💥ائمہ حرمين كا سوشل ميڈيا پر كوئى اكاونٹ نہيں ہے💥
جى ہاں فى الحال بہت ساری انٹی سعودی فیک خبروں کی طرح یہ خبر بھی پهيلائى جارہى ہے كہ حرم مكى كے امام شيخ شريم كے ٹيوٹر اكاونٹ كو حكومت كى طرف سے بند كر ديا گيا ہے۔ اور اس كا سبب بتايا جارہا ہے كہ ان كے فالوور لاكهوں ميں ہوچكے تهے اس لئے حكومت كو خدشہ ہوگيا تها اور اسى وجہ سے شيخ عوده كو گرفتار كيا گيا تها كيونكہ ٹيوٹر پر ان كے چوده ملين سے زياده فالوور تهے۔
در اصل يہ بهى رافضيوں اور تحريكيوں كى طرف سے پهيلائے جارہے پروپيگنڈوں كا ايك حصہ ہے ۔ الجزيره ٹى وى چينل اور بى بى سى سے ہوتے ہوئے بر صغيرى تحريكيوں تك ايسى خبريں پہونچتى رہتى ہيں اور پهر يہ پورى دنيا ميں پھيلانے كى ذميدارى لے ليتے ہيں۔لگتا ہے کچھ تحریکی اور تقلیدی باقاعدہ اس کا ٹھیکہ لئے ہوئے ہیں۔
💥آج ہى الرياض روزنامہ ميں سركارى طور پر يہ بيان آيا ہے كہ ائمہ حرمين ميں سے كسى كے نام سے سوشل ميڈيا پر كوئى اكاونٹ نہيں ہے۔ مناسب سمجهتا ہوں كہ وه پورا بيان نوٹ كردوں :
((أكد المتحدث الرسمي بالرئاسة العامة لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي الأستاذ أحمد بن محمد المنصوري بأنه لا يوجد أي حسابات لأئمة الحرمين الشريفين في مواقع التواصل الاجتماعي ونظرًا لما للحرمين الشريفين من مكانة عظيمة ولما لأصحاب الفضيلة الأئمة من منزلة كريمة وحيث أن بعض هذه المواقع تعمد إلى التشويش والإثارة والبلبلة وتعج بإثارة موضوعات جدلية تخضع لتأويلات متباينة لها تأثيرات سلبية على وحدة الأمة واجتماعها على الكتاب والسنة فلذلك وتحقيقاً للمصلحة العامة وحفاظاً على شرف الإمامة وعلى مكانة الأئمة في نفوس المسلمين جميعاً فإن الرئاسة تؤكد بأنه لاتوجد أي حسابات لأصحاب الفضيلة الأئمة وما يوجد من حسابات فهي وهمية غير رسمية لاتمثل الأئمة.))
ترجمہ: حرمين كى طرف سے سركارى نمائندے استاذ احمد بن محمد منصورى نے يہ تاكيد سے كہا ہے كہ سوشل ميڈيا پر ائمہ حرمين ميں سے كسى كا كوئى اكاونٹ نہيں ہے۔ چونكہ حرمين شريفين كى شان بہت بڑى ہے اور وہاں كے ائمہ كا مقام بهى بلند ہے۔ اور سوشل ميڈيا پر ايسے متنازعہ فيہ اور سياسى موضوعات اٹھائے جاتے ہيں جو تشويش كا باعث اور وحدت اسلامى اور كتاب وسنت پر مبنى اتحاد كيلئے خطره ہوتے ہيں۔ اسى لئے ان محترم ائمہ كا كوئى اكاونٹ نہيں كهولا گيا ہے ، اور اگر ان ميں سے كسى كے نام سے كوئى اكاونٹ پايا جاتا ہے تو اسے وہمى غير سركارى مشتبہ مانا جائے گا ، اسے ان ائمہ كا اكاونٹ نہيں مانا جائے گا۔ ديكهيں يہ ويب سائٹ:
http://www.alriyadh.com/1673751
💥ويسےعربى اخبار وں كے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے كہ سوشل ميڈيا اور بعض اخبار ميں چند شبہات كا اظہار كيا جا رہا ہے جو درج ذيل ہيں:
1- شيخ شريم كے ٹيوٹر اكاونٹ پر جانے سے جس طرح وہاں پيغام آرہاہے كہ ابهى يہ كام نہيں كر رہا ہے اس سے لگتا ہے كہ اكاونٹ كو خود شيخ شريم نے بند كرديا ہے۔ كيونكہ اس طرح بغير كسى پيشگى اطلاع كے كئى بار وقتى طور پر آپ كا اكاونٹ بند ہوا ہے۔
2- ہوسكتا ہے بطور تنبيہ كے حكومت كى طرف سے بند كيا گيا ہو ۔ الجزيره نے اسى موقف كو ليكر خبر لگاكر پورى دنيا ميں پھيلائى ہے ۔اور يہ وجہ بتائى ہے كہ موجوده حكومت كى پاليسيوں كے خلاف يہ لكھتے رہتے تهے۔ اور اسى بنياد پر 2016 ميں بہت سارے غيور علماء ودعاة كو پابند سلاسل كرديا ہے۔ بہر حال يہ ایک منظم سعودی کے خلاف پروپیگنڈہ ہے ۔ رافضى اور اخوانى يہى كہيں گے چاہے وجہ كچھ بهى ہو۔
ديكهيں اسكى ويب سائٹ كو:
http://aljazeera.net/news/arabic/2018/4/6/إيقاف-حساب-الشريم-يشعل-تويتر
3- سعودى عرب كے خلاف اس وقت بہت سارے فيك اكاونٹ بناكر پروپيگنڈه پهيلايا جا رہا ہے۔ اس لئے حكومت كى طرف سے ذرا سا شبہ ہونے پر كسى بهى اكاونٹ كو بند كرديا جاتا ہے يہاں تك کہ خود صاحب اكاونٹ آفس ميں جاكر اسكى وضاحت نامہ نہ پيش كردے۔ ہوسكتا ہے شيخ شريم كے نام پر جعلى اكاونٹ بنے ہوں اور ان كے ذريعے حكومت كى پاليسيوں كے خلاف باتيں شيئر كى جاتى ہوں ۔ اس لئے اس قانون كے تحت آپ كے نام پر يہ اكاونٹ بهى بند كر ديا گيا ہے۔
سعودى مخالف پروپیگنڈے پر پیش ہے ایک مختصر جائزہ:
- دس ہزار 10000 ویب سائٹ ایسے ہیں جو برابر سعودی مخالف پروپیگنڈوں کیلئے وقف ہیں۔
- گزشتہ سال کے آخری تین مہینوں میں صرف قطر سے سعودی کے خلاف بیس ہزار 20000 جھوٹی خبریں نشر کی گئیں۔
- تیئیس ہزار 23000 اکاؤنٹ ٹوئٹر پر ایسے ہیں جہاں سے سعودی کے خلاف فی منٹ نوے 90 ٹویٹ مسلسل کئے جا رہے ہیں۔
- قطری ذرائع ابلاغ کی اڑھتالیس 48% فیصد خبریں سعودی عرب کے خلاف ہوتی ہیں۔
- اخبارات، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ پینتیس 35 ایرانی ٹی وی چینل ایسے ہیں جو صرف سعودی دشمنی میں خبریں پھیلانے کیلئے خاص ہیں۔
- الجزیرہ ٹی وی چین اور بی بی سی لندن کے علاوہ کچھ عراقی، لبنانی، شامی، افغانی اور پاکستانی ایسے چینل ہیں جو برابر سعودی مخالف خبریں نشر کرتے رہتے ہیں۔
4- رئاسة الحرمين كميٹى كى طرف سے 2016 ہى ميں يہ قانون بنايا گيا تها كہ ائمہ حرمين ميں كسى كے لئے يہ مناسب نہيں ہے كہ وه سوشل ميڈيا ميں اپنے نام سے كوئى اكاونٹ كهولے ۔ كيونكہ ائمہ حرمين كى شان اس سے كہيں بلند ہے كہ مختلف قسم كے لوگ ان پر ردود اور طنز لكهيں جس سے ان كى شخصيت مجروح ہو۔ جیسا کہ اوپر سرکاری بیان میں اس کی وضاحت آچکی ہے۔
💥ماء زمزم کے تعلق سے بھی اس وقت تحریکیوں اور رافضیوں کی طرف سے ایک جھوٹی خبر پھیلائی جا رہی ہے۔ جس کا جواب مدینہ میں مقیم جناب فردوس جمال نے دیا ہے۔ دیکھیں اس لنک کو:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=570808683299846&id=100011121576859
اللہ بلاد حرمین شریفین کو بد خواہوں کی نظر بد سے محفوظ رکھے۔ آمین
(ڈاکٹر اجمل منظور)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1619456778167603&id=100003098884948
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق