَّ يدع عمله في البنوك وشركات التأمين ونحوها) ترجمہ: میں نوجوانوں کو فتوی دے رہا ہوں کہ وہ بینکوں، ایل آئی سی کمپنیوں وغیرہ میں کام کرنے سے ذرا بھی نہ ہچکچائیں۔ 
📌المصدر:كتاب أولويات الحركة الإسلامية في المرحلة القادمة ص32📚.
5⃣• مرد وخواتین کے اختلاط کی دعوت: 
🔴👈قرضاوي کہتے ہیں: (في الثمانيات حضرتُ عدداً من المؤتمرات في أمريكا وأوروبا فوجدت فصلاً تاماً بين الجنسين... وقد أنكرتُ هذا... وقلتُ: إنَّ الأصل في العبادة ودروس العلم هو الاشتراك) ترجمہ: اسی کی دہائی میں امریکہ اور یورپ کے اندر میں کئی کانفرنسوں میں حاضر ہوا جہاں مرد وخواتین کے درمیان میں نے ایک فاصلہ دیکھا جو مجھے کچھ نہیں لگا۔۔۔۔۔ چنانچہ میں نے کہا: عبادات اور حصول علم میں اصل اختلاط ہے۔ 
📌المصدر: كتاب أولويات الحركة الإسلامية ص65📚.
نعوذ باللہ من ھذا الخذلان! واللہ ھذا بھتان عظیم۔
👈آگے مزید گل کھلاتے ہوئے فرماتے ہیں: (مع أنَّ مثل هذه المؤتمرات تُعتبر فرصة لرؤية شاب فتاة فيُعجب بها، ويسأل عنها ويفتح الله قلبيهما) ترجمہ: بلکہ اس طرح کی کانفرنسیں فرصت کے حسین لمحات ہیں جہاں نوجوان لڑکے نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر پسند کر سکتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ دونوں کے دلوں کو کھول سکتا ہے۔ 
📌المصدر:برنامج برنامج الشريعة والحياة 26/5/1418هـ📚.
نوٹ: یہ ہے قرضاوی کا اصلی چہرہ! 
 ممکن ہے قرضاوی کی چاروں بیٹیوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی کھولا ہو۔ 
6⃣• گانا اور سینما کی حلت، عورت کو سیریل اور ڈراموں میں شرکت کی اجازت: 
🔴👈قرضاوي نے یہاں تک کہہ ڈالا: (وأستمعُ بحبٍّ وأتأثر بشدَّة بصوت فائزة أحمد وهي تُغنِّي الأغنيات الخاصة بالأسرة: ستِّ الحبايب، ويا حبيبي يا خُويا ويا بوعيالي، وبيت العزِّ يابتنا على بابك عنبتنا، وهذه أغنيات لطيفة جداً..) ترجمہ: فائزہ احمد کی آواز میں گانا میں بڑی محبت اور تاثیر سے سنتا ہوں۔ یہ ایسے گانے گاتے ہے جو فیملی کے ساتھ سننے کے لائق ہوتی ہے۔ ان میں سے چند خوبصورت گانے یہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
📌المصدر: مجلة الراية عدد 5969 تاريخ 19/5/1419هـ📚 
قرضاوی کو گانے اور گانے والیاں بھی سب یاد ہیں! 
🔴👈 قرضاوی نے مزید کہا: (اشتراك المرأة في التمثيل أمرٌ ضروري لا بُدَّ منه) ترجمہ: ڈرامے میں عورت کا ہونا ضروری ہے اسکے بغیر ڈرامہ بیکار ہے۔ 
📌المصدر: مجلة المجتمع عدد 1319 ص44📚،
🔴👈 آگے مزید کہا: (وأنا قد أنكرتُ على كثير من الفنانين أنهم اعتزلوا) ترجمہ: مجھے اچھا نہیں لگا جب دیکھا کہ بہت سارے فنکاروں نے اپنے اس فن سے توبہ کر لیا ہے۔ 
📌المصدر :أسئلة المشاهدين بتاريخ 15/12/1418هـ📚.
7⃣• اجنبی عورت سے مصافحہ: 
🔴👈قرضاوي نے کہا: (.. قد نكون جالسين عند مدير الجامعة وتأتي بعض الدكتورات وتُسلِّم على الموجودين، فأُسلِّم عليها وانتهينا) ترجمہ: کبھی کبھی ہم مدیر الجامعہ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں اور اسی دوران کچھ معلمات آتی ہیں اور ہم سے سلام اور ہم ان کا جواب دیتے ہیں اور بات ختم۔ 
📌المصدرأسئلة المشاهدين في قناة الجزيرة في 15/12/1418هـ📚.
مصافحہ کے جواز پر دیکھیں میرے اس دلچسپ پوسٹ کو: 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1643625232417424&id=100003098884948
8⃣• انکار رجم: 
 یوسف قرضاوی رجم کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں(إن الرجم -حد الزنا- ليست شريعة إسلامية بل هي شريعة يهودية أخذها النبي صلى الله عليه وسلم في أول الأمر ثم تركها بعد نزول آيات سورة النور.... الرجم لا يعمل به. فالرجم شريعة يهودية محمد لا يقوم  بمثل هذه الشريعة القاسية).
یعنی -نعوذ باللہ- حد رجم اسلامی شریعت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ یہودی شریعت کا حصہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع ایام میں لاگو کیا تھا پھر سورہ نور کی آیت نازل ہونے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ یہ ہے آیت اللہ قرضاوی کی تحقیق جو آگے صراحتاً انکار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ رجم پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ رجم یہودی شریعت کا حصہ ہے محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- ایسی سخت جان شریعت پر عمل کر ہی نہیں سکتے۔ 
محترم نے شروع میں یہ بھی کہا ہے کہ بیس سال سے اس حقیقت کو چھپائے ہوئے تھا جسے آج لوگوں کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔ (اتنے سالوں تک اتنا بڑا بلنڈر چھپانے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟)
شیخ صالح الفوزان سے جب ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جو کسی دین کے مسلمہ حقیقت جیسے رجم کا انکار کرے اس کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر انکار کرنے والا جاہل ہے یا کسی شبہ کی بنیاد پر انکار کر رہا ہے تو اسے توبہ کرایا جائے گا۔ اور اگر جان بوجھ کر انکار کر رہا ہے تو وہ مرتد ہو جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ 
یوسف قرضاوی اور صالح فوزان کی پوری گفتگو اس ویڈیو کلپ میں دیکھ سکتے ہیں:
https://www.facebook.com/groups/125389651401729/permalink/213485742592119/
مزید اس حوالہ کو بھی دیکھیں: 
📚المصدر(حاشية القرضاوي على فتاوى مصطفى الزرقا ص394).
9⃣• مرتد کا قتل: 
یوسف قرضاوی صاحب (لا اکراہ فی الدین) کو بنیاد بنا کر مرتد کے قتل کے قائل نہیں ہیں جب تک کہ وہ ارتداد کے بعد باغی اور سماج کیلئے بڑا خطرہ نہ ہوجائے۔ حالانکہ صحیح بخاری کی روایت (من بدل دینہ فاقتلوہ) کے اندر ایسی کوئی قید نہیں ہے۔ 
📌المصدر :كتاب(الخصائص العامة للإسلام)📚
👈نوٹ: 
یہ ہے وقت کے ان اماموں اور مفکروں کی دین اسلام کے بارے سوچ وفکر جو ایک دوسرے کی فضیلت میں کتاب لکھ کر اپنے اندھ بھکتوں سے واہ واہی لیتے اور پورے عالم میں اسکا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ 
دعا ھے کہ رب العالمین ہم سب کو اپنے دین کے بارے میں صحیح سوچ وفکر عنایت کرے اور کتاب وسنت پر عمل پیرا ہونے اور دین کا حقیقی داعی بنائے آمین۔
(د۔ اجمل منظور)

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...