🌛ظالم حوثی رافضیوں کے قبضے سے حدیدہ بندرگاہ کو مکمل آزاد کرانا بے حد ضروری ہے🌜
💥رافضیوں تحریکیوں اور مکار یورپ کی سازشوں کی وجہ سے حدیدہ بندرگاہ کو مکمل آزاد کرانے میں جس قدر دیری ہو رہی ہے اتنا ہی زیادہ اہل یمن کو حوثیوں کے پنجہ استبداد سے نجات دلانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ لیکن سعودی اتحاد اپنے عزم وحزم میں جس طرح قائم اور ثابت قدم ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ حدیدہ بندرگاہ کو مکمل آزاد کرا کے ہی دم لے گا۔ کیونکہ یہی بندرگاہ ظالم حوثیوں کے مقبوضہ علاقوں کا شہ رگ ہے۔
اور کل جس طرح سے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے تیل سے بھرے جہاز پر حملہ کیا ہے اور جس کے رد عمل میں سعودی عرب نے یمن اور ایریٹریا کے مابین واقع عالمی اسٹریٹجک آبی گذر گاہ باب مندب کو بند کردیا ہے یہ کہہ کر کہ جب تک اس علاقے کو حوثیوں کی دخل اندازی سے مکمل پاک نہیں کر دیا جاتا تب تک اس گذر گاہ کو نہیں کھولا جائے گا ۔
معلوم ہونا چاہئے کہ اس عالمی آبی گذر گاہ کے بند ہونے سے تیل کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 72 امریکی ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔ یہ سعودی اتحاد کی طرف سے اٹھایا گیا بہت بڑا قدم ہے۔ علاقائی اور عالمی سطح پر اس کی مذمت اور سراہنا دونوں طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ باب مندب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس راستے سے روزانہ ساڑھے تین ملین بیرل تیل نکالا جاتا ہے ۔ مزید اس آبی گذر گاہ کی اہمیت اور حوثیوں کے ذریعے ایران کی سازشوں کو سمجھنے کے لئے اس رپورٹ کو ضرور دیکھیں:
((وبعد استهداف الحوثيين لناقلتي نفط عملاقتين تابعتين للشركة الوطنية السعودية للنقل البحري، أعلنت المملكة تعليق جميع شحنات النفط الخام التي تمر عبر مضيق باب المندب إلى أن تصبح الملاحة عبره آمنة.
وهنا تبرز أهمية تحرير مدينة الحديدة وميناءها من ميليشيات الحوثي، التي تنفذ أجندة إيران الخبيثة في المنطقة وتعمل على شن هجمات إرهابية في البحر الأحمر، خدمة لمصالح نظام الملالي الذي كان قد هدد قبل أيام بمنع صادرات النفط في المنطقة.
ورغم أن الهجوم الأخير أسفر عن إصابة طفيفة في إحدى الناقلتين، فإنه يؤكد مرة أخرى على أهمية محاسبة إيران، وعدم التهاون مع ميليشيات الحوثي التي باتت تشكل خطرا حقيقيا على الملاحة الدولية انطلاقا من ميناء الحديدة.
وعلى المجتمع الدولي دعم جهود التحالف العربي والشرعية اليمنية، الرامية إلى استعادة الميناء والمدينة وعدم الانجرار إلى محاولات الحوثي، وخلفه إيران، لكسب الوقت عبر مناورات سياسية باتت أهدافها مكشوفة.
وتسعى إيران، من خلال إبقاء ميليشيات الحوثي في الحديدة، إلى الإمساك بورقة باب المندب الهامة للضغط على المجتمع الدولي وتنفيذ تهديداتها الإرهابية، لما يمثله هذا المضيق من أهمية على صعيد الملاحة الدولية.
ويربط باب المندب البحر الأحمر من الجنوب بالمحيط الهندي، حيث يقع في منتصف المسافة بين السويس ومومباي، يحده اليمن من الشرق وإريتريا وجيبوتي من الغرب، ويكتسب المضيق أهمية في عالم النفط من كمية النفط المارة به، والتي تقدر بحدود 3.5 مليون برميل يوميا.))
https://www.google.co.in/amp/s/www.skynewsarabia.com/amp/middle-east/1167694-إرهاب-إيران-باب-المندب-يدق-ناقوس-الخطر
دعا ہے کہ اللہ تعالی یمن کو حوثیوں کے پنجہ استبداد سے مکمل طور پر نجات دیدے۔ آمین
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق