الخميس، 14 نوفمبر 2019

اماراتی سول ایوارڈ یا چوں چوں کا مربی؟

🌋اماراتی سول ایوارڈ یا چوں چوں کا مربی؟ آخر کیوں اتنے بڑے پیمانے کیا جا رہا ہے اس کا پرچار؟! 

🛑23/ اگست كو  ہندوستان كے وزير اعظم نريندر مودى نے امارات جاكر وہاں سے سول ايوارڈ حاصل كيا ہے۔
يہ ايک خبر ہے۔ 
ليكن آج كل تحريكى اور رافضى حتى كہ عرب دنيا ميں بهى اخوانى اس خبر كو خوب پهيلا رہےہيں اور اسكا خوب خوب پرچار كررہےہيں۔ بلکہ بہت سے حاقدین  اس ایوارڈ کو امن ایوارڈ اور بہادری کا ایوارڈ بتا رہے ہیں۔

🛑يہ  صرف خبر اس وقت رہتى جب  يہ سول ايوارڈ مودى نے قطر ، عمان، ايران اور تركى سے حاصل كيا ہوتا، چونكہ  اسے مودى نے سعودی اتحادی ملک بلکہ خالص سنى ملک امارات سے حاصل كى ہےاس لئے یہ صرف خبر ہى نہيں بلكہ انہوں نے اسے دين وملت كا سب سےبڑا ايشو بنا بناديا ہے، ايسا لگتاہے كہ امارات ہندوستان  كے تمام سياسى امور ميں يہاں كى مقتدره پارٹى كےساتھ ايك سگے بهائى كى طرح مكمل طور پر شريک ہے۔  

🛑قارئين كرام!  اس سے ان دشمنان  عرب اور دشمنا ن توحيد كا مقصد صرف اور صرف عرب حكام كو بدنا م كرنا ہے اور  انہيں عالم اسلامى كى نگاه ميں بے وقعت ثابت كرنا ہے۔ ورنہ ان حاقدوں اور حاسدوں كو ہم سے زياده پتہ ہے كہ جن ملكوں كا اقتصادى ميدان ميں ايک دوسرے سے گہرا تعلق ہوتاہے وه ايک دوسروں كو اس طرح كا ايوارڈ ديتےرہتےہيں۔ جبكہ امارات اور ہندوستان كا معاملہ دوسرے تمام ملكوں سے جدا ہے، ايک اندازے كے مطابق انوسٹمنٹ ، سياحت اور تجارت كے اعتبار سے امارات دنيا كے سب سے مضبوط اور محفوظ ترين ملک مانا جاتاہے، اور امارات ميں ہندوستانيوں كا انوسٹمنٹ اور معاشى پكڑ پچاس فيصد كے لگ بهگ ہے، اب ايسى صورت ميں امارات سے سول ايوارڑ اگر ہندوستان حاصل نہيں كرےگا تو كيا پاكستان ، قطر ، ايران اور تركى حاصل كريں گے جہاں كى معيشت چرمرا رہى ہے۔ 

🛑ايک چيز يہ بهى واضح رہے كہ يہ ايوارڈ ملک كو ملتا ہے نہ كہ كسى  شخصيت كو ، گرچہ اسے لينے كيلئے ملک كا كوئى بهى نمائنده بن كر لينے جاسكتا ہے، صدر ملک بهى جاسكتاہے ، اسكانائب بهى جاسكتا ہے، وزير اعظم بهى جاسكتا ہے ، اور يہى ايوارڈ وزير داخلہ اور خارجہ بهى لے سكتا ہے، خدا نخواستہ اگر يہى ايوارڈ موجوده ہندوستانى وزير داخلہ لينے چلا جاتا تو صورت حال كيا ہوتى؟ اس لئے صرف  سلجهے دماغ كے قارئين كو بتانا چاہتاہوں كہ وزير اعظم كى حيثيت ايک نمائندے كى ہے۔ 

🛑ميں  نے  ان حاسدوں كو دشمنان عرب جو كہا تو اس كى  ايک وجہ ہے، اس وقت يہوديوں اور صحابہ دشمن شيعہ رافضيوں كا سب سے بڑا ٹارگٹ  ہے عربوں  اور صحابہ كرام كو بدنام كرنا ، جسكے لئے وه زبردست مہم چلا رہےہيں اور     ان كے ان مذموم مقاصد كو اخوانى اور تحريكى بڑے پيمانے پر پورا كرتےہيں، اور جانے انجانے بہت سے سلفى اور تقليدى اہل سنت بهى اس ميں پورى طرح يا كسى حد تک شامل ہيں۔ رافضيوں  اور يہوديوں كا مقصد بالكل واضح ہے كہ جب عربوں اور صحابہ كى اہميت كو ختم كرديا جائے تو اس طرح قرآن وحديث اور حرمين كى وقعت مسلمانوں كے ذہن سے ختم ہوجائے گى اور اس طرح اسلام كى بنياد ہل كر ره جائےگى۔ 

🛑آپ عربى دنيا ميں ٹيوٹر اور فيس بک وغيره پر جاكر ديكهيں عربوں كو اور صحابہ كرام اور ازواج مطہرات كو كيسے كيسے گالياں دى جارہى ہيں، ان كا دفاع صرف اور صرف  اس وقت غيور سلفى  كررہےہيں، يہ سلسلہ آج نہيں بلكہ عباسى دور ہى سے چلا آرہا ہے جب سے شيعہ رافضيوں كا عالم عرب پر اثر ورسوخ بڑهنا شروع ہوا، اور بہت سارے شيعہ اديبوں نے عربوں كى مذمت ميں باقاعده كتابيں لكهيں ہيں ، ليكن اس وقت سارے اہل سنت ان كا جواب ديتےتهے، مجهے اس وقت علامہ البانى رحمہ الله كا قول ياد رآرہا ہے جنہوں نے كہا تها كہ ميں عربى نہيں ہوں ليكن مجهےاپنى قوم سے زياده  عربوں سے محبت ہے ، كيونكہ انہيں كےاندر الله سبحانہ وتعالى نے  ہمارى رہنمائى كيلئے ہمارے رسول  محمد عربى صلى الله عليہ وسلم كو منتخب فرمايا، آخرى كتاب قرآن حكيم كو انہيں كى زبان ميں اتارا، اور كتاب وسنت كے سارے حاملين اور انہيں ہم تک پہونچانے والے صحابہ كرام كى پاكيزه ہستياں  يہى عرب تهے۔ ہمارے خلفائے راشدين عرب تهے، بنو اميہ عرب تهے جنہوں نے اسلام كا جهنڈا پورى دنيا ميں لہرايا ، مغربى يورپ سے  ايشيا كے مشرق بعيد تک اور افريقيا كے مغرب سے ليكر روس  تک۔

🛑علامہ ابن تيميہ ، ابن قتيبہ ، ابو عبيد قاسم بن سلام اور علامہ ابو زكريا ابن فارس   كے كلام كو پڑهيں، كيسے ان ہستيوں نے عربوں كا دفاع كيا اور يہ ثابت كيا كہ ان سے محبت دين كا حصہ ہے ، آخر انصار ومہاجرين كون تهے جنہوں نے دين كى خاطر اپنا سب كچھ لٹا ديا ، اور  اہل بيت رسول  كى ہستياں كيا شرك وبدعت  كے گڑھ  رافضى ايران اور  برصغير كى تهيں؟

🛑دوسرى بات يہ کہ يہى نريندر مودى اگر رافضى اور تحريكى گڑھ  ايران جائے اور وہاں اسلامى ملكوں كےخلاف ايک دوسرے سے سياسى ، معاشى اور عسكرى ايجنڈے طے پائيں ، تو اس خبر كو خبر بهى مان كر نہ پهيلاياجائے، يہى جناب اخوانيوں كے گڑھ قطر جائيں معاشى اور سياسى ميدانوں ميں شراكت دارى كو مضبوط كرنے  تو اسے  سياسى مسئلہ كہہ كر اڑا ديا جائے، اور اگر يہى جناب اردگان سے زوردار معانقہ كريں اور اخوان كى خاتون اول امينہ كے بغل ميں بيٹھيں تو بهى اسے سياست كہہ كر اڑاديا جائے، اور تو اور ان كے واحد مسيحا اردگان اگر يہودى تنظيم سے جاكر سول ايوارڈ نہيں بلكہ بہادرى كا ايوارڈ حاصل كريں تو بھی یہ حاقدین اسے حلوہ کی طرح ہضم کرلیں۔۔۔۔!!!

🛑چنانچہ ان ٹحریکیوں رافضیوں اور اخوانیوں پر جب سے سعودی امارات اور بحرین کے اندر شکنجا کسا گیا اور انہیں اپنی متشدد فکر کی ترویج سے روکا گیا اسی وقت سے یہ انکے خلاف ہر معمولی بات کو لیکر اگر مل گیا تو ورنہ جھوٹی ہی بات کو گڑھ کر انکے خلاف پروپیگنڈہ کرتے پھرتے ہیں، 2015 سے پہلے آپ اس طرح کا پروپیگنڈہ نہیں دیکھیں گے؟ کیا اس سے پہلے عرب حکمران خلفائے راشدین کی طرح تھے؟ نہیں ، بلکہ ان دشمنان توحید کو کھلی چھوٹ تھی ، ان کا اثر و رسوخ حکومت کے ایوانوں تک تھا، یہ کھلے بند جو چاہتے تھے کرتے تھے۔

🛑لیکن جب انکی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں اور ابلیس بہاریہ کے نام پر عرب حکومتوں کو تہ وبالا کرنا شروع کردیا تو جاکر عرب حکمرانوں کو ہوش ٹھکانے آئی اور ان کا علاج کرنا شروع کیا، لیکن بہت دیر ہوچکی تھی، یہ فسادی خلیج عرب میں کویت، بحرین اور یمن تک پہونچ چکے تھے، لیکن دیر ہی سہی عربوں کے متحد ہو جانے سے ان کے فساد سے خلیجی ممالک بچ گئے اور انہیں یمن ، مصر اور بحرین میں کچل دیا گیا۔۔ سوڈان جزائر اور لیبیا میں آخری سانس لے رہے ہیں، اللہ وہاں کی حکومتوں اور عوام کو بھی ان کے شرور وفتن سے محفوظ رکھے۔۔ 

🛑اسی لئے اسی وقت سے یہ بلبلا رہے ہیں، اور سعودی اور اسکے اتحادیوں کے خلاف شب وروز پروپیگنڈے کر رہے ہیں، 

🛑كچھ لوگ كہتےہيں كہ عرب، ترک اور ایرانی سب ايک ہيں، حکمرانوں سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے،  يہ بالكل غلط ہے، چاہے ترک عوام ہو یا ایرانی یا بر صغیری سب کے اندر دشمنان توحید نے عربوں کے خلاف بغض و عناد بھر دیا ہے ، سوائے توحید کے متوالوں کے جو دشمنان توحید اور انکے دم چھلوں کے رگ وریشے سے اچھی طرح واقف ہیں۔۔

🛑ایک اردگان مخالف ترک یہ سوال کر رہا ہے کہ آخر اردگان کو یہودیوں نے کس کارنامے کے صلہ میں بہادری کے تمغہ سے نوازا ہے؟ کیا کوئی اردگان پرست تحریکی اس کا جواب دے سکتا ہے؟ 
نیز اردگان  کے دورہ ہند کے موقع پر جب ہندوستان نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ انڈیا اور پاکستان کا آپسی معاملہ ہے، تو اردگان نے اس پر صاد کیا اور کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ہندوستان کے ساتھ ہیں؟ تحریکیوں کے بہادر خلیفہ کی ہوا اکھڑ گئی، پھر بھی وہ خلیفہ ہے: 
https://www.google.com/amp/s/m.hindustantimes.com/india-news/kashmir-a-bilateral-issue-with-pakistan-india-tells-turkish-president-erdogan/story-cgV9TTPgrbIQwBnOYfFjYJ_amp.html


تحریکی اپنے آقا سید مودودی کے یار غار خمینی کے دیش کی اس ویڈیو کا پرچار کبھی نہیں کریں گے، انہیں تو انکے مرشدوں نے صرف عرب دشمنی ہی سکھائی ہے !!!!

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...