السبت، 20 أكتوبر 2018

اخوانیوں کی کتابیں لیبیا میں نذر آتش

🎪اخوانیوں کی کتابیں لیبیا میں نذر آتش🎪
⁦👩‍❤‍💋‍👩⁩تحریکی خاموش، وجہ کیا ھے؟!
💥لیبیا 2011 سے اخوانی خارجیوں کی دہشت گردی سے جوجھ رہا ھے۔ بنغازی پر مکمل کنٹرول کے بعد پچھلے مہینے جون میں ضلع درنہ کو بھی دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ آزاد کرانے کے بعد ایک نمایاں اور اہم کام حکومت کی طرف سے یہ کیا جا رہا ہے کہ ان خوارج اور ان دہشت گردوں کی سوچ وفکر اور ان کی بنیادی کتابیں جنہیں وہ مصدر کی حیثیت دیتے ہیں انہیں جلایا جا رہا ہے اور وہ ساری کی ساری اخوانیوں کی کتابیں ہیں‌۔ 
https://m.arabi21.com/Story/1084183
((درنہ شہر میں تحریکی اخوانیوں کی کتابیں خوارج کی کتابیں کہہ کر جلا رہے ہیں۔))
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=218148369021751&id=100024797670854
اسی طرح 2017 میں جب اخوانیوں کے قبضے سے لیبیا کا مشہور شہر بنغازی آزاد کرایا گیا تھا اس وقت بھی اخوانیوں کی کتابوں کو بڑی مقدار میں جلایا گیا تھا: 
https://www.afrigatenews.net/article/حرق-كتب-للإخوان-المسلمين-في-بنغازي/
آج تحریکی ان خبروں کو نہ ہی پھیلا رہے ہیں اور نہ ہی ان کا پروپیگنڈہ کر رہے ھیں۔ 
💥جبکہ 2016 میں جب سعودی عرب کے اندر تحریکیوں کی کتابوں پر پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام سرکاری دفاتر اور لائبریریوں سے ان کی گمراہ کن کتابوں کو ہٹوا دیا گیا تھا اس وقت سارے تحریکی بلبلا رہے تھے اور واویلا مچا رہے تھے نیز مملکت سعودی عرب کے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کر رہے تھے جن میں سب سے نمایاں پروپیگنڈہ یہ بھی تھا کہ ان کتابوں کو سعودی حکومت جلوا رہی ہے۔ حالانکہ یہ جھوٹ پر مبنی ایک رافضی پروپیگنڈہ تھا۔ گرچہ اس میں کوئی حرج بھی نہیں ھے۔ تاریخ سے ایسی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں کہ باطل اور گمراہ کن کتابوں کو جلایا گیا ہے۔ 
لیکن ان تحریکیوں کا مقصد صرف سعودی حکومت کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ مصر کے اندر جمال عبدالناصر نے اخوانیوں کی کتابیں جلوا دیں تھیں اسکا بھی انہوں نے کبھی پرچار نہیں کیا۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...