🎪معالم فی الطریق/ جادہ و منزل🎪
👩❤💋👩غرض وغایت👩❤💋👩
قسط سوم
✍بقلم ڈاکٹر اجمل منظور
💥پہلی قسط میں کتاب کا مختصر تعارف، دوسری قسط میں کتاب کا منظر اور پس منظر پیش کیا تھا۔
دونوں قسطوں کو سن لنکز پر دیکھ سکتے ہیں:
قسط اول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1712411225538824&id=100003098884948
دوسری قسط
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1731831710263442&id=100003098884948
جبکہ اس قسط میں بڑے اختصار سے اس کتاب کے لکھنے کی وجہ اور اس کا غرض وغایت بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ پہلے ہی یہ بات قارئین کے ذہن میں آجانی چاہیے کہ آداب واخلاق اور روز مرہ کے پیش آمدہ مسائل کے حل کیلئے تحریکی جس طرح تفہیم القرآن کو نسخۂ کیمیا سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح اپنے مخصوص نصب العین حکومت الہیہ کے قیام کی خاطر «معالم فی الطریق» کو سنگ میل مانتے ہیں۔
سید قطب نے خود کتاب کے مقدمے میں پوری طرح سے اس کتاب کے لکھنے کا مقصد اصلی اور اسکا غرض وغایت بیان کردیا ہے۔ چنانچہ اسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
(آج انسانیت جہنم کے کنارے کھڑی ہے، ضرورت ہے نئے سرے سے اسکی قیادت کی جائے اور اسکے لئے امت مسلمہ کو نئے سرے سے وجود میں لانا ہوگا۔)
💥در اصل سید قطب موجودہ مسلم معاشرے کو مکمل جاہلی معاشرہ مانتے ہیں؛ اسلئے اسے اسلامی معاشرے میں بدلنے کیلئے مکمل طور سے «عملیۃ بعث واحیاء» یعنی تجدید و احیاء کی ضرورت ہے۔ اور اسکے لئے اللہ کے جانباز بندوں پر مشتمل ایک «ہراول دستے» کے ضرورت ہے۔ اس ہراول دستے کو چند اہم فکری بنیادوں کی ضرورت ہے جنہیں سید قطب «معالم فی الطریق» یعنی اسکے لئے ان فکری بنیادوں کو سنگ میل میل سمجھتے ہیں۔
پس مذکورہ کتاب کو سید قطب نے «اس ہراول دستے» کے لئے «اسی اہم ضرورت» کو پورا کرنے کی خاطر لکھی تھی۔
مذکورہ ہراول دستے کی فکری ضرورتوں کی جو وضاحت سید قطب نے کی ہے اسکی ترجمانی کرتے ہوئے «جادہ و منزل» ص76 میں ایک عنوان باندھ کر خلیل احمد حامدی کہتے ہیں:
((احیائے دین کا کام کیسے ہو؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احیائے اسلام کی مہم کا آغاز کس طرح ہو؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ پہلے ایک ہراول دستہ وجود میں آئے جو اس کارِ عظیم کا عزمِ صمیم لے کر اٹھے۔ اور پھر مسلسل منزل کی طرف پیش قدمی کرتا چلا جائے۔ اور جاہلیت کے اس بیکراں سمندر کو چیرتا ہوا آگے کی جانب رواں دواں رہے۔ جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ چکی ہے۔ وہ اپنے سفر کے دوران میں اِس ہمہ گیر جاہلیت سے یک گونہ الگ تھلگ بھی رہے اور یک گونہ وابستہ بھی۔ یہ ہراول دستہ جس منزل تک پہنچنا چاہتا ہے ضروری ہے کہ اسے اپنے راستے کے نقوش اور سنگ ہائے میل پوری طرح معلوم ہوں، جنہیں دیکھ کر وہ اپنی مہم کے مزاج و طبیعت، اپنے فرض کی حقیقت و اہمیت، اپنے مقصد کی کنہ، اور اس سفر طویل کا نقطۂ آغاز پہچان سکے۔ نہ صرف یہ بلکہ اُسے یہ بھی شعور حاصل ہونا ضروری ہے کہ اس عالم گیر جاہلیت کے مقابلے میں اس کا مؤقف کیا ہے ؟ کس کس پہلو میں وہ دوسرے انسانوں سے ملے ، اور کس کس مقام پر اُن سے جُدا ہو؟ وہ خود کن خوبیوں اور صلاحیتوں کا حامل ہے ؟ اور ارد گرد کی جاہلیت کن کن خصوصیات و خصائل سے مسلح اور لیس ہے ؟ نیز وہ اہل جاہلیت کو کیسے اسلام کی زبان میں خطاب کرے ، اور کن کن مسائل و مباحث میں خطاب کرے ؟ اور پھر اُسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ان تمام امور میں کہاں سے اور کیسے رہنمائی حاصل کرے؟))
💥اخوانی تحریکیوں کے اندر مسلم معاشرے کو اچھوت سمجھنے اور مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوتی تیور بھرنے کیلئے اس کتاب نے کتنا اہم رول ادا کیا ہے اسے سمجھنے کے لئے اسی کتاب سے ص 93 کا ایک اور مترجم پیراگراف پڑھیں اور تحریکیوں کی حقیقت اور کتاب کے اصلی غرض وغایت سے آگاہی حاصل کریں:
((جاہلیت سے مکمل مقاطعہ:
ہمارا یہ بھی فرض ہوگا کہ ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں جاہلی معاشرے کے شکنجے سے ، جاہلی تصورات کی گرفت سے ، جاہلی روایات کے دباؤ اور جاہلی لیڈر شپ کے تسلط سے آزادی حاصل کریں۔ ہمارا مشن جاہلی معاشرے کے عملی نظام کے ساتھ مصالحت (Compromise) کرنا نہیں ہے ، اور نہ ہم اس کے وفادار بن کر رہ سکتے ہیں۔ جاہلی معاشرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے جاہلی اوصاف و خصائص کی وجہ سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس قابل نہیں ہے کہ ہمارے اور اُس کے درمیان مصالحت کا رویہ قائم ہو سکے۔ لہذا ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم پہلے اپنے آپ کو بدلیں تاکہ بالآخر معاشرے کو تبدیل کر سکیں۔ ہمارا اولین مقصد معاشرے کے عملی نظام میں انقلاب ہے۔ جاہلی نظام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہے جو اسلامی نظامِ زندگی کے ساتھ بنیادی طور پر متصادم ہے ، اسلامی تصورات کی ضد ہے ، اور جو ہمیں جبر و تشدد کے وسائل کا سہارا لے کر اُس نظامِ زندگی کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے سے محروم کر رہا ہے جس کا مطالبہ ہم سے اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔
زندگی کے اس نئے سفر میں ہمارا سب سے پہلا قدم یہ ہوگا کہ ہم جاہلی معاشرے اور اس کی تمام اقدار و نظریات پر غلبہ پانے کی کوشش کریں۔ اور جاہلی معاشرے کے ساتھ سودا بازی کرنے کے لیے ہم اپنی اقدار حیات اور اپنے نظریات میں سرمو تبدیلی گوارا نہ کریں۔ ایسی باتیں ہمارے حاشۂ خیال میں بھی نہ آنی چاہئیں۔ ہمارا راستہ الگ ہے اور جاہلیت کا راستہ الگ! اگر ہم ایک قدم بھی جاہلیت کے ساتھ چلے تو نہ صرف اپنے نظامِ حیات کا سر رشتہ ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں گے بلکہ راہِ حق کو بھی گم کر بیٹھیں گے۔ بے شک اس کٹھن اور دشوار گزار راستے میں ہمیں جبر و تشدد کا اور تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا ہوگا اور ہمیں بڑی بڑی قربانیاں بھی دینا ہوں گی۔ لیکن اگر ہم اُس راہ کے مسافر ہیں جس پر پہلی بے مثال و منفرد جمعیت چل چکی ہے ، اگر ہم اُن نفوس قدسیہ کے نقشِ پا پر چلنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ و برتر نظام کو دنیا کے اندر جاری فرمایا اور اُسے جاہلیت پر نُصرت و غلبہ بخشا تو پھر ہمیں یہ سب کچھ سہنا ہوگا، اور ہم اپنی مرضی کے مالک نہیں ہوں گے۔ لہذا بہتری یہی ہے کہ ہم ہر وقت اس امر سے با خبر رہیں کہ ہمارے طریقِ کار کی فطرت و مزاج کیا ہے ، ہمارے مؤقف اور مسلک کی روح کیا ہے اور اُس راستے کے نشیب و فراز کیا ہیں جس پر چل کر ہم جاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے اُسی کامیابی کے ساتھ نکل جائیں جس کامیابی کے ساتھ صحابۂ کرام کی ممتاز و لاثانی جماعت نکلی تھی۔))
💥وہ ہراول دستہ جس کا ذکر سید قطب نے کیا ہے اور جس کے برپا کرنے کی وکالت کی ھے وہ کتاب لکھتے وقت کرہ ارض پر موجود نہیں تھا اسی لئے اسے ایک جگہ (الطليعة المرجوة المرتقبة) سے یاد کیا ہے۔ سوڈانی عالم ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس کہتے ہیں:
((إن الكاتب يدعو إلى حركة جديدة، حيث يسمي الذين يبدؤونها بالطليعة، مع أنه كان حين كتب هذا الكتاب منتميًا فعلًا إلى جماعة الإخوان المسلمين، وكان معه في السجن آلاف من أعضاء هذه الجماعة التي كان رئيسًا لتحرير جريدتها، والتي طالما كان يتحدث عن أهميتها وفضائلها ومنجزاتها.۔۔۔۔۔۔۔وأنه عمل لتكوين جماعة تكون امتدادًا لجماعة الإخوان المسلمين التي حلها عبد الناصر وسجن أعضاءها، ولكن لماذا اعتبر الجماعة قد انتهت بقرار الحل؟ وإذا كان قد انتهت تنظيمًا فإن أفرادها ما زالوا موجودين، فلماذا الدعوة إلى حركة جديدة كل الجدة؟!))
ترجمہ: کتاب کے مولف سید قطب ایک ایسی تحریک برپا کرنے کی طرف دعوت دیتے ہیں جس تحریک کو شروع کرنے والوں کو طلیعہ یعنی مسلمانوں کا ہراول دستہ کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ موصوف جس وقت یہ کتاب لکھ رہے تھے اس وقت حقیقت میں اخوان المسلمین جماعت سے منسلک تھے اور جیل کے اندر موصوف کے ساتھ اس جماعت کے ہزاروں ممبران تھے ۔ جمال عبدالناصر کے ذریعے اخوانی جماعت کی تحلیل کے بعد سید قطب در اصل چاہتے تھے کہ اسی جماعت کے طرز پر ایک نئی تحریک برپا کی جائے۔
لیکن کیا جمال عبدالناصر کے تحلیل کرنے سے یہ جماعت ختم ہو گئی تھی؟! اگر ختم نہیں ہوئی تھی اور اسکے ممبران اب بھی موجود تھے تو پھر ایسی صورت میں سید قطب پورے طور پر ایک نئی تحریک برپا کرنے کی دعوت کیوں دیتے تھے؟!
«قضية المنهج عند سيد قطب» ضمن كتاب «ندوة اتجاهات الفكر الإسلامي المعاصر» (ص536).
💥در اصل سید قطب حسن البنا کی صوفی جماعت سے بالکل مختلف ایک سرکش اور باغی تحریک وجود میں لانا چاہتے تھے اور جیل میں رہ کر اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنی تحریروں اور نصیحتوں کے ذریعے اپنے من پسند کی قطبی تحریک کی بنیاد ڈالنے میں کامیاب ہو گئے گرچہ نام کے اندر کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔
سید قطب نے اپنے ہراول دستے کے لئے اصحاب الاخدود کے قصے کو اسوہ اور نمونہ بنایا ہے کہ کس طرح وہ لوگ طاغوتی نظام کے سامنے ثابت قدمی سے جمے رہے اور ہر طرح کی آزمائش اور تکلیف کے وقت انکے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ اس کتاب کے اندر لفظ جاہلیت ساٹھ سے زائد مرتبہ سید قطب نے ذکر کیا ہے اس سے انکی نظر میں مسلم سماج کی وقعت اور اسکی حیثیت کیا تھی اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔
حکمرانوں کے خلاف تمرد، بغاوت اور خونی انقلاب پر ابھارنے والی ایک عبارت بطور نمونہ ملاحظہ کریں:
”إن إعلان ربوبية الله وحده للعالمين معناها: الثورة الشاملة على حاكمية البشر -في كل صورها وأشكالها وأنظمتها وأوضاعها، والتمرد الكامل على كل وضع في أرجاء الأرض، الحكم فيه للبشر بصورة من الصور.. إن هذا الإعلان معناه انتزاع سلطان الله المغتصب ورده إلى الله، وطرد المغتصبين له، الذين يحكمون الناس بشرائع من عند أنفسهم، فيقومون منهم مقام الأرباب ويقوم الناس منهم مكان العبيد.. إن معناه تحطيم مملكة البشر- لإقامة مملكة الله في الأرض۔"
ترجمہ: الہ واحد اللہ رب العزت کیلئے تمام کائنات کی ربوبیت کے اعلان کا مطلب انسانی حاکمیت کے خلاف مکمل انقلاب ہے، دنیا میں کہیں بھی اگر انسانی نظام قائم ہے اسکے خلاف ہر طرح کی سرکشی ضروری ہے اس انسانی نظام کی شکل خواہ کچھ بھی ہو۔ گویا اس اعلان کا صریح مطلب ہے کہ اللہ کی غصب کی ہوئی حاکمیت کو چھین کر اللہ کے حوالے کیا جائے۔ اور ان غاصبین کو کھدیڑ کر حکومت سے بھگا دیا جائے جو اپنی طرف سے قانون بنا کر حکومت کرتے ہیں اور خود کو آقا اور رعایا کو اپنا غلام سمجھ رکھے ہیں۔ اور خلاصہ کے طور پر اس اعلان کا مفہوم یہی ہے اس سر زمین پر انسان کی حاکمیت کا خاتمہ کر کے حکومت الہیہ کو قائم کر دیا جائے۔
جاری
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق