💥اخوانیوں کے مجدد دین وملت حسن ترابی کی کارستانی💥
حسن ترابی سوڈانی کی شخصیت اخوانیوں کے یہاں خود متنازع رہی ہے جنہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کر کے تدریسی خدمات انجام دیا پھر سیاست میں آکر اخوانیت کو گلے لگایا جہاں پہونچتے ہی شریعت کے ماہر بن بیٹھے اور مختلف فنون میں کتابوں کو لکھنا شروع کر دیا اور جن میں تحریکی گمراہیوں کا ایک پٹارہ چھوڑ دیا اس کے باوجود اکثر اخوانی حسن ترابی کو مجدد ملت سے کم نہیں سمجھتے ہیں۔ اردگان نے بھی 2016 میں وفات سے پہلے تجدید دین کی خدمت کے صلے میں ایک نادر مصحف کے ساتھ کچھ قیمتی ہدایا بھیجے تھے۔
یہی حسن ترابی ہیں جنہوں نے ملک سے غداری کرتے ہوئے عیسائی رہنما جون قرنق John Garang سے ہاتھ ملا لیا جس کی پاداش میں جیل جانا پڑا تھا کیونکہ اسی کی کوشش سے سوڈان دو لخت ہو گیا اور جنوبی سوڈان کا ایک بڑا زرخیز علاقہ ملک سے کٹ کر الگ ہوگیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیں یہ ویب سائٹ:
https://www.marefa.org/جون_قرنق
تجدید دین کے نام پر حسن ترابی نے کس قدر گمراہ کن افکار ونظریات مسلمانوں کے اندر چھوڑ رکھا ہے آئیے جناب ندیم اختر مقیم سودیہ کی جہود کی روشنی میں ایک مختصر جائزے کا مطالعہ کریں:
1- ایک مسلم کو اپنے دین سے مرتد ہونے کا جواز۔(جريدة المحرر عدد 263 في 24/2/1415هـ)
2- سارے سماوی دین کو بنام "اہل کتاب" ایک ہی دین سے موسوم کرنے کی دعوت۔(مجلة الوعي عدد 93 ص24)
3- قرآن وسنت میں جو کچھ ہے اس کو کافی نہ سمجھنے کا اعتقاد، اور زمانہ کے لحاظ سے فقہ جدید کی ضرورت۔(تجديد الفكر الإسلامي ص25)
4- دین کا زمانہٴ نبوت کے ساتھ کسی بھی دور میں نا مکمل اور اپنی آخری شکل میں موجود نہ ہونے کا اعتقاد۔ (تجديد الفكر ص38)
5- کتاب وسنت کے بنیادی اصول میں تبدیلی کی دعوت، اور عقیدہ وشریعت کی تطویر (تشکیل نو میں ) فکر ِ اعتزال کی دعوت۔(مجلة المجتمع الكويتية عدد 573)
6-علمی (یعنی سائنس وغیرہ کے متعلق) امور میں قول رسول پر کسی بھی کافر کے قول کو مقدم کرنے کا جواز! (محاضرة له بجامعة الخرطوم بتاريخ 22/10/1402هـ)
7- قرآن کی نبوی تفسیر پر یہ کہتے ہوئے طعن کرنا کہ وہ ہماری طرح انسان تھے ، انہوں نے زمانہ کے لحاظ سے قرآن کی تفسیر نہ کی کیونکہ انہیں آج کے زمانہ کی معرفت نہ تھی۔(محاضرة له بجامعة الخرطوم في 1/12/1415هـ)
8- قرآن کی تفسیر جدید کی دعوت۔ (المرأة بين تعاليم الدين وتقاليد المجتمع ص27)
9- معیار حق کو بدلنے کی دعوت کہ ہزار سال پہلے جو حق تھا ہوسکتا ہے وہ ابھی باطل ہوجائے، اور ہزار سال پہلے جو باطل تھا ممکن ہے وہ حق ہوجائے۔(تجديد أصول الفقه ص9)
10- عقائد سلف کو چھوڑ کر نئے عقیدہ کی دعوت۔(تجديد الفكر الإسلامي ص24-25)
11- عصری تقاضوں کے مطابق تطویر ِ دین (یعنی از سرِ نو تشکیل دین کی ضرورت) ، تبدیلیٴ احکام اور اس کو آسان بنانے کی ضرورت کی دعوت۔(تجديد الفكر الإسلامي ص132)
12- کتاب وسنت اور اجماع کی مخالفت کرتے ہوئے کسی مسلمان عورت کا یہودی یا نصرانی سے شادی کو جائز قرار دینا۔(مجلة الإرشاد اليمنية، محرم وصفر 1408ه)
13- ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر کا تصور اوہام وخرافات ہے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں! (جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
14- حضرت عیسی علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ ظہور ہونے والی بات درست نہیں۔(جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
15- شراب پینا جرم نہیں، الا یہ کہ وہ ظلم وزیادتی کا سبب بن جائے! (جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427ه)
16- حجاب صرف ازواج ِ مطہرات پر واجب تھا! (المرأة بين تعاليم الدين وتقاليد المجتمع ص27)
17- نماز میں مردوں کے لئے عورت کی امامت کے جواز کا فتویٰ اور یہ کہ عورت مرد کے بازو میں ٹھہر کا نماز ادا کرسکتی ہے۔(جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
18- کتب تفاسیر پر طعن کرنا، اور یہ کہنا کہ یہ ساری کتابیں قصّے، کہانیاں اور شخصی آراء پر مبنی ہیں۔(محاضرة له بجامعة الخرطوم في 1/12/1415هـ)
19- جنت میں حور عین کے وجود کا انکار ۔(جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
******************************************
یہ اور ان جیسے دیگر سیاہ افکار کے بطلان پر قرآن وحدیث سے دلائل کی چنداں ضرورت نہیں،دین سے تعلق رکھنے والا ادنی سا طالب علم بھی ان افکار کی گمراہی کو سمجھ سکتا ہے۔ علماء سے دور رہ کر صرف زبان و بیان کے بل پر دین پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے کسی بھی شخص کی جھولی میں اسی طرح کے گمراہ کن خیالات پڑے رہتے ہیں۔ حسن ترابی کے مذکورہ افکار کو علامہ الشیخ عبد الرحمن بن سعد الشثری حفظہ اللہ نے اپنے ایک مضمون (ضلالات د. حسن بن عبد الله الترابي) میں مکمل حوالے کے ساتھ ذکر کیا ہے، جسے حوالہ چاہئے وہ شیخ کا مضمون پڑھ لے۔حسن ترابی کوئی نیا "مجدد" نہیں، اس سے پہلے بھی تحریکیوں کے کئی مجددین دینا سے تجدیدِ دین یعنی " تحریف ِ دین" کا تمغہ لے کر رخصت ہوگئے۔ ان مجددوں نے بھی صرف زبان کا سہارا لے کر دین کی تشریح کر ڈالی، اقوال صحابہ، اقوال فقہاء اور محدثین کو دین کی تشریح وتعبیر میں ذرا بھی لائق اعتناء نہ سمجھا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دین آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور تا قیامت رہے گا، دین کی تشریح میں اپنی من مانی کرنے والوں کو تاریخ نے کبھی بھی معاف نہیں کیا۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق