الاثنين، 22 أكتوبر 2018

🎪مودودی کی زبان دانی اور بھکتوں کی خوش فہمی

🎪مودودی کی زبان دانی اور بھکتوں کی خوش فہمی

☀️مودودی کے ایک اندھ بھکت پرستار نے مودودی کا موازنہ ابن تیمیہ سے کرکے مودودی کو ابن تیمیہ سے آگے بڑھا دیا ہے۔۔ جناب لکھتے ہیں:
"لیکن ابن تیمیہ کی جدوجہد عرب تک ہی محدود تھی کیونکہ وہ صرف کیونکہ وہ صرف عربی زبان پر ہی عبور رکھتے تھے جبکہ مولانا مودودی عربی فارسی کے علاوہ اردو ہندی انگلش پر بھی دسترس رکھتے تھے۔۔۔۔"

👈سوال یہ ہے کہ زیادہ زبانیں جاننے سے کیا آدمی کا دائرہ اثر بڑھ جاتا ہے؟! 
یہ تاریخ سے نابلد ہونے اور اندھ بھکت ہونے کی دلیل ہے۔۔۔ آخر پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی زبانوں پر دسترس حاصل تھا جن کا اثر پوری دنیا میں ہے۔
✔یہی ایک مثال کافی ہے۔۔۔ مودودی کو بے جا ابن تیمیہ پر فوقیت دینے میں۔۔۔ مزید یہ انتہا ابلہہ پنی کی مثال بھی ہے۔۔۔ 

✔دوسری بات یہ کہ ابن تیمیہ نے کتاب وسنت پر مبنی جس منہج کو اپنایا اور اپنے پیچھے جتنے شاگرد چھوڑے مزید آپ نے دین کی دعوت وتبلیغ ۔۔ فتوی وفتاوے اور جہاد میں جو حصہ لیا مودودی اس کا عشر عشیر بھی نہیں پہونچ سکتے جنہوں نے منہج سلف کو چھوڑ کر عقل پرستی کو اپنا منہج بنایا۔۔ 
ابن تیمیہ نے درء تعارض العقل و النقل جو فلسفہ کے رد میں لکھ دی ہے وہ مودودی کے سر کے اوپر کی بات ہے اور منہاج السنہ جو روافض کے رد میں لکھ دی ہے اس کی بو تک بھی مودودی نہیں پہونچ سکتے۔ 

✔تیسری بات یہ کہ کیا مودودی کو ان تمام زبانوں پر دسترس حاصل تھا جس کا دعوی جناب نے کیا ہے؟؟؟ 
دراصل کسی زبان کو پڑھ لینا اور سمجھ لینا الگ چیز ہے اور کسی زبان میں دسترس رکھنا الگ چیز ہے مودودی کو عربی آتی تھی اسے سمجھ لیتے تھے مگر دسترس نہیں تھی اگر ہوتی تو راولپنڈی پاکستان میں" دار العروبة " قائم کرنے کی ضرورت نہ تھی جہاں مولانا مسعود عالم ندوی اور مولانا عبد المجید اصلاحی ان کی کتابوں کو عربی میں منتقل کرتے تھے۔ بلکہ خود مولانا علی میاں ندوی کی طرح اردو کے ساتھ عربی میں بھی لکھتے گرچہ ایک دو کتاب ہی سہی۔۔۔
 اور یہی وجہ ہے کہ مودودی نے عربی میں کوئی کتاب نہیں لکھی ہے۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ جب عرب دورے پر جاتے تھے تو اپنا مترجم ساتھ میں رکھتے تھے۔۔۔۔ 

یہی معاملہ انگریزی کے ساتھ بھی ہے گرچہ سمجھتے تھے لیکن لکھ اور بول نہیں پاتے تھے۔۔ حالانکہ کسی بھی زبان میں جب تک پڑھنے بولنے اور لکھنے کے اعتبار سے مہارت نہ ہوجائے اس وقت تک یہ بالکل نہیں کہا جاسکتا کہ اس زبان میں مہارت یا دسترس حاصل ہے۔ 

بہت ساری تقریریں جو مودودی نے مختلف جگہوں پر کی ہیں یو ٹیوب پر پڑی ہیں لیکن عربی یا انگریزی میں آپ کو ایک بھی نہیں ملے گی۔۔۔ اور نہ ہی دونوں زبانوں میں کوئی کتاب۔۔ 

✔چوتھی بات یہ کہ عربی میں مودودی کی سمجھدانی بھی خوب تھی۔۔۔۔۔ 
مودودی صاحب کا اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ صحت وضعفِ احادیث میں محدثین کے قواعد ہم پر ضروری نہیں اس کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
{{ان (محدثین) کی نگاہ میں احادیث معتبر یا غیر معتبر ہونے کا جو معیار ہے ٹھیک ٹھیک اسی معیار کی ہم پابندی کردیں۔ مثلاً مشہور (حدیث) کو شاذ پر ، مرفوع کو مرسل پر ، اور مسلسل کو منقطع پر لازماً ترجیح دیں اور ان کی کھینچی ہوئی حد سے تجاوز نہ کریں۔ یہی وہ مسلک ہے جس کی شدت نے بہت سے کم علم لوگوں کو حدیث کی کلی مخالفت ..... کی طرف ڈھکیل دیا ہے۔}} ( تفہیمات ص 118)

☀️یہ ہے مودودی صاحب کی عربی دانی اور فہم حدیث۔۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موصوف کی مثال اندھوں میں کانا راجہ کی ہے۔ ان کی جماعت خدا جانے علمی میدان میں ان کو کتنا بڑا انسان سمجھتی ہے کہ ان کی اندھی تقلید کررہی ہے حالانکہ حال ان کا یہ ہے کہ جس فن پر وہ تنقید کر رہے ہیں اس کے معمولی مسائل کا بھی پتہ نہیں۔ 
 کیونکہ شاذ کے مقابلہ میں محفوظ ہے اور مرفوع کے مقابلہ میں موقوف ہے اور منقطع کے مقابلہ میں متصل ہے۔ جسے حدیث کا ایک مبتدی طالب بھی جانتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ فہم حدیث کے تعلق سے اس سے بھی بڑی جہالت کوئی اور ہو سکتی ہے۔  اس کی وجہ فن حدیث کے ساتھ ساتھ عربی زبان وادب پر اچھی پکڑ کا نہ ہونا ہے۔۔ ایسے شخص کے بارے میں لفظ دسترس کا استعمال کرنا اور شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ سے موازنہ کرنا مہا بیوقوفی اور اندھ بھکتی کا نتیجہ ہے بلکہ خود لفظ دسترس کے ساتھ ظلم ہے۔۔۔ 
لیکن مودودی صاحب چونکہ انکے پرستاروں کے نزدیک زمانہ حال کے مجدد ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہرچیز میں جدت پیدا کریں اور جماعت کی طرف سے آواز آئے سبحان اللہ۔ کیا کہہ دیا۔۔۔ 
مودودی بھکتو ! جیتے رہو ! ایک ایک سے چٹکلے لاتے رہو۔۔۔۔۔
✏اجمل منظور

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...