🌐مکار اخوانی اور یہودی دوستی
🛑اخوانیوں کے پیر قرضاوی نے کیوں کہا کہ ہاں میں نے لیبیا اور شام کے خلاف جہاد کا فتوی دیا لیکن اسرائیل کے خلاف نہیں؟!
✔جواب خود اسی کی زبانی سنیں:
1- اس لئے یہود اہل تسامح ہیں یعنی انکے اندر بھائی چارگی پائی جاتی ہے۔
2- وہ ابناء العمومہ ہیں۔۔ یعنی ہم عربوں کے چچیرے بھائی ہیں۔۔
3- وہ موحد ہیں جبکہ عیسائی تثلیثی ہیں۔ مسلمانوںکی طرح وہ بھی خنزیر کو حرام سمجھتے ہیں۔۔ مسلمانوں کی طرح وہ بھی اپنے بچوں کا ختنہ کرتے ہیں۔
4- یہودی ہمارے زیادہ قریب ہیں بمقابل عیسائیوں کے۔
🎴قرضاوی نے جو باتیں یہودیوں اور اسرائیل کے تعلق سے کہی ہے اگر یہی بات کوئی سعودی سلفی عالم کہتا تو یہ ویڈیو کتنے بڑے پیمانے پر یہودی اخوانی اور رافضی میڈیا پھیلاتی اور سلفیوں پر نیز سعودی پر کیسا کیسا الزام لگاتے اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔
🎴اخوانیوں کا پیر کیسے یہودیوں کو عیسائیوں کے مقابل قریب تر بتا رہا ہے اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے۔۔ اور اسی یہودی خنزیرہ چینل پر یہ یہودی نواز گفتگو کرکے قرآنی احکام کی صریح خلاف ورزی کر رہا ہے جس مین کہا گیا ہے کہ یہودیوں کے مقابلے عیسائی زیادہ قریب تر ہیں۔
🎴دوسرے کیسے ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے یہودی موحد ہیں حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے کہ یہودی عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ کیا قرضاوی کے نزدیک یہ شرک نہیں ہے۔ ؟
🎴حالانکہ اینکر کہہ رہا ہے کہ یہود ظالم ہیں مسلمانوں کے قاتل ہیں غاصب ہیں ۔۔ یہ سب سننے کے بعد اس طرح جنزیرہ چینل پر جواب دینا کیا یہ یہودی ایجنٹ کا کام نہیں ہے اور یہ کہ جنزیرہ کے ذریعے یہودیوں کی شبیہ مسلمانوں میں بہتر بنانا ہے؟!
🎴کیا قرآن کی صریح مخالفت اس کرنے والا عالم ہوسکتا ہے۔۔ ؟ جبکہ یہی قرضاوی ہے جسے اخوانی تحریکی اپنا سب سے بڑا عالم سمجھتے ہیں۔ جب یہ انکے بڑے عالم کا حال ہے تو چھوٹے عالموں کا کیا حال ہوگا؟!
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق