🎪معالم فی الطریق: جادہ و منزل🎪
👩❤💋👩منظر وپس منظر👩❤💋👩
(قسط دوم)
✍بقلم ڈاکٹر اجمل منظور
💥قارئین کرام! پہلی قسط میں صرف کتاب کا سرسری تعارف کرا کے اسکے ایک اردو ترجمے کے مقدمے میں موجود اندھ بھکتی پر مشتمل اس واقعے کا پوسٹ مارٹم کیا تھا جس میں سید قطب کی پھانسی کی وجہ «معالم فی الطریق» کتاب کا لکھنا بتا کر انہیں (شھید الکتاب) قرار دیا گیا ہے۔ مضمون ہذا کو اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1712411225538824&id=100003098884948
البتہ اس مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ کتاب کب اور کس حالت میں لکھی گئی ہے اور اس وقت سید قطب کن کن فکری اضطرابات اور بے چینیوں میں مبتلا تھے بلکہ فکری لاچاری اور ذہنی پستی کے اعلی ترین سطح پر پہونچے ہوئے تھے۔ یہ ساری باتیں ہوائی نہیں بلکہ اُسی قوم کی کتابوں اور حوالوں سے ساری باتیں ثابت کی جائیں گی۔ لیکن ان حقائق کے باوجود اس کتاب کے بارے میں ایک قطبی کا کہنا ہے:
((ایک ایسی کتاب کی تصنیف پر جس میں نہایت جچے تلے انداز میں اصولی بحثیں کی گئی ہیں اور کسی شخصیت کو زیرِ بحث نہیں لایا گیا، مصنف کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔)) دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
https://www.urduweb.org/mehfil/threads/جادہ-و-منزل-از-سید-قطب-شہید.57839/
💥پس منظر:
اس کتاب کے مصنف ایک غامض، پیچیدہ اور پر اسرار زندگی کے حامل تھے۔ کیسے کیسے ادبی(فحش غزلیات)، سیاسی، الحادی، حزبی اور خارجی انقلابی دور سے گزر کر اپنے عقیدت مندوں سے رخصت ہوگئے۔ در اصل سید قطب نے انگریزی استعمار بھی دیکھا، شاہی زمانہ بھی پایا اور جمہوریت کے عہد سے بھی سابقہ پڑا لیکن خارجی انقلاب کے سوا کوئی نظام راس نہ آیا۔ اور یہ کتاب اسی آخری مرحلے (خارجیت) کی نمائندگی کر رہی ہے۔
مذکورہ انہیں پر پیچ مراحل کا تذکرہ سید قطب کے ہندوستانی دوست سید ابو الحسن علی ندوی نے بڑے اختصار سے اُس واقعے کے ضمن میں کیا ھے جب آپکی ملاقات سید قطب سے 1951 میں قاہرہ کے اندر ہوئی تھی۔ کہتے ہیں:
(وذكر الأستاذ مراحل حياته، وكيف وصل إلى العقيدة الإسلامية أو الإيمان بالإسلام من جديد، وذكر كيف نشأ على تقاليد الإسلام في الريف وفي بيته، ثم انتقل إلى القاهرة فانقطعت كل صلة بينه وبين نشأته الأولى، وتبخرت ثقافته الدينية الضئيلة، وعقيدته الإسلامية، ومرَّ بمرحلة الارتياب في الحقائق الدينية إلى أقصى الحدود، ثم أقبل على مطالعة القرآن لدوافع أدبية، ثم أثر فيه القرآن وتدرج به إلى الإيمان، وكيف أثّرت فيه كتب السيرة)۔
ترجمہ: استاذ سید قطب نے اپنی زندگی کے تمام مراحل کا ذکر کیا، اور یہ کہ (اپنے جہالت اور الحاد کے دور سے نکلنے کے بعد) نئے سرے سے کیسے اسلامی عقیدے تک پہونچ پائے۔ اور یہ بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ ابتداء میں اپنے دیہاتی گاؤں اور گھر میں کیسے اسلامی رسم ورواج پر قائم تھے۔ پھر شہر قاہرہ آنے کے بعد کیسے وہ ساری چیزیں ختم ہو گئیں۔ اور سید قطب کے اندر سے دینی تہذیب اور اسلامی عقیدہ مضمحل ہو گیا۔ اور اس مرحلے میں دینی حقائق کے تعلق سے اس قدر شک وشبہات میں مبتلا ہوئے جسکی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پھر قرآن کا مطالعہ کرنا شروع کیا لیکن ادب سیکھنے اور شعر وشاعری کو مضبوط کرنے کے لئے۔ پھر قرآن اور سیرت پڑھنے سے اثر ہوا اور ایمان کی طرف دھیرے پلٹنا شروع کیا۔
«مذكرات سائح في الشرق العربي» (ص189).
لیکن یہ ایمان جس کی طرف آخر میں پلٹے تھے سید صاحب اسکی وضاحت سید علی میاں ندوی صاحب نے نہیں کی ہے۔ لہذا یہی وہ مرحلہ ہے جس میں سید قطب کے اندر ایمانیات کے ذریعے خارجیت نے جگہ بنائی ہے اور اسی مرحلے میں «فی ظلال القرآن» اور «معالم فی الطریق» جیسی خارجیت زدہ کتابوں کی تالیف کی ھے۔
اور اسی آخری مرحلے یعنی خارجیت کے دور (1953) میں سید قطب "اخوان المسلمین" نامی بَنَّائی جماعت سے جڑے ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے شک والحاد کے دور میں سیاست میں سرگرم تھے۔ چنانچہ کچھ سالوں تک سعد زغلول کی پارٹی حزب الوفد المصری سے وابستہ رہے اور 1942 میں اسے چھوڑ دیا پھر حزب السعدیین سے جڑ گئے اور اس میں 1945 تک باقی رہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں یہ کتاب:
«سيد قطب من الميلاد إلى الاستشهاد» للدكتور صلاح الخالدي (ص265-266 ،323).
یہ آخری دور جس میں سید قطب اخوانیوں سے جا ملے تھے اس وقت ان کے تعلقات جمال عبدالناصر سے بہت خراب چل رہے تھے۔ خاص طور سے 1952 کے انقلاب کے بعد جسکی سازش اخوانیوں نے رچی تھی اور جس کے بعد جمال عبدالناصر نے اخوانیوں کو پکڑ کر جیل میں ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت سید قطب بھی پکڑے گئے اور 1954 سے 1964 تک جیل میں رہے۔
جیل سے نکلنے کے بعد اخوانیوں کی جماعت کو اپنے قبضے میں کرکے دوبارہ اپنی فکر پر چلانا شروع کردیا اور نتیجتاً ایک سال بعد پھر انہیں 1965 میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ اور اگلے سال 1966 میں بغاوت اور تختہ پلٹ کی سازش میں پھانسی دے دی گئی۔
اور اسی آخری مرحلے میں سید قطب نے «معالم فی الطریق» نامی اس کتاب کی تالیف کی ہے۔ سید قطب کا یہ خارجی دور انکی زندگی کا آخری دور ہے اور اسی پر راضی برضا اس دار فانی سے رخصت بھی ہوئے ہیں۔
تحریکیوں کے روحانی پیشوا يوسف القرضاوي کہتے ہیں :
(حدثني الأخ د. محمد المهدي البدري أن أحد الإخوة المقربين من سيد قطب -وكان معه معتقلا في محنة 1965م- أخبره أن الأستاذ سيد قطب عليه رحمة الله، قال له: إن الذي يمثل فكري هو كتبي الأخيرة: «المعالم»، والأجزاء الأخيرة من «الظلال»، والطبعة الثانية من الأجزاء الأولى، و«خصائص التصور الإسلامي ومقوماته»، و«الإسلام ومشكلات الحضارة»، ونحوها مما صدر له وهو في السجن، أما كتبه القديمة فهو لا يتبناها، فهي تمثل تاريخًا لا أكثر.
فقال له هذا الأخ من تلاميذه: إذن أنت كالشافعي لك مذهبان: قديم وجديد، والذي تتمسك به هو الجديد لا القديم من مذهبك. قال سيد رحمه الله: نعم، غيرت كما غير الشافعي رضي الله عنه. ولكن الشافعي غير في الفروع، وأنا غيرت في الأصول!).
يقول القرضاوي: (فالرجل يعرف مدى التغيير الذي حدث في فكره، فهو تغيير أصولي أو استراتيجي كما يقولون اليوم)۔
ترجمہ: محترم د۔ محمد المہدی البدری نے بتایا کہ ساٹھ کی دہائی میں جب کہ سید قطب جیل میں تھے ان کے ایک قریبی اخوانی بھائی نے ان سے بتایا کہ سید قطب نے ان سے کہا: میری فکر کی ترجمانی درج ذیل میری یہ کتابیں کر رہی ہیں:
«معالم فی الطریق»، «فی ظلال القرآن» کے آخری چند اجزاء، «خصائص التصور الإسلامي ومقوماته»، «الإسلام ومشكلات الحضارة» اور اسی طرح اور کچھ وہ کتابیں جو جیل میں رہ کر اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں لکھی ہے۔ جہاں تک ان کتابوں کی بات ہے جنہیں پہلے مراحل میں لکھی ہے ان کی حیثیت ایک تاریخی دستاویز سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی ان افکار پر آپ قائم رہ سکے۔
اس پر آپ کے شاگرد نے کہا کہ تب تو آپ امام شافعی کی طرح ہو گئے جن کا دو مذہب قدیم اور جدید بتایا جاتا ہے لیکن آپ تو صرف جدید پر ہی قائم ہیں۔ کہا: ہاں میں نے بھی اپنی فکر امام شافعی کی طرح بدل لی ہے البتہ ہم دونوں میں فرق ہے: امام شافعی نے اپنی رائے صرف فروعی مسائل میں بدلی تھی اور میں نے اصولوں میں بدلی ھے۔
قرضاوی کہتے ھیں: آدمی اپنے منہج کی تبدیلی سے جانا جاتا ہے چنانچہ سید قطب نے اصولی اور منہجی اعتبار سے اپنی فکر کو بدلا تھا جیسا کہ لوگ آج کل کہہ رہے ہیں۔
http://www.tasfiatarbia.org/vb/showthread.php?t=17745
در اصل یوسف قرضاوی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سید قطب نے آخری عمر میں اپنی فکر بدل لی تھی اور یہ سوچنے لگے تھے کہ اس وقت کوئی معاشرہ مسلم نہیں ہے اور کوئی شخص مسلمان نہیں ہے۔ «والقرضاوي يقصد أن سيدًا بدأ يفكر في أن المجتمع غير مسلم، والناس غير مسلمين».
یوسف قرضاوی کا یہ اندازہ آپ اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں:
«ندوة اتجاهات الفكر الإسلامي المعاصر» (ص58).
سید قطب کے ایک شاگرد احمد عبد المجید اخوانی کہتے ہیں: سید قطب کے افکار میں تبدیلی آگئی تھی چنانچہ جب آپ (لیمان طرہ) ہاسپٹل میں تھے تو آپ نے حسن البنا اور ابو الاعلی مودودی کی کتابوں کو مطالعہ کیلئے طلب کیا تھا پھر ابن تیمیہ اور ابن قیم کی کتابیں طلب کی۔ پھر آپ نے اپنی فکر اور تحریر میں ہر جگہ تبدیلی پیدا کر لی۔ اور یہ ساری تبدیلیاں «معالم فی الطریق» سمیت مذکورہ کتابوں میں جا بجا پائی جاتی ہیں۔
تفصیل دیکھیں اس کتاب اور ویب سائٹ پر:
«سيد قطب بعد 43 عامًا من استشهاده» (ص80).
https://www.google.co.in/amp/www.akhbarak.net/news/2012/10/28/1503527/articles/9978580/رحيل-مؤسس-تنظيم-سيد-قطب-الرجل-الصامت-أحمد-عبدالمجيد.amp
💥زینب غزالی معروف مصری کاتبہ ہیں جنہوں نے سید قطب کے دور اسیری میں ان کی بہن کے واسطے ان سے انکی کتابوں کے مطالعے کا مشورہ مانگا تھا تو اس پر سید قطب کی بہن نے ایک کتاب دیکر زینب غزالی سے کہا: سید قطب اس کتاب کی طباعت کیلئے تیاری کر رہے ہیں اسکا نام «معالم في الطريق» ہے۔ اسے سید قطب نے جیل میں لکھی ہے۔ اور کہا ھے کہ اسے پڑھ کر فارغ ہو جاؤ پھر دوسری کتاب دیتا ہوں۔
اور اس وقت کے مرشد حسن ھضیبی نے کتاب کی طباعت کی ذمیداری لے لی تھی اور پڑھ کر کہا تھا:
«إن هذا الكتاب حصر أملي كله في سيد، ربنا يحفظه، لقد قرأته وأعدت قراءته، إن سيد قطب هو الأمل المرتجى للدعوة الآن إن شاء الله.»
یعنی اس کتاب نے سید قطب کے ذریعے میری (خارجیت والی) امید جگا دی ہے، اللہ انکی حفاظت فرمائے، میں نے اس کتاب کو بار بار پڑھا ہے, یقینا اب سید قطب ہی ہماری دعوت کی پوری امید ہیں۔
زینب غزالی کہتی ہیں: میں نے بھی اس کتاب کو پڑھ کر ختم کر دیا۔ دیکھیں اس کتاب کو:
«أيام من حياتي» لزينب الغزالي (ص394-395).
زینب غزالی کی باتوں سے لگتا ہے کہ یہ کتاب جیل میں لکھی گئی ہے اور طبع ہونے سے پہلے خاص خاص اخوانیوں کے پاس پہونچ چکی تھی۔ اور اس وقت کے مرشد جماعت نے بھی طباعت سے پہلے اس کتاب کو بار بار پڑھا تھا اور اسکی تعریف بھی کی تھی۔
مزید تفصیل دیکھیں درج ذیل کتابوں میں:
1- «ذكريات لا مذكرات» للمرشد الثالث عمر التلمسانی (ص280-281)۔
2- «الإخوان المسلمون الحركة الأم دراسة نقدية» لعبد الله أبو عزة (ص190)
3- مناقشة محمد سليم العوا لبحث «قضية المنهج عند سيد قطب» ضمن كتاب «ندوة اتجاهات الفكر الإسلامي المعاصر» (ص551)۔
4- الشريط الحادي والعشرين من سلسلة «قضايا الإيمان والكفر» لمحمد إسماعيل المقدم، وهو متوفر مفرغًا في الشبكة.
یہ کتاب پہلی بار سید قطب کی زندگی ہی میں 1964 میں مکتبہ وھبہ سے چھپ چکی تھی۔ یعنی سید قطب کی پھانسی سے دو سال پہلے ہی، اور انکی زندگی میں کتاب کی یہی پہلی اور آخری طباعت تھی جسے اخوانی مرشد حسن ھضیبی نے جماعت کے خرچے پر چھاپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی طباعت کے چھ ہی مہینے کے بعد دوبارہ چھاپی گئی تھی لیکن اسے حکومت نے ضبط کر لیا۔ دیکھیں:
«النبي وفرعون» لجيلز كيبيل (ص27).
👈نوٹ:
اس کتاب کی حیثیت، حقیقت اور مصنف کی حالت کو سمجھنے کے بعد کے بعد اگر کوئی اس کتاب کی فضیلت بتائے، مدارس کے نونہالوں میں اسکا رواج دے اور اسے اہم بنیادی کتابوں میں شمار کرکے اسکا پرچار کرے تو آخر اسے کیا کہا جائے؟ ایسی کتاب جس سے عقل پرستی، خارجیت، بغاوت اور سماجی پیمانے پر مسلمانوں کو بانٹنے کے سوا قاری کچھ نہیں سیکھے گا۔
مذکورہ حقائق کا جواب اس کتاب کے بعض مشمولات کی وضاحت کے ساتھ ان شاء اللہ آئیندہ قسط لیکر حاضر خدمت ہوں گا۔ تب تک کیلئے جملہ معترضہ کے طور پر مزعوم خلیفہ کے حالات پر نظر بنائے رکھیں۔ بہت بہت شکریہ
(جاری)
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق