🎪جدید تکفیریت و خارجیت کا بانی کون؟🎪
✍ -اویس خان سواتی
💥جیسے اسلامی تاریخ کے اولین خوارج نے اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا اللہ کا نعرہ لگا کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی مقدس ہستیوں کو بھی کافر قرار دے ڈالا اور بالخصوص سیدنا علی بن ابی طالب ؓ اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ؓ کو کھلم کھلا کافر کہا, ٹھیک ویسے ہی آج کے خوارج ایک آیت کی آڑ لے کر مسلم حکمرانوں اور عوام کی تکفیر کرتے پھرتے ہیں حلانکہ وہ آیت [ ’’اور جو لوگ اُس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللّٰہ نے نازل کیا ہے ، ایسے لوگ ہی تو کافر ہیں۔‘‘(المائدہ آیت ۴۴) ] کفار (یہود) کے متعلق نازل ہوئی ھے-! تفصیل کیلئے دیکھیئے: صحیح مسلم : 4339
لیکن آج کل کے خوارج اس کی تاویلات کر کے اور مختلف تشریحات کے ذریعے اسے مسلمانوں پر فٹ کرتے ہیں, اسکا بہترین جواب آج کے خوارج کیلئے وہی ھے جو سیدنا علی ؓ نے انکے روحانی اجداد کو اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا اللہ کی آڑ میں تکفیر پر دیا تھا کہ: ‘‘ کلمۃ حق أرید بھا باطل’’-
(یہ ) کلمہ حق ہے لیکن ان کا ارادہ اس سے باطل ہے۔
(مسلم: ۱۵۷؍۱۰۶۶و ترقیم دارالسلام: ۲۴۶۸)
لیکن سوال یہ ھے کہ اس دور میں خارجیت کو یہ طریقہ واردات فراہم کرنے والی فکر کسی کی ھے, کون ھے جس کی فکر سے خارجیت آکسیجن حاصل کر رھی ھے——!
💥تو جناب سن لیجئے کہ وہ شخصیت ہیں اخوان المسلمون کے سرخیل جناب “سید قطب” -!
اپنے دعوے کے اثبات میں متعدد دلائل پیش کر سکتا ہوں مگر مجھے موصوف پر فتوی نہیں لگانا ورنہ تکفیر کیلئے موصوف کا خلق قرآن, وحدت الوجود کا قائل ہونا, توحید حاکمیت و توحید الوہیت میں تمیز نہ کرنا, قرآنی آیات کی تفسیر موسیقی, نغموں و ترانوں کے پیرائے پر کرنا, موسی علیہ السلام کو متعصب کہنا, اصحاب رسول کی گستاخی و تکفیر کرنا, حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرنا, قرآنی آیات کو تفسیر کے ذریعے غلط رنگ دینا, اسلامی معاشروں کی تکفیر اور اسلام کو عیسائیت و کمیونزم کا مرکب قرار دینے جیسے کفریہ عقائد و افکار ہی کافی ہیں-!
لیکن مجھے موصوف کی تکفیر میں موصوف کی جہالت مانع ھے, میرا وہی موقف ھے جو موصوف کے متعلق اہل علم کا موقف ھے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو ان سے توبہ کرائی جاتی بصورت دیگر انہیں ارتداد کی حد میں قتل کیا جاتا-! لیکن چونکہ میرا مقصد فتوی دینا نہیں یا موصوف کی تکفیر نہیں بلکہ انکی تکفیری فکر کو جدید خوارج کی بنیاد ثابت کرنا ہے لہذا میں بحث سمیٹتے ہوئے اپنے دعوے کے اثبات میں گھر کی گواہی پیش کرتا ہوں-! اخوانی لیڈر ﻓﺮﯾﺪ ﻋﺒﺪﻟﺨﺎﻟﻖ “ ﺍﺧﻮﺍﻥ ﺍﻟﻤﺴﻠﻤﯿﻦ ﻓﯽ ﻣﯿﺰﺍﻥ ﺍﻟﺤﻖ ” ﺹ 115 پر فرماتے ہیں:
” ﺗﮑﻔﯿﺮﯼ ﻓﮑﺮ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﻗﻨﺎﻃﺮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟﻗﯿﺪ ﺍﺧﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯﭘﭽﺎﺳﻮﯾﮟ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟﺍﻭﺭ ﺳﺎﭨﮭﻮﯾﮟ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟﮐﻮﺋﯽ۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺳﯿﺪ ﻗﻄﺐ ﮐﯽ ﻓﮑﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﻟﯿﻔﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺘﺐ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ( ﻗﺒﻞ ﺍﺯﺍﺳﻼﻡ ) ﻋﮩﺪ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻨﮩﻮﮞ نےﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻧﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﺤﮑﻮﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﯿﮟ تو ﯾﮩﯽ ﺣﮑﻢ ﻣﺤﮑﻮﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ” ۔
جی-! اور یہی وہ “بعض اخوانی نوجوان” تھے کہ جنہوں نے آگے چل کر الجماعة الاسلامیہ اور الجہاد الاسلامیہ المصر جیسی شدت پسند تکفیری جماعتیں بنائیں جنہوں نے مرصی صدور جمال عبدالناصر اور انور سادات کے خلاف نہ صرف خروج کیا بلک انہیں قتل بھی کیا-!
انور سادات کے قتل میں گرفتار سینکڑوں اخوانیوں میں “ایمن الظواھری” بھی شامل تھا, جو سید قطب کے بھائی محمد قطب کا شاگرد ھے-! اس ہی نے آگے چل کر اپنے “قطب زدہ” ہمنواوں کے ساتھ مل کر القائدہ بنائی اور پھر جو گل القائدہ نے کھلائے وہ سب جانتے ہیں—! اور آخر میں اس ہی القائدہ کے گماشتوں نے داعش بھی بنا ڈالی-!
جو لوگ میری بات سے اختلاف کرنا چاہیں وہ شوق سے کریں لیکن اس حقیقت کا انکار وہ قطعی نہیں کر سکتے “سید قطب ہی جدید تکفیریت و خارجیت کا بانی ہیں”-! اور اخوان المسلمون انکا مشترکہ نظریاتی پلٹ فارم ھے, داعشیوں نے سید قطب کے اصولوں کی بنیاد پر مرسی کی تکفیر تو کی مگر سید قطب کی نہیں! کیونکہ موصوف امام تکفیریت ہیں——–!
____________________________________________
✍*حافظ رشید ودود ہندی کے قلم سے.*
💥'معالم فی الطريق، سید قطب کی وہ کتاب ہے، جسے تحریکی اور اخوانی حلقے میں 'بائیبل، کا درجہ حاصل ہے، فی ظلال القرآن کا نچوڑ سید نے اس کتاب میں پیش کر دیا ہے، اس کا اردو ترجمہ خلیل احمد حامدی نے 'جادہ و منزل، کے نام سے کیا ہے، یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ جب کتابوں میں ہم بھی گلاب رکھتے تھے، تب ہم نے بھی اس کتاب کو نہ صرف حرز جاں بنا رکھا تھا بلکہ یہ ہماری نظر میں کسی متن سے کم بھی نہیں تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ابھی پچھلے دنوں ایک ایسے عزیز دوست کو جسے ہم نے استاذ کا درجہ دے رکھا ہے لکھا تھا کہ
'السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میں تحریکی کبھی نہیں رہا، لیکن برسوں تک تحریکی لٹریچر کے متآثرین میں رہا، میرا معاملہ عجیب و غریب رہا ہے، ایک طرف مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کا مطالعہ جاری ہے تو دوسری طرف منٹو اور عصمت کو بھی پڑھنا نہیں چھوڑا، اس کے علاوہ شاہنواز فاروقی اور اوریا مقبول جان جیسوں کو بھی جم کر پڑھتا تھا اور نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ پوری دنیا کو طاغوت سمجھتا تھا، زید حامد اور ڈاکٹر اسرار کو سن سن کر عالمی خلافت کا خواب بھی دیکھا لیکن جب مولانا آزاد، سید عابد حسین، پروفیسر مجیب، مشیرالحق، مشیرالحسن اور وحیدالدین خان نے میرے دماغ کی بند کھڑکیوں کو کھول دیا، اب میں بھی بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا، حالانکہ اقبال کی سیاسی فکر کا میں کٹر مخالف ہوں-
ہمارے دوست نے جواب دیا:
'ہم بھی کبھی گھوڑے پر سوار ہاتھ میں تلوار دشت تو دشت دریا بھی پار کرنے والوں میں تھے، اللہ کا شکر ہے کچھ اساتذہ نے ہمارا دماغ ٹھکانے لگا دیا، ہمارے ایک استاد اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی درجات عطا کرے، مجھے انتہاپسندی کے فلسفے سے واقف کروایا، ان کے پاس تقسیم ہند سے لیکر موجودہ پاکستان اور آر ایس ایس اخوان القاعدہ جیسی تنظیموں پر اس قدر جاندار دلائل تھے کے ہمارے جوش کو ٹھنڈا ہی کردیا اور آج ہم سب سے پہلے انتہاپسندی کو اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں-
گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھا، ہم نے لکھا کہ
سید قطب کو میں حتی الامکان بہت پڑھا ہے، میری اپنی رائے یہ ہے کہ سید نے اخوان المسلمون کو ہائی جیک کر لیا تھا، حالانکہ حسن البنا سیدھے سادے صوفی تھے، سید قطب کے لٹریچر نے بطور خاص فی ظلال القرآن نے اخوانیوں میں خارجی فکر پیدا کیا، سید نے اخوانیوں کو سمجھایا کہ حق پر صرف ہم ہیں، باقی طاغوت ہیں، نجیب اور ناصر کے انقلاب میں اخوان ہراول دستہ تھے، وہ کون سے اسباب تھے کہ فوجی ٹولے نے اخوان کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھنا شروع کیا، یہ عقدہ حل ہوتے ہی بہتیرے حقائق کھل کر سامنے آ جایئں گے، پھر سید کی معالم فی الطریق جو اخوانیوں کا بائیبل ہے، یہ کتاب تو واقعی بہت خطرناک ہے، بعد میں اخوان نے سدھار کی کوشش کی لیکن پھر اخوان کے اندرون ہی سے بغاوت ہوئی اور التکفیر والہجرہ جیسی خارجی تنظیم وجود میں آئی
ہمارے دوست نے ہماری تایئد کچھ یوں کی:
بلکل درست کہا رشید بھائی! یہاں فلسفہ ہی الٹا کر دیا اخوانیوں نے، ہنستی کھیلتی ریاستوں کو داخلی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے، سارے مسلمانوں کو دو حصوں میں بانٹ کر لڑایا جائے، مرے مسلم، مارے بھی مسلمان، مارنے والا بھی اللہ ہو اکبر کہے، مرنے والا بھی اللہ ہو اکبر کہے العجب؟
بات بڑھتی گئی، ہم نے پھر لکھا کہ
قذافی دودھ کا دھلا نہیں تھا لیکن قذافی کے ڈنڈے نے لیبیائ قبائل کو قابو میں کر رکھا تھا، قرضاوی صاحب کا فتوی آیا کہ قذافی کو قتل کر دو، قذافی کے قتل میں اخوانیوں کو عالمی ایجنسیوں نے بری طرح سے ماموں بنایا، آج لیبیا آتش فشاں کے دہانے پر ہے، ملک تقسیم در تقسیم کے دہانے پر ہے-
بنا کسی تیاری کے شامی عوام کو بھی جنگ میں جھونک دیا گیا اور اخوانی قیادت آج بھی ترکی کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں مزے اڑا رہی ہے، اس امید پر کہ کبھی نہ کبھی تو امید بر ہی آئے گی-
ایسے میں جب اپنے سیکولر ہندوستان کو دیکھتا ہوں تو واقعی اپنے سیکولر ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے-
عزیز دوست جواب میں کہنے لگے کہ
'اور مزے کی بات نارتھ کوریا کو ایک ٹرانسفر کرنے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور اخوانیوں کی فنڈنگ دنیا بھر میں ہوتی ہے، میں نے اللہ کی مشیت پر قناعت کرلی ہے
اللہ نے خلافت کو ہمارا نصیب صرف قرون وسطٰی تک کیا
بعد ملوکیت اور جہاں مسلم اکثریت نہیں وہاں اللہ کی نعمت سیکولرزم ہے، وہ سب سے کار ساز ہے-
یہ دو ایسے دوستوں کی گفتگو ہے، جن کے خیالات میں ہم آہنگی ہے، وہ کیسے کہا ہے اقبال نے
گفتار کے اسلوب پر قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق