السبت، 20 أكتوبر 2018

تحریکیوں کا اسلامی معاشرہ💥

💥تحریکیوں کا اسلامی معاشرہ💥
سید قطب کی پھانسی کے وقت قاضی اور سید کے بیچ ایک مختصر گفتگو کی ترجمانی ایک قطبی معتقد نے کچھ یوں کی ہے:
ایک دفعہ عدالت میں جج نے سید قطب شہید سے سوال کیا: تم پر الزام ہے کہ تم نے جمال عبدالناصر کے قتل کی کوشش کی تھی؟
سید قطب شہید نے دوٹوک جواب دیا:
جمال عبدالناصر کا قتل تو بہت چھوٹا ہدف ہے، ہمارا ہدف تو ایک ایسی امت کی تعمیر و تشکیل ہے جس میں جمال عبدالناصر جیسے لوگ پیدا ہی نہ ہونے پائیں۔
اس گفتگو کی ترجمانی جس بھی قطبی بھکت نے کی ہے اس سے میرا دو سوال ہے۔ 
💥اول: کیا سید قطب کے نزدیک جمال عبدالناصر کا قتل جائز تھا بلکہ اس کا قتل سید قطب کے نصب العین میں شامل تھا گرچہ چھوٹا تھا جیسا کہ (ھدف تافہ) یعنی چھوٹا مقصد کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا ہے؟ 
کیا ناحق اس قتل کو قتل انسانیت میں شمار نہیں کیا جائے گا جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: (من  قتل نفساً بغير نفس أو فساد في الأرض فكأنّما قتل النّاس جميعاً).؟
یا یہ کہ قتل انسانیت قطبیوں کے اعتقاد میں شامل ہے؟ 
💥دوم: یہ قطبی کس طرح کی امت تشکیل دینا چاہتے ہیں؟ 
مرسی کو مصر میں ایک سال حکومت کرنے کا موقع ملا جس میں کس طرح کا معاشرہ وجود میں آیا؟ ہو سکتا ہے کہہ دیا جائے کہ ایک سال تھوڑی مدت ہے۔ حالانکہ عمر بن عبدالعزیز نے کم وبیش ایک ہی سال کے اندر ساری خامیو‌ں کو دور کر دیا تھا؟  ویسے بھی مرسی نے ایک سال میں اتنا کچھ کر ڈالا تھا کہ اگر مزید کچھ موقع ملتا تو مصر ضرور ایران ثانی بن جاتا۔ مرسی کی حکومت آنے پر رافضیوں نے بلا مقصد خوشی تھوڑی منائی تھی۔ 
محمد مرسی نے حمایتی پارٹیوں کو وزارت نہ دیکر ماسونیت کے طرز پر سری حکومت کرنا شروع کر دی۔ اور عوام کے سامنے آ کر اپنا اصل تحریکی چہرہ دکھاتے ہوئے کہا: مصر میں کسی دین کو نافذ نہیں کیا جا سکتا، یہ عہد وسطی نہیں ہے کہ جب عوام پر دین پرستوں کی حکومت ہوتی تھی،  مصر میں جمہوری دستوری حکومت ھے جس کا قانون پارلیمنٹ میں بنتا ہے۔ 
💥دوسری طرف ٹیونس کے اندر راشد غنوشی کی قیادت میں 2011 سے 2014 تک پورے چار سال تک تحریکیوں نے حکومت کی ہے۔ ان چار سالوں میں تحریکیوں نے کیسا معاشرہ تشکیل دیا ہے؟ جمہوری لادینی حکومت کے ذریعے سماج کو بد دین ہی بنایا جا سکتا ہے۔ راشد غنوشی کی وہ تصویر ضرور دیکھیں جس میں مغربی طرز پر ایک کتا لے کر ٹہل رہے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ مغربی معاشرے کی سب سے زیادہ برائی یہی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ یہی دلدادہ بھی ہیں!!!
💥تیسری طرف ترکی میں تحریکیوں کی حکومت دسیوں سال سے ہے۔ آخر وہاں امت کی تشکیل کیسے کی جا رہی ہے؟ تحریکیوں کے سیاسی رہنما اردگان مغربی ممالک سے دیگر جانوروں کے ساتھ خنزیر کا گوشت بھی درآمد کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ہم جنس پرستی کا قانون بھی نافذ کر دیا ہے۔ چار ارب ڈالر سالانہ صرف قحبہ خانوں سے حکومت کی آمدنی ہے۔ 
💥نوٹ: 
تحریکی سچے دل سے بتائیں کہ آخر ان کے مرشد نے امت کی تشکیلِ جدید سے کیا مراد لیا ہے؟  مذکورہ تعمیر وتشکیل کے علاوہ اگر کوئی دوسری چیز ہے تو آخر اس پر کب عمل ھوگا؟ یا یہ ساری تبدیلیاں ابھی ٹرایل میں چل رہی ہیں مزید موقع ملنے پر مغربی تہذیب کو بھی لوگ بھول جائیں گے۔ 
ویسے سید قطب کی کتاب (العدالة الاجتماعية في الإسلام) اور یوسف قرضاوی کی کتاب (الحلال والحرام في الإسلام) کے اندر اسلامی معاشرے کی بالکل وہی تصویر پیش کی گئی ہے جیسا یہ تحریکی چاہتے ہیں۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...