🎪عالم اسلام کے خلاف رافضیوں کی ریشہ دوانیاں🎪
💥اور تحریکیوں کا تائیدی موقف💥
اس وقت سارا عالم اسلام رافضوں کی سازشوں، ریشہ دوانیوں، ان کے شر وفتن اور قتل وخونریزی سے پریشان ہے۔ اہل بیت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی اکثریت کو چھوڑ کر دو چار لوگوں کی محبت کا ڈھونگ دھتورا رچ کر اپنے فارسی زعم میں تمام سنی مسلمانوں کو اہل بیت کا دشمن قرار دیتے ہوئے انہیں قتل کرنا، ازواج مطہرات، صحابہ کرام کو گالی دینا اور ان پر طرح طرح کا الزام لگانا یہ رافضی مجوسی اپنا دھارمک فریضہ سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ تمام خباثتیں اب طشت از بام ہو چکی ہیں۔ ان کے تخریبی ولایت الفقیہی نظام اور تصدیر الثورہ (خمینی رافضی انقلاب کو پورے عالم اسلام میں پھیلانا اور اسے نافذ کرنا) جیسا تدمیری وارہابی نظریے سے بھی عالم اسلام اب آگاہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایک کر کے سارے مسلم ممالک اس سے دور ہو رہے ہیں اور اپنے تمام تعلقات ختم کر رہے ہیں۔ ایران عالم اسلام میں بد امنی اور فرقہ واریت کیسے پھیلا رہا ہے اس ویڈیو میں دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1733124746756661&id=1096374693765006
لیکن حیرت وافسوس ہے تحریکیوں پر کہ وہ رافضیوں کی ان تمام خباثتوں پر خاموش ہی نہیں بلکہ ان سے ہر اعتبار سے قریب ہیں اور انہیں پکا مسلمان ہی نہیں بلکہ خمینی انقلاب کو خالص اسلامی انقلاب سمجھ کر ایرانی مجوسی حکومت کو اسلامی جمہوریہ مانتے ہیں۔
💥چنانچہ تحریکیوں کے مجدد دین و ملت حسن ترابی کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلام صحیح معنوں میں صرف تین جماعتوں میں پایا جاتا ہے: اخوان المسلمین، جماعت اسلامی پاکستان اور اسلامی انقلاب ایران۔
💥تحریکیوں کے سابق مرشد محمد مہدی عاکف کا کہنا ہے:(( لا مانع من المد الشيعي الإيراني بالمنطقة، مبررًا ذلك بأن إيران دولة شيعية واحدة ما المانع إذن فهناك 56 دولة سنية۔ البرنامج النووي من حق إيران، حتى لوكان الهدف منه انتاج قنبلة نووية۔ هذا حقهم، فأميركا عندها قنبلة نووية وكذلك اسرائيل وباكستان والهند، فلماذا إيران أليس من حقها فهي دولة ذات سيادة ومن حقها أن تفعل أي شئ. أليست هناك باكستان القريبة من الخليج وكذلك الهند، فلماذا إيران بالذات)).
ترجمہ: خطے میں ایرانی شیعیت پھیلنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ایران ہی واحد شیعی حکومت ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ اسے روکا جائے سنیوں کے پاس تو 56 ممالک ہیں۔ اسی طرح ایٹمی ہتھیار کا حصول ایران کا حق ہے۔ امریکہ، اسرائیل ہندوستان اور پاکستان کے پاس بھی تو ایٹمی ہتھیار ہے۔ پھر ایران کو کون روک سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کیوں اس سے خوف میں ہیں آخر پاکستان اور بھارت بھی تو قریب ہی میں ہیں۔
تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھیں:
http://www.alalam.ir/news/13476/عاكف--لا-مانع-من-المد-الشيعي،-والبرنامج-النووي-من-حق-إيران-
💥امریکہ برطانیہ فرانس نے جب سیریا کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا تو تحریکیوں کے ہر دل عزیز حماسیوں نے ان ممالک کی خوب مذمت کی تھی وہیں پر ایک ہفتے سے ایران کے رافضی دہشت گرد جنوبی سیریا میں فلسطینی مہاجرین کو مخیم الیرموک کے اندر قتل کر رہے ہیں لیکن ان کے کان تک نہیں رینگ رہا ہے، زبان پر تالے لگے ہوئے ہیں اور آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے کیوں کی مارنے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے آقا ہیں۔
تفصیلی خبر اس ویب سائٹ پر دیکھیں:
http://m.thebaghdadpost.com/ar/Story/100469
💥تحریکیوں کے روحانی پیشوا یوسف قرضاوی ایرانی ایٹمی ہتھیار کے تعلق سے ایک سوال پوچھے جانے پر فرماتے ہیں: ((أن إيران دوله اسلامية ومن حقها أن تدافع عن نفسها، وإذا اعتدى أحد على ايران فسأقف ضد من يعتدى عليها وسأقاتل دونها.))
ترجمہ: بیشک ایران اسلامی حکومت ہے۔ اور اس کا حق ہے کہ اپنا دفاع کرے۔ اگر کوئی اس پر حملہ کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ مل کر ظالم کے خلاف ضرور لڑوں گا۔
ویڈیو کے ساتھ پوری خبر اس ویب سائٹ پر دیکھیں:
https://m.akhbarelyom.com/news/newdetails/2596938/1/بالفيديو..-القرضاوى-إذا-اعتدى-أحد-على-إيران-سأدافع-عنها.html
💥عبد الرزاق قسوم افریقی ملک الجزائر میں تحریکیوں کے اندر نمایاں شخصیت گردانے جاتے ہیں۔ "جمعية العلماء المسلمين الجزائريين" کے صدر ہیں ۔ سابق ایرانی صدر احمدی نجاد اور حالیہ ڈکٹیٹر خامنئی کو جناب ادب واخلاق میں اعلی نمونہ مانتے ہیں اور نوجوانوں کو ان کی اقتداء کرنے پر ابھارتے ہیں۔ خمینی ایران کی تعریف میں کہتے ہیں: ايران كے رہنماؤں نے دنيا كے سامنے اسلامى حكومت كے ذريعے جس حكمرانى كى سچى تصوير پيش كى ہے اس سے اسلامى حكومت كى قيمت كو لوگوں كى نگاہوں ميں بلند كرديتى ہے حتى كہ دشمنوں كى نگاہوں ميں بهى۔اور ہم نے وہاں جاكر اس چيز كا مشاہده كيا ، ہم نے ان كے طرز تعامل كو ديكها ، ان كے رہن سہن اور لباس كو ديكها ، ان كے زہد وتقوى كو ديكها اور دنيا كى لذتوں سے ان كى دورى ديكهى تو ہميں صحابہ كا دور ياد آگيا۔
مزید تفصیل اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1613035738809707&id=100003098884948
💥رافضی ایران کے تعلق سے یہ عالم عرب کے تحریکیوں کے خیالات اور نظریات تھے۔ آیئے دیکھتے ہیں بر صغیری تحریکیوں کے کیا خیالات ہیں۔
1979 میں خمینی انقلاب کے وقت ہی پاکستان سے ابو الاعلی مودودی نے اسے اسلامی انقلاب کا خطاب دیا اور خمینی کی کتاب الحکومة الإسلامية کی خوب تعریف کی۔
دوسرے سال 1980 میں ہندوستان کے اندر جماعت اسلامی نے خصوصی مجلس منعقد کرکے ایران کو عالم اسلام میں ایک سربراہ اور ماڈل رول کی حیثیت سے تشہیر کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس مجلس کے قرارداد کے کچھ الفاظ درج ذیل ہیں:
جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ایران کے اسلامی انقلاب کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ دور جدید میں احیاء اسلام کے خواب کی تعبیر کی تکمیل کی طرف سب سے پہلے قدم ایران نے بڑھایا ہے۔
ایران میں اسلام کے غلبے اور سربلندی کے لئے علماء، قائدین اور مسلم عوام وخواص نے سرفروشانہ اور مجاہدانہ رول ادا کیا اور انقلاب کے استحکام اور نظام اسلامی کے لئے سرگرم عمل میں ان کی خدمات اور قربانیوں کی قبولیت کے لئے مجلس شوریٰ بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہے۔
حوالہ: کتاب قراردادیں ، طبع 1997ص: 436
اللهم دمر جميع من نشر البغضاء والشتائم على أطهر خلقك من أصحاب وزوجات رسولك محمد صلى الله عليه وسلم، ونشر الفوضی والفتن في بلاد المسلمين. واهد من اتبع خطواتهم وانسلك في أدراجهم. اللهم آمين يارب العالمين.
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق