السبت، 20 أكتوبر 2018

🎪ترکی کی اباحیت اور اردگانی بھکتوں کا لیت ولعل!🎪

🎪ترکی کی اباحیت اور اردگانی بھکتوں کا لیت ولعل!🎪
💥ترکی ہم جنس پرستوں کی سرپرستی میں دنیا کا دوسرا ملک ہے۔ ترکی میں تین ملین سے زیادہ لوطی اور ہم جنس پرست پائے جاتے ہیں۔ 2014 میں علی الاعلان ہم جنس پرستوں نے آپس میں شادی کی جسکا حالیہ صدر أردگان نے بھر پور ساتھ دیا۔ امر اللہ طوزون 28 اور اکین کاسار 21 کی شادی نعوذ باللہ بڑے دھوم دھام سے ہوئی اور اسی سال کے اخیر میں امریکی کونسلر چارلس اف ہنٹر نے ایک ترک لوطی رمضان چائسپر سے شادی کی۔ اور اخیر میں أردگان نے انکے ساتھ ایک کھانے پینے کی پارٹی میں شرکت کی۔ 
یہ خبر پورے ترکی بلکہ پورے یورپ میں مشہور ہے۔ اور اس سال کے رواں مہینے میں ہم جنس پرستوں نے خوب دھوم دھام سے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا اور سڑکوں پر خوشی منائی کیوں کہ ان کا محبوب اور مدد گار لیڈر أردگان جیت کر کرسی صدارت پر بیٹھا ہے۔ اور انہیں اپنے محبوب صدر سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ 
💥سوال یہ ہے کہ اردگان اس طرح کی فحاشی کو بڑھاوا کیوں دے رہے ہیں سوائے اس کے کہ یورپ خوش ہوکر یورپی یونین میں شامل کر لے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ابھی تک بہت سارے یورپی ممالک أردگان سے خوش نہیں ہیں۔ اور دور دور تک شمولیت کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔ ان سب کے باوجود جب ایک اردگانی اندھ بھکت یہ کہتا ہے کہ یورپی یونین والے زبر دستی أردگان کو بلا رہے ہیں لیکن اب اردگان شامل ہونا نہیں چاہتے تو یہ سن کر ایسے بھکتوں پر ایک طرف ہنسی آتی ہے اور دوسری طرف ان کی عقل پر رحم بھی آتا ھے۔ 
ایک طرف ترکی نے اسرائیل سے سارے تعلقات بنا کر رکھا ھے بلکہ اردگانی دور حکومت میں یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کے اسرائیل سے کسی پیمانے پر کوئی تعلق ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جب اردگانی اندھ بھکت یہ کہتے ہیں کہ ترکی دھیرے دھیرے اپنا تعلق اسرائیل سے ختم کر رہا ھے اور سعودی عرب بڑھا ہے تو بھی ایسے اندھوں پر رحم آتا ہے۔ اور جب یہ اندھ بھکت ایسی  کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں جسے مسالک بولیہ یعنی پیشاب کی نالیوں میں ماہر ڈاکٹر نے لکھا ہو یہ کہہ کر کہ فلاں مصنف نے اپنی کتاب میں اس بات کی پیشین گوئی کی ہے۔ آخر اس ڈاکٹر کو تاریخ کے بارے اتنا علم کہاں سے آگیا جو زندگی بھر پیشاب کی نالیوں کے بارے تحقیق کرتا رہا؟! 
در اصل اس ڈاکٹر کا نام راغب سرجانی ہے جنہوں نے (قصۃ اردگان) کے نام سے کتاب لکھی ہے اور ایک تحریکی نے اسے اردو میں ترجمہ کر ڈالا ہے۔ جس میں اس طرح کی پیشین گوئی لکھی ہوئی ھے۔ ہر کسی کو یہ تحریکی اس کتاب کے مطالعہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ اس میں أردگان اور ترکی کے بارے میں اور سعودی عرب کے بارے میں ساری پیشین گوئیاں کر دی گئی ہیں۔ مطالعہ کرو اور اسی پر یقین رکھو۔  
💥یہ تو انکا حال ہے کہ ایرے غیرے کی کتاب کا ترجمہ کرکے اس پر آنکھ بند کرکے یقین کرنے لگتے ہیں کیوں کہ اس نے سعودی عرب کے خلاف لکھا ہوا ہے۔ ان کے پاس حقیقت میں پیشین گوئی کے علاوہ کچھ ہے بھی نہیں۔ آخر بھروسہ کریں کس پر۔ 
انہوں نے ایک عقیدہ بنا لیا، ایک بت تراش لیا۔ اب اسکے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی حقیقت سننے لئے تیار نہیں ہیں۔ چاہے آپ دلیل پر دلیل شواہد اکٹھا کردیں۔ یہ فورا اسکا انکار کریں گے اور پینترا بدل کر سعودی عرب پر آجائیں گے۔ 
💥ایسے ہی ایک اندھ بھکتی کا واقعہ ابو الخطاب سنحانی کے ساتھ پیش آیا ھے جو یمنی الاصل ہیں داعی ہیں مکہ مکرمہ میں رہ رہے ہیں۔ سنیں اور اردگانی بھکتوں پر ماتم کریں:
((شیخ سنحانی فرماتے ہیں کہ گزرے رمضان میں شیخ محمد وادعی (سلفی عالم) کے پاس حرم میں موجود تھا کہ ایک باریش متشرع شخص پاس میں آکر بیٹھ گیا۔ میں نے سمجھا یہ سلفی ہوں گے۔ شیخ وادعی اور انکے درمیان گفتگو ہونے لگی مجھے ایسا لگا دونوں کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ باتوں باتوں میں شیخ وادعی نے پوچھا: اتنے دنوں سے کہاں غائب تھے؟ کہا: ترکی گیا تھا۔ پوچھا: ترکی کو آپ نے کیسے پایا؟ اتنا سننا تھا کہ جناب لگے ترکی کی تعریف کرنے، أردگان کی تعریف میں تو پل ہی باندھ دیئے۔ میں نے دل میں سوچا یہ شخص سلفی نہیں حزبی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا: شیخ اس مہمان کا تعارف کرادیں۔ چنانچہ شیخ وادعی نے کہا کہ انہیں نہیں جانتے ‌؟! یہ ڈاکٹر عبد اللہ حاشدی ھیں جو صنعا میں جامعۃ الایمان کے اندر کلیۃ الحدیث کے عمید ہیں۔ میں نے کہا: کیا یہ وہی جناب ہیں جنکے بارے میں شیخ مقبل وادعی نے تبصرہ کیا ھے؟ اتنا سن کر جناب مسکرانے لگے۔ پھر میں نے کہا: جناب آپ اس طرح أردگان کی تعریف کر رہے ہیں جیسے وہ وقت کا ہارون رشید ہو۔ اس پر انہوں نے کہا: جی بالکل، اردگان اس سے بھی زیادہ کے مستحق ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ اردگان نے آکر ترکی کو کس بلندی پر پہونچا دیا؟! 
میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا آپ عقیدہ سلف کے بارے میں کچھ نہیں جانتے؟ آپ ایک طرف دنیوی ترقی کی تعریف کر رہے ہیں (اگر مان لیا جائے کہ اردگان نے ترقی دی ہے) اور دوسری طرف شرک وبدعت، تصوف، الحاد، ہم جنس پرستی اور دیگر جرائم کی چھوٹ کو نظر انداز کر رہے ہیں؟! کیا آپکو اردگان کی پارٹی کے بارے میں پتہ ہے کہ وہ علمانی ہے؟ کیا آپ نے نہیں سنا کہ وہ لوطیوں اور ہم جنس پرستوں کیلئے قانون کی حمایت کرتا ہے؟! 
یہ سن کر فوراً کہا: یہ سب جھوٹ اور افتراء پردازی ہے۔ میں نے کہا: اگر آپکو ویڈیو دکھا دوں اردگان کی تصویر اور اسی کی آواز میں جسے اخوانی چینلوں نے نشر بھی کیا ہے تو کیا آپ مانیں گے؟! کہا: وہ ویڈیو کہاں ہے؟ پھر میں نے انہیں دکھایا۔ ویڈیو دیکھ کر محترم اپنا عینک اتار کر اسے پوچھا اور پھر دوبارہ دیکھا پھر اتار کر اسے پوچھا اور کہا: یہ سب ڈبلی کیٹ ہے۔ یہ کہہ کر محترم پسینے سے شرابور ہوگئے اور کچھ بات کئے بغیر افطاری میں مشغول ہوگئے۔ 
میں نے دل میں کہا: علامہ وادعی رحمہ اللہ نے یونہی اخوانیوں سے نہیں ڈرایا ہے۔ انکے پاس بڑی فراست تھی جو انہیں اللہ کی طرف سے ملی تھی۔ چنانچہ ہمارے لئے اس واقعہ میں نصیحت ہے کہ ایسے بھکتوں سے دور رہیں کیوں کہ انہیں کبھی بھی قائل نہیں کرا سکتے۔))
اس واقعہ کو ابو الخطاب سنحانی کے اس پیج پر دیکھ سکتے ہیں: 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=885604921631737&id=100005467111073
👈نوٹ:
بالکل یہی معاملہ برصغیر کے تحریکیوں کا ہے کہ یہ بھی صراحت کے ساتھ دلیلوں کے پڑھنے حتی کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد بھی اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے ہیں۔ اور اپنے "تراشیدہ اصنام" کے بارے میں ذرا بھی انکی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ یا تو فوراً اسے یکلخت انکار کر دیں گے یا بات کو فوراً گھما کر سعودی عرب لے کر چلے جائیں گے۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...