السبت، 20 أكتوبر 2018

🎪کاٹھمنڈو اخوانی تحریکیوں کا مرکز🎪

☠نیپال اور گجرات کے تعلق سے چونکانے والی خبر☠
🙋اہل حدیث نوجوان ہوشیار رہیں🙋
✍بقلم جناب نور خان
🎪کاٹھمنڈو اخوانی تحریکیوں کا مرکز🎪
💥تقریبا سات یا آٹھ سال سے اخوانی تحریکیوں نے ہندوستان کے بجائے نیپال کو اپنا مرکز اور اپنی ریشہ دوانیوں کا اڈہ بنا لیا ہے۔ وجہیں کچھ بھی ہوں لیکن بظاہر یہ ملک ان کے لئے محفوظ اور آسان جگہ ہے دوسرے ان کو نیپال کی غریب مسلمانوں کے نام پر سعودی سے خطیر رقم جمع کرکے اپنے آقاؤں کو انڈیا اور دوسری جگہوں بھیجنے میں آسانی ہوتی ہے۔
دوسرے جماعتوں کے ساتھ جھوٹی اتحاد کا حوالہ دیکر بہت تیزی سے زہر کو سماج میں پھیلا رہے ہیں ۔ جیسے جیسے انکے مراکز کی تعداد بڑھی ہے اور انکی جڑیں اور پکڑ مضبوط ہوئی ہیں اب یہ کھل کی مملکت توحید کو کوسنا اور امیر المومنین کو اسلام کا محافظ اور خلیفہ المومنین بناناشروع کردئیے ہیں ۔ ایران کی حمایت یافتہ یہ جماعت  دبے زبان میں ایران کی پالیسیوں کی تائید اور گاہے بگاہے زیارت شروع کردئے ہیں ۔ جب بھی جماعت کے متحرک لوگوں سے بات کرو تو ان تحریکیوں کے بتائے ہوئے ڈھکوسلے بہانہ بازیوں کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس سے ہمارے اتحاد کو خطرہ ہے
رقم سعودی  سے جمع  کرتے ہیں اور کتاب اپنی جماعت کی ان کتابوں کو چھپواتے ہیں جس کو وہ بائبل سے کم ماننے پر راضی نہیں ہوتے ، غریبوں کے نام پر لیکر اخوانیت کی فروغ کے لئے مرکز قائم کرتے ہیں. 
جمعیت اہلحدیث اس وقت علاقائیت کی تعصب میں آنکھیں بند کرکے تجاہل عارفانہ کی نیند سورہی ہے 
حد تو یہ ہوگئی کہ یہ اپنے لوگوں کو جمعیت و جماعت میں گھسانا شروع کردئے ہیں اور اپنی اس کامیابی کا ڈنکا بھی پیٹتے ہیں
نور خان//۶/۷/۲۰۱۸
_________________________________________
کاٹھمنڈو کے بارے میں  جیسا لکھا گیا ہے اگر وہ صحیح ہے تو  نور خان صاحب کی یہ تحریر عالمی منظرنامہ کے تناظر میں سو فیصد درست ہے ۔ مصر کی سیاسی اتھل پتھل کے بعد  اخوانیوں نے اہل حدیثوں کو جس طرح  نشانہ پر لیا ہے وہ نہایت ہی افسوس ناک پہلو  ہے ۔ہندوستان کے سلمان ندوی صاحب کی پوری بوکھلاہٹ کا سبب مصر میں اخوانی حکومت کا گرجانا ہے  جبکہ یہ حکومت مصری اخوانیوں کی جلدی بازی  اور اپوزیشن سے انتقام کی وجہ سے گری تھی مگر حکومت گرانے کا پورا الزام جماعت النور کے اوپر ڈال دیا گیا چونکہ موجودہ حکومت جماعت النور جوکہ سلفیوں اور اہل حدیثوں کی سیاسی پارٹی تھی کے اتحاد سے برسر اقتدار ہوئی تھی بس پھر  کیا تھا سلمان ندوی جیسے ملت فروشوں نے اپنا عییب چھپانے کے لیے لوگوں کا ذہن اہل حدیث  کی طرف موڑ دیا ۔
یہ بھی ایک  تلخ حقیقت ہے کہ ماضی جب جماعت اسلامی پر احناف کی بشمول دیوبندی وبریلی نے فتووں کی بوچھاڑ کردی تھی  تو اس وقت اس کے ناتواں  کندھوں پہ ہاتھ صرف اہل حدیثوں نے رکھا تھا ۔
اس دور میں  بےشمار اہل حدیث افراد  اس  سے  قریب ہوئے اور اس  کے دست و بازو بنے اور یہ جماعت پروان چڑھتی رہی  ۔ جبکہ حقائق پر پردہ دالنے والے اور اہل حدیثوں کو گالیاں دینے والے  یہ بے شرم سلمان ندوی  دیوبندیوں کے ممتاز عالم ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کے حق میں ان کے گمراہ نہ ہونے کا ایک عدد فتوی نہ دے سکے نہ دلا سکے۔ واضح رہے کہ  دیوبندیوں کے نزدیک جماعت اسلامی کا شمار فرقہ ضالہ میں ہوتا ہے ۔وہ اس داغ کو تو نہ دھوسکے  مگر دوسروں کے اوپر کیچڑ اچھالنے کی ناپاک کوشش میں جٹ گئے ۔ جماعت اسلامی کے لوگوں نے ماضی کے تمام احسان و اخوت کو یکلخت فراموش کردیا  اور سلمان ندوی کے راگ کے ساتھ راگ الاپنے لگے  اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے  جس میں ندوی برداری پیش پیش ہے ۔ اور ان سب کی یہ حرکت کوئی نہیں حرکت نہیں ہے ۔
👈💥2014 میں میرا گجرات کا دعوتی  دورہ تھا پورے ملک میں الیکشن کی گہماگہمی تھی ملک بھر کے مسلمان متحد ہونے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے اسی دوران گجرات کے ایک علاقہ میں جماعت اسلامی کا کوئی دعوتی پروگرام تھا جہاں کافی اہل حدیث نوجوان جماعت اسلامی سے منسلک اور اس پروگرام میں برابر کے شریک تھے  ۔ پروگرام چل رہا تھا کہ اسی دوران پولیس کی چھاپہ ماری ہوئی اور کافی لوگ ایریسٹ ہوئے مگر وہاں شریک جماعت اسلامی کے تمام ذمہ داروں نے کہا ہم لوگ تو یہاں مدعو ہیں یہ پروگرام دراصل اہل حدیث نوجوانوں کا ہے ۔بس پھر کیا تھا 25 اہل حدیث نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیئے گئے اور جماعت اسلامی کے افراد ان سب کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگ گئے ۔
    لہذا وقت اور حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی  سے اجتناب کیا جائے ۔ ۔
بھائی نورالقمر خان صاحب کی مذکورہ بالا تحریر ہرگز ہرگز کسی تعصب اور ہفوات پر مبنی نہیں ہے بلکہ تلخ حقائق کی ہلکی سی جھلک اور متنبہ رہنے کی ایک معمولی کوشش ہے ۔ ہم انہیں اس ملی بیدار مغزی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔
      (ابوفوزان تنویرذکی مدنی)

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...