السبت، 20 أكتوبر 2018

کیا اخوانیوں کے یہاں سنیوں سے زیادہ محبوب رافضی ایران ہے ؟

🎪کیا اخوانیوں کے یہاں سنیوں سے زیادہ محبوب رافضی ایران ہے؟!🎪
💥گزشتہ 2/جون کو سنگاپور میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس سے قطری وزیر دفاع خالد بن محمد العطیہ کی ملاقات ہوئی جس میں امریکی وزیر دفاع نے ایران کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے قطری فوجی اڈہ "العدید" کو استعمال کرنے کی اجازت طلب کی، اس پر قطری وزیر دفاع کی گھگھی بیٹھ گئی اور لگے آنا کانی کرنے اور بات کو گول مول کر کے ایران کی فضیلت اور اس کے عظیم احسانات کو گنانا شروع کر دئیے۔ مثلاً ایران ہمارا پڑوسی خیرخواہ ملک ہے، اس کے ساتھ ہمارے گہرے روابط ہیں، مصیبت میں کام آنے والا ملک ہے، گیس فیلڈ میں ہماری اس کے ساتھ ایک بڑی شراکت ہے۔ پھر ہم اپنے ملک سے ایران جیسے "محبوب" پڑوسی ملک پر حملے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟
💥معلوم ہونا چاہیے کہ العدید فوجی اڈے پر 2003 سے دس ہزار امریکی فوجی رہتے ہیں۔ لیکن اخوانیوں نے کبھی بھی اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ جب کہ یہی فوج جب سعودی عرب میں تھی تو یہ اخوانی خوب پروپیگنڈہ اور احتجاج کرتے تھے بلکہ ایک مرتبہ ریاض میں شاہی پیلیس کے سامنے انہوں نے احتجاج کیا تھا۔ اس وقت شاہ فہد نے تحریکیوں کے پرجوش اور "ثابت قدم مانے جانے والے عالم ربانی" سلمان عودہ جو احتجاج کی اگوائی کر رہے تھے، سے کہا تھا کہ آپ لوگ جن گاڑیوں میں بیٹھ کر دور دراز سے یہاں امریکہ کے خلاف احتجاج کرنے آئے ہیں اسکی گاڑیوں کو یہاں چھوڑ جائیں ہم امریکی فوجیوں کو ابھی بھیج دیتے ہیں۔ اتنا سننا تھا کہ سارے اخوانی منہ لٹکا کر وہاں سے دفع ہوگئے۔ اور اسی وقت ان سے یہ بھی کہا تھا کہ یہ فوجی مجبوری پر بلائے گئے تھے۔ ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے وقت پورا ہونے پر چلے جائیں گے۔ اور ہوا بھی وہی 2003 میں معاہدے کے تحت واپس چلے گئے۔ لیکن کہاں؟ لگتا تھا پہلے ہی سے اخوانیوں نے قطر سے بات کرلی تھی اور اسی لئے العدید اڈہ پہلے ہی سے بالکل تیار تھا۔ اسی لئے سعودی عرب سے نکل کر امریکی فوج سیدھا قطری فوجی اڈہ العدید کی طرف روانہ ہوئی۔ اسی وقت سے اخوانی خاموش ہیں۔ یعنی وہی چیز جو سعودی کیلئے کل حرام تھی آج اخوانیوں کیلئے جائز ہو گئی۔ اسی لئے کسی نے کہا ہے: "کفار سے دوستی صرف آل ثانی کیلئے جائز ھے، جمہوریت صرف مرسی کیلئے روا ھے، روافض سے دوستی صرف حماسیوں کے لئے حلال ھے اور سیکولرازم صرف اردگان کیلئے درست ھے"۔ چنانچہ یہ اخوانی امریکہ و یورپ سے بظاہر نفرت کرتے ہیں لیکن ان کی اور ان کے بچوں کی ساری تعلیم وہیں سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر   "عالم ربانی" سلمان عودہ کا لڑکا کہاں پڑھتا ہے اخوانیوں سے پوچھ لیں۔ 
💥یہ بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ یہی العدید فوجی اڈہ ہے جہاں سے امریکہ 2003 میں قطر سے اجازت لیکر عراق پر حملے کرتا تھا۔ اس وقت امریکہ نے سعودی عرب سے بھی اسکی زمین استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن عراق سے لاکھ دشمنی کے باوجود اجازت نہیں دی تھی اور جس پر صدام حسین نے سعودی حکومت کی تعریف کی تھی۔ 
اور اسی فوجی اڈہ سے قطری حکام سے اجازت لیکر امریکہ افغانستان پر بھی مسلسل حملہ کرتا رہا ہے۔ 
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں ملکوں پر حملے کی اجازت دے دی حالانکہ دونوں ملک سنی ہیں۔ جب کہ ایران رافضی کٹر سنی مسلمانوں کا دشمن ہے اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے اجازت کیوں نہیں دے رہا ہے قطر؟! یہ سوچنے کا مقام ہے۔ ‌رافضیوں اور تحریکیوں کا گٹھ جوڑ ایسے ہی موقع پر صحیح سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ دونوں آپس میں کسقدر ایک دوسرے کے جانی دوست ہیں۔ 
پوری خبر اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.google.co.in/amp/arabic.euronews.com/amp/2018/06/03/qatar-defence-chief-warns-against-military-confrontation-with-iran
امریکی وزیر دفاع کی طرف سے اجازت مانگنے اور قطری وزیر خارجہ کی طرف سے ٹال مٹول کرنے والی ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں:
https://youtu.be/BwuOVXNTQnQ

فیس بک پر بھی دیکھیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...