🙋رافضی خطرے سے افریقہ آیا ہوش میں🙋
💥الجزائر نے بھی بھگایا ایرانی سفیر کو💥
مراکش کے بعد آج الجزائر نے بھی ایرانی کلچرل سفیر امیر موسوی کو اپنے ملک سے بھگا دیا ہے۔
اس کے بھگانے میں سب سے بڑا رول الجزائر کے سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر انور مالك اور الجزائر کے سلفیوں کا رہا ہے۔ کئی مہینوں سے جناب انور مالک ملک بلکہ پورے افریقہ کے خلاف اس رافضی خبیث کی سازشوں کا پردہ فاش کرتے رہے ہیں۔ کچھ ہفتوں سے اس کے خلاف کافی مظاہرے ہوئے۔ سوشل میڈیا پر اسے بھگانے کے لئے الجزائر کے نوجوانوں نے بہت مطالبہ کیا ٹیوٹر پر اسکے خلاف ہیش ٹیگ چلایا۔ بالآخر محترم جناب انور مالک اور الجزائر کے توحید پرستوں کی کوششیں رنگ لائیں اور آج صبح ہی الجزائر کے سرکاری اخبار "الحیاۃ" نے یہ خوش آئند خبر اس عنوان "ارحل يا موسوي قبل أن ترحّل" سے چھاپ ہی دیا:
((الشخص الذي يطالب #امير_موسوي بالرحيل قبل الترحيل هو برلماني سابق ومستشار وزير الشؤون الدينية وصديق بارز للملحق الثقافي الإيراني ومن المتشيعين سياسيا كما وصف نفسه، والمهم كثيرا جدا أنه ظل يناهض حملات #اطردوا_امير_موسوي وغيرها التي دشنها وقادها المفكر #انور_مالك منذ سنوات ، بل كان عدة فلاحي يدافع عن التمدد الشيعي في #الجزائر والآن يؤكد أن نشاطات موسوي مشبوهة بعدما كان ينفي ذلك.
هذا التطور جاء بعد القرار المتخذ بأنهاء مهام امير موسوي كملحق ثقافي وباتفاق بين طهران والجزائر لتفادي ازمة دبلوماسية، بعد الفضائح التي لاحقتها وحملات الضغط الاعلامي من مثقفين بارزين وأولهم المفكر انور مالك الذي كان له الدور القوي في التأثير الاعلامي والسياسي والشعبي ضد مخططات السفارة الايرانية بالجزائر.
صفحة #اطردوا_امير_موسوي تقدم شكرها لكل المناضلين الذي دعموا حملة طرد هذا الضابط في الحرس الثوري الذي عمل ضد أمننا القومي، والشكر الخاص نرفعه للمفكر القدير انور مالك الذي كان أول مناضل جزائري فضح مخططات خامنئي وحرسه وشبكاته ونجحت حملاته في إجهاض زيارة حسن روحاني في مارس 2016 الى بلاد المليون ونصف المليون شهيد ونجح الآن في فضح أمير موسوي وطرده الذي أتخذ وسيرحل قريباً جدا.)).
💥اسی طرح معروف عراقی اخبار بغداد پوسٹ نے بھی اس عنوان سے اس خبر کو آج ہی نشر کر دیا:
((بعد مساهمة بغداد بوست في حملة أنور مالك.. ترحيل أمير موسوي من الجزائر وإنهاء مهامه))
اور آگے خبر میں خلاصہ کے طور پر لکھا ہے:
((وقالت المصادر إن موسوي يقوم بمهمات قذرة تستهدف الأمن القومي الجزائري ويتمدد حتى إلى المغرب وتونس وطرده صار ضرورة ملحة وستندم الدول التي تبقي عليه وتقدم له الحماية فيما يقوم به من نشاطات لصناعة طائفة تابعة للولي الفقيه.
وكان موقع بغداد بوست أول من فتح ملف موسوي وتحركاته المشبوهة في الجزائر وفضح مخططاته القذرة لنشر الفتنة الطائفية والتشيع في الجزائر والمغرب)).
ترجمہ: امیر موسوی ایسی بے ہودہ سرگرمیوں میں ملوث تھا جن سے جزائر کے امن وسلامتی کو خطرہ لاحق تھا، اور اسکی یہ سرگرمیاں پڑوسی ممالک مراکش اور تیونس تک پہونچ چکی تھیں جنکی بنیاد پر اسے ملک سے بھگانا ضروری ہو گیا تھا۔ ان ممالک کو دیر سویر ضرور شرمندگی اٹھانی پڑے گی جو اسکی ان فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حمایت اور اسکا تعاون کرتے ہیں جو تمام دینی مذاھب ومسالک کو چھوڑ کر صرف ولایت الفقیہی اثنی عشری رافضیت جیسی متشدد فکر کو تمام عالم اسلام میں پروان چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
http://m.thebaghdadpost.com/ar/story/100944
اللہ تعالی عالم اسلامی کو رافضیوں کی سازشوں اور انکے سے محفوظ رکھے۔ آمین
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق