💔تحريكى اور رافضى محبت: ايك قالب دو جان💔
✍ڈاکٹر اجمل منظور
💥عبد الرزاق قسوم الجزائر میں تحریکیوں کے اندر نمایاں شخصیت گردانے جاتے ہیں۔ "جمعية العلماء المسلمين الجزائريين" کے صدر ہیں ۔ سابق ایرانی صدر احمدی نجاد اور حالیہ ڈکٹیٹر خامنئی کو جناب ادب واخلاق میں اعلی نمونہ مانتے ہیں اور نوجوانوں کو ان کی اقتداء کرنے پر ابھارتے ہیں۔ یہ ایران کے وہی نجاد اور خامنئی ہیں جو صحابہ کرام کو مرتد کہتے ہیں، انہیں گالی دیکر اپنا درد مٹاتے ہیں۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ طاہرہ کو نعوذباللہ زانیہ عورت کہتے ہیں۔ اور جو حرمین شریفین پر قبضہ کر کے شیخین کی قبروں کو اکھاڑ کر انہیں سولی دینے کا خواب دیکھ رہے ہیں دمرھم اللہ واذنابھم۔
💥یہ قسوم ملک کے ایسے وفا دار ہیں جو پیدا تو ہوئے الجزائر میں اور پورے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں الجزائر میں لیکن اپنے ملک کی پالیسی کے برخلاف بے جا حمایت کرتے ہیں ایران کا بلکہ اس مجوسی جابر حکومت کو خلافت الہیہ کا نمونہ قرار دیتے ہیں۔ ستر سالوں تک الجزائر پر ظلم وستم ڈھانے والے ملک فرانس کی آج بھی آنجناب پر چمچہ گیری کرنے اور اپنے وطن کے خلاف ایجنٹ کا کام کرنے کا الزام ہے۔ دیکھیں اس خبر کو:
http://www.zenganews.net/?p=9079
الجزائر میں روزنامہ (الشروق) اور (النھار) میں برابر ان تحریکیوں اور رافضیوں کی غلاظتیں چھپتی رہتی ہیں۔ ميں يہاں ايك نمونہ پيش كررہا ہوں جس سے سمجھ ميں آئے گا كہ موصوف اپنے دعوى ميں كتنے سچے ہيں ، موصوف كا دعوى ہے: (لست شيعي الهوى، ولا إمامي المذهب، وإنما أنا إسلامي العقيدة، مالكي المذهب، عقلاني الفكر، صوفي الروح. إنني لا أكفر أحدا من أهل القبلة، ولا أسب أحدا من أهل الملة، بل اعتبر كل مسلم أخي، أيا كان مذهبه، ومهما تكن قناعته.)
ترجمہ: نہ تو شيعيت كى طرف ميرا ميلان ہے اور نہ ہى اثنا عشريت ميرا مذہب ہے، ميرا عقيده اسلامى ہے، مذہب مالكى ہے، فكر عقلانى يعنى عقل پرستى ہےاور صوفيت ميرى روح ہے۔ اہل قبلہ ميں سے ميں كسى كو نہ تو كافر كہتا ہوں اور نہ ہى اہل ملت ميں سے كسى كو برا بهلا كہتا ہوں بلكہ ہر مسلمان كو اپنا بهائى سمجهتا ہوں خواه اسكا مذہب اور پسند كچھ بهى ہو۔
💥موصوف كے دوسرے افكار ونظريات كو چهوڑ كر اگر صرف ان كى پہلى بات كا تجزيہ كيا جائے تو قارئين كى سمجھ ميں بآسانى آجائے گا كہ محترم كس حد تك شيعيت اور خمينيت زده ہيں كٹر رافضى اثنا عشريوں سے كس حد تك مرعوب اور ان كے ثنا خواں ہيں اسكے لئے پڑھیں خود انہيں كى زبانى ان كى بات :
"يہ ميرا مقدر تها كہ اسى (80)كى دہائى ميں پہلى بار ميں اسلامى جمہوريۂ ايران كى زيارت كروں۔ يہ اسوقت كى بات ہے جب يہ اسلامى جمہوريت اپنے شباب پر تهى، انقلابى جهنڈے لہرا رہے تھے، تبديلى كے ترقياتى معركے سے نبرد آزما تھى يہ اسلامى جمہوريت ۔ اس سفر ميں ميرے ساتھ امت اسلاميہ كے مفكرين كى ايك جماعت تهى جيسے شيخ محمد غزالى، استاذ فہمى ہويدى اور دكتور محمد عماره وغيره۔
اس وقت مجهے پتہ چلا كہ ايران كے اندر اسلامى انقلاب نے نئى نسلوں كے اندر كس قدر تبديلى پيدا كر دى ہے ، ان كے اندر دينى حماس وجذبہ كس قدر جوش مار رہا ہے اور وه خمينى سربراہى كے ساتھ ہمدردى اور لگاؤ كو اپنا دينى فريضہ سمجهتے ہيں۔ رعايا اور حاكم كے مابين اسقدر باہم محبت اور شفقت كو ديكھ كر تعجب كى انتہانہ رہى بلكہ ميں تو اس پر پهولے نہ سما رہا تھا اور اس پر ر شك كر رہا تها ۔
پهر تو اسكے بعد ايران كى زيارت وقفے وقفے سے كرتا رہا ، اور ہر مرتبہ ايرانى نوجوانوں كو اس طرح پاتا كہ ان كے اندر ايمان وانقلاب كا دريا بہہ رہا ہوتا، ساتھ ہى علوم وفنون اور جديد ٹكنالوجى سے مسلح يہ نوجوان حسن اخلاق اور عمده سلوك كا پيكر مجسم تهے۔ يہ وه ايرانى نوجوان ہيں جو اپنے دونوں جنس (مذکر و مؤنث) كے ساتھ زندگى كے تمام شعبوں ميں آگے بڑھتے جارہے ہيں۔ انكى يہ ترقى ديكھ كر تمہارے ايمان واطمينان ميں اضافہ ہى ہوگا، كيونكہ اسلام كا پودا ہى ايسا ہے كہ جب بهى اسے بہتر انداز ميں لگا ديا جائے اور اچھى طرح سكها ديا جائے تو اس سے ايك بہتر مزاج والا انسان ہى بنے گا ، اسكا اعتقاد اور مسلك گہرا ہى ہوگا نيز وه مقدس مسائل كا ہى دفاع كر ے گا۔
بہت دن ہوگئے كہ جب ميں وحدت اسلامى كے نام پر چوبيسويں كانفرنس ميں حاضر ہوا تها جسكا موضوع تھا: (الأساليب الفكرية والعملية لتحقيق التقريب بين المذاهب الإسلامية)۔
يہاں صرف مجهے اس ايرانى ماحول سے دلچسپى ہے جس ميں يہ كانفرنس منعقد ہوا تھا ، اور اس علمى وثقافتى آب وہوا سے مطلب ہے جس پر تين دہائيوں كے گزرنے كے بعد بهى آج تك ايرانى جمہوريۂ ايران كى چھاپ موجود ہے۔
💥ايران كے اندر سب سے اہم چيز جس كا تصور كيا جاسكتا ہے وه اسلامى انقلاب ہے جس نے عالمى پيمانے پر چيلنج اور قبول دونوں كا سامنا كيا، چنانچہ فطرى طور جس طرح پہلے سے كميونزم اور پونجى وادى كے مابين ٹكراؤ اور لڑائى چلى آرہى تهى ايران كے اندر اسلامى انقلاب نے آكر ايك تيسرا محاذ كهول ديا جو كہ خالص عقيدے پر مبنى ہے ، جو حريت ذات كے مثبت پہلو پر گامزن ہے اور جس نے دونوں باہم برسرپيكار قوتوں كو ايك طرح سے لگام دينے كا كام كيا ہے۔
اسلامى شعار كے تحت اس انقلاب نے عالمى منظر نامے ميں مشرق وسطى كے اندر اس فاسد نظام اسرائيل كو جڑ سے ہلا ديا جو فطرى طور پر اسلام اور مسلمانوں كا دشمن ہے اور ساتھ ہى ناٹو عسكرى فوج كو جو تمام عربى واسلامى قوموں كے لئے خطره ہے۔ اس انقلاب كے اندر وه انسانى ہمدردى ہے كہ جس نے كمزوروں كى دفاع ميں صہیونیوں سے دشمنی اور فلسطینیوں سے محبت کی جس نے اسلامى بيدارى ميں ايك نئى جان پيدا كردى۔
اس اسلامى جمہوريہ كا دوسرا بڑا كارنامہ ايٹمى چيلنج كا قبول كرنا ہے چنانچہ اس نے يہ ثابت كرديا كہ ايٹمى ہتهيار حاصل كرنا مسلم قوموں كا بهى حق ہے اسے ترقياتى اور دفاعى مصلحتوں كيلئے حاصل كيا جاسكتا ہے۔ (لگتا ہے موصوف پاکستانی ایٹمی ہتھیار کو اسلامی ایٹمی ہتھیار مانتے ہی نہیں)
مغربى ممالك جس طرح اپنى كم تر سوچ اور دشمنى ميں اس اسلامى ملك كو سمجهتے ہيں اور اسكے خلاف پروپيگنڈه كرتے ہيں چنانچہ يہ اس پر دينى تعصب، غلو، شيعيت كا پرچار ، بے روزگارى، پچھڑا پن، بهوكمرى اور ناخواندگى وغيره كا الزام لگاتے ہيں ليكن ہم جب وہاں جاكر ديكهتے ہيں تو بالكل اس كے برعکس پاتے ہيں۔
💥ايران ميں ہم نے ايك ايسى قوم كو ديكها جو ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے پاك ہے ، خوش منظر ہے، دنيا كے دوسرے نوجوانوں كى طرح ان كا بهى لباس جازب نظر ہے، وہاں بهى يونيورسٹيوں ميں طلبہ اور طالبات كى بهيڑ ہے، اور وه بهى مختلف اختصاصات (specializations) ميں، اور خاص طور سے وہاں كى عورتوں نے تو زندگى كے ہر شعبے ميں سماجى فضا كو پر كرديا ہے۔ مثال كے طور پر ميڈيا ميں تو لگتا ہے كہ انہيں كى اجاره دارى ہے۔ اور يہ سب كچھ عمامہ پوش حكومت كى نگرانى ميں ہورہا ہے۔
(قارئين كو معلوم ہونا چاہئيے كہ يہ سب تعريف ميں كہا جارہا ہے)
يہاں كچھ سوال پيدا كئے جاتےہيں :
كہا جاتا ہے كہ ايران ميں عمامہ پوش ملاؤں كى حكومت يعنى مذہبى كٹر پسندوں كى حكومت ہے ۔ حالانكہ وہاں جانے پر پتہ چلے گا كہ يہ لوگ جسے عمامہ پوش كہہ رہے ہيں وه دراصل قوم كے شاہين وعقاب ہيں۔
كہا جاتاہے كہ ان عمامہ پوشوں كے خلاف وہاں ايك اصلاح پسند قومى حزب اختلاف موجود ہے ۔ ليكن سوال يہ ہے كہ يہ كيسى اصلاح كى بات كرتے ہيں ؟ كيا يہ چاہتے ہيں كہ اسلامى حكومت سے كميونسٹ حكومت ميں بدل ديں؟ كيا ان كى خواہش ہے كہ ايرانى عورت اپنے مذہبى خول سے نكل كر مغربى ماڈل ميں بدل جائے ؟ كيا يہ چاہتےہيں كہ ايرانى سرزمين سے فارسى پہچان كو ختم كركے مغربى پہچان كو غالب كرديا جائے؟ (واہ رے فارس نوازی)
ايران كے رہنماؤں نے دنيا كے سامنے اسلامى حكومت كے ذريعے جس حكمرانى كى سچى تصوير پيش كى ہے اس سے اسلامى حكومت كى قيمت كو لوگوں كى نگاہوں ميں بلند كرديتى ہے حتى كہ دشمنوں كى نگاہوں ميں بهى۔اور ہم نے وہاں جاكر اس چيز كا مشاہده كيا ، ہم نے ان كے طرز تعامل كو ديكها ، ان كے رہن سہن اور لباس كو ديكها ، ان كے زہد وتقوى كو ديكها اور دنيا كى لذتوں سے ان كى دورى ديكهى تو ہميں صحابہ كا دور ياد آگيا۔ (قارئین سچ بتائیے گا کچھ زیادہ تو نہیں ہوگیا) بالكل يہى تصوير ہم نے امام خامنئى (حاليہ روحانى سربراه جسے ايرانيوں نے حاليہ مظاہروں ميں ڈكٹيٹر كہا تھا اور اسكے موت كى دعا كى تهى) ميں پائى جو انقلاب كے قائد ره چكے ہيں، جو تواضع، خاكسارى، حسن تعامل اور اعلى اخلاق كے پيكر ہيں۔
💥 يہ حاليہ ايران كے حكمرانوں اور وہاں كے عوام كى سچى تصوير ہے جو بغير شہرت طلبى اور پروپيگنڈے كے اپنا كام خاموشى سے كر رہے ہيں ۔ اور اسلامى جمہوريۂ ايران پر جو بهى اعتراضات كئے جائيں وه سب بهى اس كے لئے بهلا ہى ثابت ہوں گے، چنانچہ اس سے ان كے دلوں ميں انقلابى سوچ مزيد راسخ ہوگى۔شاعر كہتا ہے:
ومن ذا الذي ترجى سجاياه كلها
كفى المرء نبلا أن تعد معايبه
ترجمہ: كون ہے جس كى تمام عادتوں سے دنيا خوش ہوجائے؟ آدمى كى شرافت كيلئے يہى كافى ہے كہ لوگ اس كے عيبوں كو تلاش كرنا شروع كرديں۔
💥قارئين كرام! رافضى ايران كى تعريف اس انداز ميں كيا كوئى گرا سے گرا سنى مسلمان كرسكتا ہے؟ اسطرح ايك خمينيت زده رافضى يا تحريكى ہى كرسكتا ہے۔اور يہ تعريف كيوں نہيں كريں گے جن كے مرشدين اور پيشواؤں نے بنا، قطب اور مودودى سے ليكر مہدى عاكف اورمحمد بديع تك سب نے رافضى حكمرانوں كى تعريف كى ہے اور ان كے لئے بركت كى دعائيں كى ہيں۔ اور سب سے بڑى بات سنى مسلمانوں كے خلاف دونوں كا ايجنڈه ايك ہى ہے۔
بطور ثبوت كے ميں وه عربى عبارت بهى كاپى كر رہا ہوں :
لقد كتب لي أن أزور الجمهورية الإسلامية لأول مرة في الثمانينات، عندما كانت في عنفوان أوارها، ترفع الشعارات الثورية، وتخوض معركة التغيير التطورية.. وكنت صحبة كوكبة من مفكري الأمة الإسلامية، أذكر من بينهم على سبيل المثال الشيخ محمد الغزالي رحمه الله، والأستاذ فهمي هويدي حفظه الله، والدكتور محمد عمارة حفظه الله، وغيرهم.
لقد كشفت لنا الثورة الإسلامية في إيران، أنذاك، عن شعب يتقد حماسا وحيوية، ويدين بالولاء، للزعامة الخمينية، فكان ذلك التلاحم بين الراعي والرعية، الذي يثير الإعجاب، ويبعث على الاعتزاز والأريحية.
ثم توالت زياراتي لإيران، على فترات متباعدة، فكنت في كل مرة، أجد نفسي أمام شباب إيراني، يفيض إيمانا بربه، وبثورته، زادُه العلم، وعدته التكنولوجيا، ومنهجيته دماثة الخلق، وحسن المعاملة. إنه شباب يتقدم في ميادين الحياة بجناحيه الذكر والأنثى، فيزيدك تقدمه إيمانا واطمئنانا، بأن الإسلام، متى أحسن غرسه، وأتقن درسه، أنتج إنسانا معتدل المزاج والطوية، متعمق الانتماء والهوية، متعلقا بالدفاع عن أقدس قضية.
ومنذ أيام، حضرت أعمال المؤتمر الرابع والعشرين للوحدة الإسلامية، وكان موضوعه "الأساليب الفكرية والعملية لتحقيق التقريب بين المذاهب الإسلامية".إن ما يعنيني هنا، هو الفضاء الإيراني الذي انعقد فيه المؤتمر، والمناخ الثقافي الذي يطبع -اليوم- واقع الجمهورية الإسلامية الإيرانية بعد انقضاء أكثر من ثلاثة عقود على قيامها.
إن أهم ما يمكن الخروج به كانطباع عام عما يتم إنجازه، في إيران الثورة الإسلامية، أنها مثلت التحدي والاستجابة معا، في فضاء عالمي، كان يطبعه الصراع الإيديولوجي بين المعسكرين، الرأسمالي، والشيوعي، فجاءت الثورة الإسلامية في إيران، لتفتح أفقا ثالثا هو الأفق العقدي، الذي، يعمل على إثبات استقلالية الذات، بين العملاقين المتصارعين على بسط الهيمنة والنفوذ على العالم، وجذب أجزاء منه لوضعها تحت النفوذ..
وإن مما أعطى أهمية خاصة لهذا التحول - في المسرح العالمي - تحت شعار الإسلام، أنها أطاحت، بأعتى نظام فاسد في الشرق الأوسط، كان الحليف الطبيعي لعدوة الإسلام والمسلمين، إسرائيل، والقاعدة العسكرية الكبرى المهددة للشعوب العربية والإسلامية باسم الحلف الأطلسي. كما أن جاذبية الحب فيها، أي الثورة الإيرانية، أنها رفعت شعار الدفاع عن المستضعفين، فطردت الصهاينة من السفارة الإسرائيلية التي فتحها الشاه، وأحلت الثورة الإسلامية محلها، بعثة منظمة التحرير الفلسطينية، وبذلك، دخل في القاموس الفكري الجديد، مفهوم الصحوة الإسلامية.
ولعل آخر تحد، خرجت به على العالم الجمهورية الإسلامية، هو التحدي النووي، وإثبات حق الشعوب الإسلامية، في الحصول على النووي، وتوظيفه لصالح التنمية، وتحقيق الأغراض السلمية.
كنا ننظر إلى ما يتم داخل جمهورية إيران بعيون الغرب الذي يقدم لنا هذا البلد الإسلامي، على أنه التجسيد العملي للتخلف، وبالتالي، يتجلى تخلفه في التعصب المذهبي، والغلو الديني، والتبشير الشيعي، كما أن الشعب الإيراني، بزعم الإعلام الغربي، يعاني، الجوع، والحرمان بسبب البطالة المتفشية فيه، والجهالة البادية على بنيه، ولكن ما راعنا، إلا ونحن نكتشف العكس من كل ما يقدمه الغرب من صورة مشوهة عن الواقع.
اكتشفنا في إيران شعبا نظيف المعنى والمغنى، أنيق المظهر والمخبر، ناهيك أن شبابه، لا يختلف في أناقة لباسه عن باقي شباب العالم.. كما أن الجامعات تعج بالطلبة والطالبات، وفي شتى الاختصاصات، وأن المرأة بالذات، تملأ الفضاء الاجتماعي في كل الميادين، وتكاد تنفرد بالمجال الإعلامي، على سبيل المثال.. وكل ذلك يتم بإشراف حكومة العمائم.. هذه الحكومة التي تثير جملة من التساؤلات.. ومنها: أن الغرب يقدم لنا المعممين في إيران على أنهم صقور وحمائم، وعبثا يحاول الزائر لإيران أن يميز بين من يمثل الصقور ومن يمثل الحمائم.
إن في إيران غليانا، يمثل معارضة تغييرية تقف في وجه "حكومة العمائم" المحافظة، باسم الإصلاحيين. وليس دفاعا عن المحافظين، في الحكومة الإسلامية، القول، بأن ما يقدمه قادة إيران للعالم، من صور نموذجية للحكم، باسم الحكومة الإسلامية، هي صور تعلي من قيمة الحكم الإسلامي حتى في أعين مخالفيه.
هذا إضافة إلى نوعية لباسه، وطريقة تعامله مع زواره، مما يذكرنا بأخلاق الصحابة، في تقشفهم، وزهدهم، وإعراضهم عن ملذات الدنيا. وإنها نفس الصورة التي لمسناها عند قائد الثورة الروحي الإمام خامنئي، والتي تسهم في تجميل صورة الإسلام، في التواضع، والبساطة، وحسن التعامل مع الناس.
هذه إذن هي صورة حكام إيران اليوم، الذين يعملون في صمت ودون جعجعة أو قعقعة. وأيا كانت المآخذ التي قد تؤخذ على الجمهورية الإسلامية من أصدقائها أو خصومها، فهي أيضا علامة صحة، في ثورة تزداد رسوخا في عقول وقلوب شبابها.
https://www.djaziress.com/echorouk/69255
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1613035738809707&id=100003098884948
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق