السبت، 20 أكتوبر 2018

فلسطینی اتھارٹی اور سعودی امداد🌜 🕸فلسطینی لہو کے تاجروں کے لئے ایک لمحہ فکریہ

🌛فلسطینی اتھارٹی اور سعودی امداد🌜
🕸فلسطینی لہو کے تاجروں کے لئے ایک لمحہ فکریہ 
🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦
💥یہ بات دنیا جانتی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی عالمی امداد پر چل رہی ہے جس پر حکومت کا پورا خرچہ حتی کہ سرکاری افواج اور تمام اہلکاروں کی تنخواہیں وغیرہ سب اسی امداد کے سہارے پر ٹکا ہوا ہے۔ 
ابھی کل جمعرات کو فصلی امداد کے طور پر مملکت سعودی عرب نے اپریل مئی جون جولائی 2018 کی امداد اپنے حصے کا مجموعی 80 ملین امریکی ڈالر فلسطینی مرکزی بینک میں ٹرانسفر کر دیا ہے۔ یعنی 20 ملین امریکی ڈالر کی ماہانہ امداد جو سعودی عرب فلسطینی اتھارٹی کو برابر دیتے آ رہا ہے۔ 
اور یہ سرکاری بیان صادر ہوا ہے کہ سعودی عرب سیاسی اقتصادی اور انسانی وغیرہ تمام سطحوں پر فلسطین کی مدد جاری رکھے گا۔ 
تفصیل کے لئے اس رپورٹ کو دیکھیں:
((قال السفير أسامة بن أحمد نقلى، سفير خادم الحرمين الشريفين لدى جمهورية مصر العربية والمندوب الدائم لدى جامعة  الدول العربية، بأن الصندوق السعودى للتنمية قام بتحويل مبلغ (80) مليون دولار أمريكى، إلى حساب وزارة المالية الفلسطينية، وذلك قيمة مساهمات المملكة الشهرية لدعم موازنة السلطة الفلسطينية لشهور أبريل ومايو ويونيو ويوليو 2018، بواقع (20) مليون دولاراً شهرياً.
وأكد السفير "نقلى"، أن المملكة العربية السعودية سوف تستمر دوماً فى دعم القضية الفلسطينية على كافة الأصعدة السياسية والاقتصادية والإنسانية.))
https://m.youm7.com/story/2018/7/26/السعودية-تسدد-حصتها-فى-ميزانية-السلطة-الفلسطينية-بـ-80-مليون/3887986
👈اردو پوائنٹ کی رپورٹ پڑھیں: 
((سعودی عرب کے ترقیاتی فنڈ نے 8 کروڑ ڈالر کی رقم فلسطنی وزارت خزانہ کے کھاتے میں منتقل کی ہے۔ یہ رقم فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کے لیے سعودی عرب کی جانب سے ماہانہ 2 کروڑ ڈالر کی سپورٹ کی مد میں ادا کی گئی۔ مذکورہ رقم اپریل 2018ء سے جولائی 2018ء تک کے لیے ہے۔
مصر میں سعودی عرب کے سفیر اور عرب لیگ کے لیے مستقل مندوب اسامہ بن احمد نقلی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہ کہ سعودی عرب سیاسی، اقتصادی اور تمام انسانی پہلوؤں سے مسئلہ فلسطین کی سپورٹ جاری رکھے گا۔
اس سے قبل اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے فلسطینیوں کے واسطے عرب ممالک کی عدم امداد کے حوالے سے امریکا کی خاتون مندوب نکی ہیلی کے دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا۔
المعلمی نے مشرق وسطی کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اِن دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے باور کرایا کہ مملکت نے آخری دو دہائیوں کے دوران فلسطینیوں کے لیے 6 ارب ڈالر پیش کیے۔ یہ رقم انسانی امداد، ترقیاتی امداد اور امدادی وسائل کی مدد میں پیش کی گئی۔ اسی عرصے میں "اونروا" ایجنسی کو پیش کی جانے والی امداد کا حجم ایک ارب ڈالر رہا۔))
https://www.google.co.in/amp/s/www.urdupoint.com/daily/amp/livenews/2018-07-27/news-1620651.html
👈ان تمام اردگانی بھکتوں سے سوال ہے (جو سعودی دشمنی میں فلسطینی لہو کا صرف پروپیگنڈہ کرتے ہیں) کہ سعودی عرب کی طرح کتنے مسلم ممالک ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کی مسلسل ماہانہ تعاون کرتے ہیں؟ صرف فلسطینی لہو کی تجارت کرنے والے ترکی قطر اور ایران کی طرف سے اس طرح کا کوئی سرکاری بیان دکھا دیں۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...