الأربعاء، 13 نوفمبر 2019

سعودی عرب کے رفاہی کام

یقین جانیے یہ ملک پوری دنیا میں رفاہی و فلاحی کاموں کے لیے جس اعلی پیمانے پر شراکت کرتا ہے اسے چند صفحات میں گنانا دشوار امر ہے پھر بھی میں چند انفرادی کوششوں کا یہاں شمار کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔

• 1996 سے 2018 کے دوران صرف ریلیف فنڈ کے تحت سعودیہ نے 79 ممالک میں 76.7 بلین امریکی ڈالر کی امداد دی ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی 489 این جی اوز کو تقریبا 929 ملین امریک ڈالر کا تعاون فراہم کیا ہے۔

• 13 مئی 2015 میں قائم شدہ کنگ سلمان ہیومنیٹیرین رلیف فنڈ کے ذریعے بیالیس مختلف ممالک میں 482 پراجیکٹس پر تقریبا 925 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے جس کا 76% حصہ یمن میں گیا ہے۔ اسی ملک سلمان رلیف فنڈ نے عورتوں کی بہبود پر 206 پروجیکٹس پر $ 341,481,000 اور بچوں کی فلاح کے 171 پروجیکٹس پر $504,962,000 کی رقم تقسیم کی ہے۔

• 2018 کے اواخر تک سعودیہ نے 561,911 یمنی، 283,449 سیریائی، 249,669 میانماری مہاجرین کو اپنے یہاں پوری عزت اور تمام تر انسانی سہولیات کے ساتھ پناہ دے رکھی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تعداد اس ملک کی اپنی پوری آبادی کے 5.36% کے بقدر ہے۔

• 1975 سے 2002 کے درمیان صرف Overseas Development Aid کے تحت اس ملک نے 70 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تعاون دیا ہے۔

• گزشتہ ماہ UNHCR (United Nations High Commission for Refugees) نے پناہ گزینوں کے ضمن میں سعودی عرب کے تعاون کو بڑے اچھے لفظوں میں سراہا ہے۔ اس تعلق سے ان کے کارناموں کی لمبی فہرست ہے جسے کوئی بھی قاری اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر بآسانی ملاحظہ کرسکتا ہے۔

• مختلف پروگراموں کے تحت اب تک صرف یمن 11.88 بلین ڈالر کی مدد سعودیہ سے پاچکا ہے۔
ابھی مختلف ممالک میں صرف رمضان ایڈ کے نام پر 1.8 بلین ڈالر کا تعاون دیا گیا ہے۔

• فلسطین کے لیے یہ ملک اپنی سیاسی پالیسیوں اور جدو جہد کے ساتھ ساتھ سیکڑوں رفاہی پرگرام چلا رہا ہے۔ فلسطین کے لیے اس کی خصوصی رعایات کا اندازہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ یہاں موجود فلسطینیوں کے لیے ان کے پاس خصوصی درجے ہیں جو ہم جیسے ہندوستانی یا دیگر ممالک کے یہاں کام کرنے والوں کو نہیں حاصل ہیں۔

• مختلف امور میں اقوام متحدہ کو رفاہی فنڈ دینے والے چند سرفہرست ممالک میں سے سعودی عرب ایک ہے۔
• حج و عمرہ کے دوران ان کے رفاہی و امدادی کاموں سے ہر کسی کی واقفیت ہے۔

• آج شاید ہی دنیا کا کوئی مسلم گھر ایسا ہوگا جس میں ملک فھد قرآن پروگرام کے تحت شائع شدہ قرآن کے وقف نسخے موجود نہ ہوں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی لائبریری ہو جس میں سعودی سے وقف شدہ کتب احادیث وغیرہ کا ایک ذخیرہ موجود نہ ہو۔ شاید ہی دنیا کی کوئی ایسی معروف زبان باقی رہ گئی ہو جس میں قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث و مبادیات اسلام پر کتابوں کی اشاعت اور پھر تقسیم عمل میں نہ آئی ہو۔

• نہ صرف ہند و پاک و بنگلہ دیش بلکہ بیشتر کمزور مسلم خطوں میں مساجد و مدارس یا اداروں کا جال کلی یا جزوی طور پر اسی ملک کی مرہون منت ہے۔

مزید تفصیل کیلئے اس مضمون کو پڑھیں:
http://www.thefreelancer.co.in/?p=3677

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...