السبت، 20 أكتوبر 2018

بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی ذمیداری ترک کمپنی نے لی ہے: ⁦یہ پروپیگنڈہ نہیں حقیقت ہے

🎪بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی ذمیداری ترک کمپنی نے لی ہے: 
⁦👩‍❤‍💋‍👩⁩یہ پروپیگنڈہ نہیں حقیقت ہے
💥اس وقت ترکی کی جانب سے اس خبر کو افواہ بتایا جا رہا ہے دیکھیں اس خبر کو جسے میرے پاس ایک اردگانی وکیل دفاع نے بھیجا ہے: 
https://www.aa.com.tr/en/economy/turkish-firm-denies-building-us-embassy-in-jerusalem/1210586
حالانکہ ترکی کی طرف سے یہ انکار صرف میڈیا میں پھیلی باتوں کو دبانا ہے۔ 
لیماک کمپنی امریکی کمپنی کے توسط سے امریکی کمپنی  (Desbuild) کی شراکت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانہ بنانے کا ٹھیکہ لیتی ہے۔ اور اس بار بھی اس نے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے بنانے کا ٹھیکہ لیا ہے۔ جب میڈیا میں ترکی کی اس بار رسوائی ہونے لگی تو اس نے انکار کردیا جبکہ امریکی کمپنی نے اسکا انکار نہیں بلکہ اس کا اقرار کیا ہے۔ دیکھیں اس خبر کو:
https://edition.cnn.com/2018/07/17/politics/us-embassy-jerusalem-cost/index.html
مزید امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے کنٹریکٹ پر دیئے جانی والی ان تین کمپنیوں کا نام دیکھیں جن میں ایک امریکی کمپنی (Desbuild) ، برطانوی کمپنی  (D&K) اور ترک کمپنی (LIMAK) تینوں کا نام موجود ہے اور اس کنٹریکٹ پر وزارت خارجہ کی جانب سے وہ اماونٹ بھی موجود ہے جو اس بلڈنگ کی تعمیر کیلئے پاس کیا گیا ہے: 
https://www.usaspending.gov/#/award/67072609
💥بالکل اسی طرح 2003 کے موقع پر جب ناٹو فوج اور امریکی فوج ترکی سے اڑان بھر بھر کر عراق پر حملے کر رہے تھے تو اس وقت بھی اعتراض کرنے پر ترکی نے صاف صاف انکار کر دیا تھا لیکن امریکی فوج کی طرف سے بیان آیا تھا کہ ہم ترک اڈہ استعمال کر رہے ہیں۔ منافقوں کو اللہ ہمیشہ ذلیل کرتا ہے۔ حالانکہ ناٹو میں خود ترک فوج شامل ہے اور افغانستان وعراق میں ترک فوج بھی مسلمانوں کے قتل میں برابر کا شریک رہی ہے۔ 
یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ترک پریس میڈیا خبر کے مطابق اسرائیلی راجدھانی تل ابیب میں تعمیراتی کام میں سب سے آگے ترک کمپنی ہی ہے۔ دیکھیں اس رپورٹ کو:
http://www.turkpress.co/node/21151
اور اسرائیلی بندرگاہ حیفا کو بڑا بنانے میں ترک کمپنی اراس میرین (Aras Marine) ہی نے ٹھیکہ لیا تھا۔ اسرائیل میں ترک سفیر اوکیم نے جاکر وہاں مبارکبادی پیش کی تھی دیکھیں ترکی کی سفارت خانے کی ٹیوٹر اکاؤنٹ کو:
https://twitter.com/TelAvivBE/status/897132448433283072?s=19
👈نوٹ:
صہیونی غاصب ریاست اسرائیل کے ساتھ ترکی کے جس طرح ہر پیمانے پر گہرے روابط اور تعلقات ہیں انہیں کوئی جاہل اور اندھ بھکت ہی انکار کر سکتا ھے۔ اس کیلئے اس پوسٹ پر ایک نظر ڈال لیا جائے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1656130257833588&id=100003098884948
 لیکن تعجب ہوتا ہے کہ اتنے گہرے دوستانہ تعلقات ہونے کے باوجود چھوٹی چھوٹی باتوں کا انکار کرتے نظر آتے ہیں کہ وہی اگر بڑے پیمانے پر گہرے روابط کو دیکھ لیں تو کبھی بھی ایسی باتوں کا انکار نہ کریں ۔ سچ ہے اندھ بھکتی انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...