🎪پاک وہند کے دو ایرانی ایجنٹ:🎪
🕵️♀️علی مرزا اور سلمان ندوی
☀️رافضیوں نے اہل سنت کے اندر تو ویسے بے شمار اپنے ایجنٹ چھوڑ رکھے ہیں۔ لیکن اس وقت پڑوس میں علی مرزا ہے جو خود کو اہل سنت باور کراتا ہے لیکن وہ ہے حقیقت میں پکا رافضی شیعہ۔۔۔ جو اہل سنت کے بھیس میں رفض وتشیع پھیلا رہا ہے۔۔۔۔
اس کی تمام تقریروں کا محور صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک (اہل بیت) کی فضیلت اور دوسرے کی مذمت مختلف پیرائے میں بیان کرنا رہتا ہے۔۔۔ یو ٹیوب پر اس کی تقریریں بھری پڑی ہیں۔۔۔
اس لئے کوئی بھی اسے دھوکے سے اہل سنت نہ سمجھے یہ پکا رافضی شیعہ ہے۔۔۔۔
☀️اور دوسرا ایجنٹ خود ہندوستان کے اندر سلمان ندوی کی شکل میں نمودار ہوا ہے۔۔۔ اس کے خلاف تو خود ندوہ کے اندر احتجاج شروع ہو چکا ہے۔۔ دیکھیں اس پوسٹ کو:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1870198736433912&id=100003314109475
☀️علی مرزا تو ٹھہرا پکا رافضی شیعہ اس لئے اس پر کچھ تفصیلی بات کہنا فضول ہے۔۔ لیکن ضروری ہے اس ندوی کے خلاف لکھنے کی جو کبھی بابری مسجد کا سودا کرتا ہے۔۔ کبھی حج کی قبولیت کیلئے مسلم حکمرانوں پر لعن طعن کرنے کو شرط بتاتا ہے۔۔۔ کبھی حدیثوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ کبھی حدیثوں سے غلط استدلال کرکے عربوں کو گالی دینے کی ترغیب دیتا ہے۔۔ کبھی داعش جیسی دہشت گردوں کے سرغنے کو امیر المومنین کہتا ہے اور جب حکومت کا شکنجہ کستے دیکھتا ہے تو یوگی مودی کا مالا جپنے
لگتا ہے۔ کبھی رافضیوں کی محبت میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی صلح پر اعتراض کرتا ہے۔ کبھی صحابہ خصوصا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر نفاق کا نعوذ باللہ حکم لگاتا ہے۔۔۔۔
لگتا ہے اب چاروں طرف سے مایوس ہو کر رافضی ایران کی جھولی میں پھر جانا چاہتا ہے۔۔۔
👈پڑوس کے ایک صاحب کا ندوی پر تبصرہ دیکھیں:
{{ہندستانی "عالم دین " مولوی سلمان ندوی اپنی فضول گوئی اور نفرت انگیزی کے سبب مشھور ہیں اور بدقسمتی سے عالم دین کے طور پر مشھور - حالانکہ علم کا پہلا تقاضا عمدہ اخلاق ہے جس سے موصوف تہی دامن ہیں - دوسرا تقاضا تلقین محبت ہے ، لیکن موصوف ہمہ وقت نفرت کے پرچارک ہیں - سلفیت آپ کا خاص موضوع ہے - نفرت اتنی من میں رکھتے ہیں کہ شیطان بھی شرما جائے کہ
"ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی ."
موصوف کی تازہ بہ تازہ "واردات " سامنے آئی ہے - سیدنا عثمان کی شہادت اور تب کی بغاوت کو سیدھا سیدھا انقلاب قرار دیا ، اس کہا کہ:
" اس انقلاب کو بنیاد بنا کر معاویہ نے کہا کہ ہم بیعت نہیں کرتے " -
یزید کے بہانے بہانے سیدنا امیر معاویہ کے بارے میں بدزبانی پر اتر آئے آپ ان کے الفاظ سنیے ، سیاق اس کا یہ ہے کہ موصوف سیدنا حسین اور شہدائے کربلا کی یاد تازہ کنے کی تلقین کر رہے ہیں اور آخر میں "گوہر افشانی " فرماتے ہیں کہ :
"جو بعد کا دور ہے شام میں معاویہ کا پھر یزید کا وہ تو اتنا مجرمانہ تھا ، اتنا نا مسعود اور نا بارک ہے اس کو صرف اس لیے پیش کرنا چاہیے کہ اس پر تو صرف لعنت برسائی جائے - اس کو پیش کیا جائے یا تو کفر کے نمونے کے طور پر یا کہ نفاق کے نمونے کے طور پر -"
کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان کا مقصود صرف یزید کی ذات تھی - انہوں نے صاف اور واضح طور پر سیدنا امیر رضی اللہ عنہ کو یزید کے ساتھ شمار کیا اہے - اور صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ " شام میں معاویہ کا " ان الفاظ کے بعد کوئی ان مولوی صاحب کا وکیل صفائی بن کے کہے کہ صرف یزید مراد تھا تو ہم کہیں گے کہ اس کے دماغ میں بھی صحابی رسول کا بغض موجود ہے -
سلمان ندوی نے اس بدزبانی میں سیدنا امیر معاویه رضی اللہ عنہ پر سیدھا سیدھا نفاق اور کفر کا فتوی جڑا ہے - ذاتی طور پر میرا مزاج ہے کہ اگر کوئی یزید کا دفاع کرے یا مخالفت ، میں کوئی توجہ نہیں دیتا - لیکن یہ ممکن نہیں کہ کوئی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں بدزبانی کرے اور یہ بھی کہے مجھے اہل سنت میں شمار کیا جائے ...... سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ..ہم تو آپ کو انسانیت میں بھی شمار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے -
اور آخر میں ایک دوست کی توجہ ..،میں نے کچھ روز پہلے جب خلافت و ملوکیت کے اثرات کے حوالے سے لکھا تھا تو ایک عزیز دوست الجھ اٹھے تھے اور مطالبہ کیا تھا کہ کسی کا کوئی ثبوت پیش کریں جس نے سیدنا امیر بارے بدزبانی کی ہو .... مرے پاس کمنٹس کی تصویر تھیں ، لیکن محض تساہل کے سبب پیش نہ کر سکا اور بات آئی گئی ہو گئی .... لیکن یہاں عام کیا خاص افراد بھی اس زہر کا شکار ہیں - کسی کس کا ماتم کیجئے گا .....
مولوی موصوف کی تقریر کا لنک کمنٹ میں پیسٹ کر رہا ہوں- خاصی لمبی ہے ، آپ صرف آخری ساتھ آٹھ منٹ سن سکتے ہیں۔}}
✏اجمل منظور
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق