🎪تحریکیوں کا گڑھ قطر آخر کس حد تک گرے گا؟!🎪
☠فریضہ حج/عالمی کپ☠
💥بارہ مسلم ممالک نے قطر سے تعلقات یوں ہی نہیں ختم کر لئے ہیں۔ اسکی سازش، عیاری، خیانت، دولت کا نشہ، دین کی تجارت اور تشدد پسندوں کو ٹھکانہ دینے اور انکا مالی سپورٹ کرنے جیسے بے شمار وجوہات ہیں جن سے وہ آج بھی اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک انچ پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔
قطر کے تعلق سے حالیہ دنوں میں دو طرح کی خبریں گردش میں ہیں: ایک 2022 میں قطر کے اندر متوقع منعقد ہونے والا عالمی کپ اور دوسرا حج کے تعلق سے ایک منظم سازش کے تحت قطری باشندوں کو حج کرنے سے روکنا۔
👩❤💋👩جہاں تک عالمی کپ کے منعقد ہونے کا تعلق ہے تو یہ بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔ ویسے قطر اسکے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور عالمی کپ کے ذمیداروں کے تمام جائز وناجائز شرائط کو بھی پورا کرنے کے حق میں ہے۔ چنانچہ اسکے لیے شراب کی دکان، ہر جائز ناجائز کھانے کا انتظام، جسم فروشی اور ہم جنس پرستی کی کھلی چھوٹ وغیرہ۔
لیکن چونکہ یہ ملک ہے بہت چھوٹا، اس میں جگہیں ہیں بہت کم، ائیر پورٹ، بندرگاہ، ریسورٹ، بیچ، بڑے بڑے ہوٹلوں کی ہے کمی۔ اور دوسرے پڑوسی ممالک میں ہے داخلہ بند، ابھی فی الحال قطر کے پکے رافضی دوست ایران پر بھی لگ چکی ہے عالمی پابندی، اور بہت ممکن ہے 2022 سے پہلے سعودی عرب قطر کے واحد زمینی بارڈر (سعودی۔قطر چالیس کلومیٹر بارڈر) پر (قناۃ سلوی) کے نام سے ایک نہر کی کھدائی کر دے جس کی وجہ سے قطر شبہ جزیرہ سے بدل کر مکمل جزیرہ بن جائے گا۔ پھر اس ملک سے کسی بھی ملک کا بارڈر نہیں لگے گا۔
لہذا اگر 2022 سے پہلے پہلے قطر اپنے تعلقات کو خلیجی ممالک سے استوار نہیں کر لیتا ہے تو اس ملک میں اتنا بڑا عالمی کپ کا ہونا ویسے بھی مشکل ہوجائے گا۔ اور مستقبل قریب میں ایسی کوئی صورت بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے کہ قطر حالات میں کچھ سدھار لا سکتا ہے۔
💥ابھی اسی ہفتے Amnesty International ایمنسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے قطر سے مطالبہ کیا ہے قطر پر واجب ہے کہ وہ ہم جنس پرستی کو ہمیشہ کیلئے اپنے ملک میں قانونی درجہ دے صرف کھیل کے ایام میں ہی چھوٹ دینا کافی نہیں ہوگا۔
اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ قطر اگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بحال نہ کرسکا تو بہت ممکن ہے اس قانون کا بہانہ بنا کر عالمی کھیل کی اس میزبانی سے تنازل اختیار کر لے جس میں اس کی سُبکی بھی کم ہوجائے گی اور سارے تحریکیوں کو ڈھنڈورا پیٹنے کا بھی موقع مل جائے گا۔ لیکن یہ بھی مشکل ہی نظر آ رہا ہے۔ بلکہ قطر کے بادشاہ تمیم جو کہ کھیل کے رسیا مانے جاتے ہیں اور جس کے لیے اربوں روپے بہا دیئے ہیں اسے پورا کرنے کیلیے وہ ہر درجہ کراس کر سکتے ہیں۔ ویسے ہم جنس پرستی قطر میں سرکاری سطح پر اب کوئی معیوب چیز نہیں ہے۔ وہ اس مطالبے کو بھی پورا کر سکتا ہے۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
http://www.alamsar-dostor.org/27800
مزید تفصیل اس لنک پر بھی دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=225114414991813&id=100024797670854
http://almnatiq.net/610263/?mobile=1
💥پڑھیں اس رپورٹ کو آپ کو اندازہ ہوگا کہ موجودہ قطری بادشاہ کو کھیل سے کس حد تک دلچسپی ہے:
((تمیم بن حمد نے اپنی نوجوانی (teenager)ہی کی عمر میں عرب دنیا کا بورس بیکر(Boris Becker) بننے کا خواب دیکھا تھاچنانچہ اس لاڈلے بیٹے کے خواب کوشرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے محسن والدین (حمد بن خلیفہ اور شیخہ موزہ)نے اس جرمن ٹینس اسٹار ہی کو قطر بلا لیا تاکہ بچے کواپنے ہی ہاتھ سے ٹرینڈ کردے۔ کھیل میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لینے والے سہزادے نے بعد میں ایک فرانسیسی فٹبال ٹیم (Paris Saint-Germain)کو خریدلیا اور اسکے لئے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں ایک مشہور برازیلین فٹبالر (Neymar da Silva Junior) کو (263) ملین امریکی ڈالر(تقریباً 1690.5کروڑ ہندوستانی روپیہ)میں مہمان ٹیم کی حیثیت سے لایا گیا جو کہ فیس لینے کے اعتبار سے اب تک کا ورلڈ ریکارڈ کھلاڑی رہا ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سال ہی (Manshester United) کی طرف سے فٹبالر (Paul Pogba) کو سب سے زیادہ (105) ملین یورو دیا گیا تھاجو کہ(Neymar Jr) کے آدھا بھی نہیں ہے۔
-ہر ممکن طریقے سے(2022 World Cup)کو قطر کی سرزمین میں کرانے کیلئے عالمی ورلڈ کپ کے ذمیداروں کو (200)بلین امریکی ڈالر جیسے بھاری رقم رشوت میں ادا کرکے محسن والدین نے ننھے بچے تمیم کی خواہش کوپورا ہی کردیا جو کہ قطر جیسے چھوٹے ملک کیلئے ایک بہت بڑا انقلابی عمل ہے کیونکہ قطر جیسے چھوٹے ملک کیلئے اس ٹورنامنٹ کو کوالیفائی کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن گزشتہ سال جون سے پڑوسی ممالک سعودی عرب اور امارات کی طرف سے بری، بحری اور فضائی بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے قطر جن پریشانیوں کا سامنا کررہا ہے ایسی صورت حال میں امیر قطر تمیم کو اب لگنے لگا ہے کہ دولت ہی سے سارے مسئلے حل نہیں ہوتے۔))
مزید تفصیل اس لنک پر دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1544922222287726&id=100003098884948
👩❤💋👩قطری حکام کی طرف سے گزشتہ سال ہی سے ایسی حرکتیں کی جا رہی ہیں جن سے قطری باشندوں کو حج کے لئے سعودی عرب آنے میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔ رافضی ایران کی طرح قطری حکام نے بھی حرمین شریفین کو عالمی تنظیم کے حوالے سونپنے کی گھٹیا مانگ کی ہے۔ اسکے لیے تفصیل سے دیکھیں یہ مضمون(تدویل حرمین: مملکت توحید کے خلاف ایک خطرناک حربہ):
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1663752333738047&id=100003098884948
لیکن گزشتہ سال اس سے پہلے سال 2016 کے مقابلے پھر بھی کچھ زیادہ ہی حجاج کرام آئے تھے۔ اور قطری حکام کے پروپیگنڈوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ لیکن اس سال کچھ زیادہ ہی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حتی کہ مملکت سعودی عرب کی طرف سے قطری حجاج کرام کیلئے فارم وغیرہ بھرنے کے واسطے جو خصوصی ویب سائٹ بنایا جاتا ہے اسے قطری حکومت حذف کر دیتی ہے۔ اس سال قطری حکام کی طرف سے (لا لذھاب القطریین للحج ھذا العام) کا ہیش ٹیگ چلا رہے ہیں۔یعنی اس سال قطری باشندوں کو حج کے لئے نہیں جانا ہے۔
💥اور اس وقت تو حالیہ قطر کے بادشاہ تمیم بن حمد آل ثانی کی بیوی جواہر آل ثانی سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں سب سے آگے ہے چنانچہ اس نے حج جیسے دینی معاملات میں رافضیوں کی طرح جراءت رندانہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ سعودی عرب نے ہمارا بائیکاٹ کر رکھا ھے اس لئے کسی قطری کو حج کرنے کیلئے سعودی عرب جانا درست نہیں ہے۔ حکام قطر کی مرضی کے خلاف جانے پر گناہ کا مرتکب ہوسکتا ہے! تمیم کی بیوی کا یہ ٹیوٹر اکاؤنٹ دیکھیں جہاں اس طرح کی گندگی پھیلا رہی ہے:
https://twitter.com/JawaherAKH/status/1018917955273461761?s=19
سعودی دشمنی میں اندھی ہو کر اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر ایسی بات لکھی ہے اس عورت نے جسکا ایک مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتی ہے:
“تذكر أخى المواطن القطري أن مكة ليست مستقلة كالفاتيكان، هى تابعة للسعودية والسعودية اليوم اختارت أن تعادينا، وهى تمنعك من دخول أراضيها طوال العام لأنها تعتبرك خطرًا على أمنها! وتذكر أيضًا أن الحج لمن استطاع إليه سبيلا”. “وأتمنى أن تقاوم رغبتك في إثبات أن الذهاب للحج أمر غير طبيعي فى هذه الظروف، لأنك إن لم تتضرر شخصيًا ربما غيرك تضرر بناءً على حديثك.. فبذلك تتحمل إثمًا أنت في غنى عنه بحسب زعمها.!"
ترجمہ: میرے قطری بھائی ! یہ بات یاد رہے کہ مکہ اس وقت ویٹیکن سٹی کی طرح آزاد نہیں ہے بلکہ وہ سعودی عرب کے تابع ھے۔ اور سعودی عرب آج ہمارا دشمن ہے اور پورے سال اپنی اراضی پر جانے سے روکتا ہے ہمیں خطرہ سمجھ کر۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ حج کرنا صرف اسی پر واجب ہے جس کے لیے مکہ تک جانے کا راستہ میسر ہو۔ اور میں تمنا کرتی ہوں کہ آپ لوگ اپنی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرو کیوں کہ وہاں جانے سے ممکن ہے آپکا کوئی نقصان نہ ہو لیکن آپکی وجہ سے دوسروں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ اور اس طرح ثواب کے بجائے ایسے گناہ کے مرتکب ہوجاؤ جس سے ابھی بچا جا سکتا ہے۔
مزید دیکھیں اس رپورٹ کو:
http://24.ae/article/452282/زوجة-أمير-قطر-تحرض-مواطنيها-على-مقاطعة-الحج
مزید اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے:
((رغم أن الحج فريضة لمرة واحدة في العمر، و لمن استطاع إليه سبيلا. أستنكر حرص دول_الحصار على أن يحج المواطن القطري هذا العام رغم اشتداد الأزمة. أين هذا الحرص عن زيارة الأهل؟ ألا يعلمون ماهي عقوبة قطيعة الأرحام؟!))
ترجمہ: باوجودیکہ حج عمر میں ایک ہی بار واجب ہے اور صرف اسکے لئے جو مکہ تک پہونچنے کی طاقت رکھتا ہو، میں یہ ناپسند کرتی ہوں کہ ہم سے تعلقات توڑنے والے ممالک کی حرص کے باوجود قطری باشندے حج پر جائیں جب کہ بحران اتنا سخت ہے۔ یہ لوگ اہل خانہ کی زیارت کے تعلق سے کیا کہیں گے؟ کیا یہ قطع تعلق نہیں ہے؟ اور اس کا گناہ کیا انہیں پتہ نہیں ہے؟ دیکھیں ٹیوٹر اکاؤنٹ:
https://twitter.com/JawaherAKH/status/1020618659889336320?s=19
👈لیکن کیا ان قطری حکام کے گندے پروپیگنڈوں سے متاثر ہوکر قطری باشندے حج کرنے نہیں آئیں گے؟! کیا ان قطری حکام کو اپنی عاقبت کا کوئی خوف نہیں ہے؟! سیاسی اختلافات کیا دینی واجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟! بقول جواہر آل ثانی سال بھر سعودی عرب آنے کی پابندی کیا حج کیلئے آنے کی پابندی کا سبب بن سکتی ہے؟!
کیا اس وقت "قاضی القضاۃ قرضاوی" کے منصب کا فریضہ تمیم کی اہلیہ انجام دے رہی ہیں؟! یا رافضیوں نے قطری حکام کے عقل و خرد کو ہیک کر رکھا ہے کہ یہ سب انہیں کی بولی بول رہے ہیں؟!
سچ ہے:
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہو تی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق