👾ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ@ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا👾
🎪فکر مودودیت اور اسکے پرستار🎪
💥ایران کے ساتھ جماعت اسلامی ہند کی دوستی کے تعلق سے سوشل میڈیا پر:
(The evil alliance of Jamaat-e-Islami and Iran 🇮🇷.)
(جماعت اسلامی اور ایران کی شیطانی اتحاد)
کے عنوان سے ایک مضمون گشت کر رہا ہے جس میں تحریکیوں کی رافضی قلعی اتاری گئی ہے۔ اس مضمون کے مطابق جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے نیو دہلی کے اندر ایرانی سفارت خانے میں رافضی ثقافتی کونسلر علی فولادی سے ملاقات کی ہے۔ اور اس تحریکی وفد نے خوشی میں رافضی کونسلر کو ابو الاعلی مودودی کی کتاب (خلافت وملوکیت) ہدیہ میں دی ہے جس کے اندر امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ، ذو النورین خلیفہ ثالث عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام پر تنقید اور الزام لگایا گیا ہے، احتجاج، خروج علی الائمہ اور حکومتوں کو گرانے کی وکالت کی گئی ہے۔ مختصر یہ کتاب سنی مسلمانوں کے خلاف مکمل ایرانی رافضی ایجنڈوں کی ترجمانی کرتی ہے۔
💥جماعت اسلامی ہند کی ویب سائٹ پر یہ مکمل خبر موجود ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
A delegation of Jamaat-e-Islami Hind met H.E. Ali Fouladi the Cultural Counsellor of the Islamic Republic of Iran, New Delhi to give him farewell on his departure from India after successful completion of his tenure as the Cultural Counsellor of the Islamic Republic of Iran, New Delhi. The Jamaat delegation was given a warm welcome by H.E. Ali Fouladi who discussed at length the various achievements of Iran in recent times and described how Iran remainsa custodian of democracy and humanitarian values in the world. The Cultural Counsellor was also presented a memento by the Jamaat delegation led by Moulana Rafique Qasmi, Secretary Islamic Society accompanied by Maulana Waliullah Sayedi Falahi, Secretary Tarbiyah and Bazlul Basid Choudhury – Department of Public Relations.
خلاصہ: رافضی علی فولادی کی مدت کار مکمل ہونے پر جماعت اسلامی نے اس کی سراہنا کی۔ اور اس مدت میں ایرانی ایجنڈوں پر کس طرح کام ہوا اس پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ اور جماعت نے اعتراف کیا کہ ایرانی حکومت جمہوریت پسند اور انسانیت کی خادم ہے۔
دیکھیں جماعت کی اس ویب سائٹ کو:
http://jamaateislamihind.org/eng/jamaat-delegation-meets-h-e-ali-fouladi-the-cultural-counsellor-of-the-islamic-republic-of-iran-new-delhi/
💥اس کے علاوہ ایک اور خبر گشت کر رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ابو الاعلی مودودی کے صاحبزادے ڈاکٹر احمد فاروق مودودی نے 'Two Brothers - Maududi and Khomeini'
(دو بھائی: مودودی اور خمینی) کے عنوان سے
129 صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے جس میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
"Allama Khomeini had a very old and close relationship with Abba Jaan (father). Aayaatullah Khomeini translated his (fathers) books in Farsi and included it as a subject in Qum. Allama Khomeini met my father in 1963 during Hajj and my father's wish was to create a revolution in Pakistan similar to Iran. He was concerned about the success of the Iranian revolution till his last breath.'
ترجمہ: میرے ابا جان کے ساتھ خمینی کی دوستی بہت پرانی اور گہری ہے۔ آیت اللہ خمینی نے آپکی ساری کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا اور اسے ایران کے شہر قم کے اندر تعلیمی نصاب میں شامل کر لیا۔ خمینی سے میرے والد کی ملاقات حج کے دوران 1963 ہی میں ہو گئی تھی۔ وہیں پر میرے والد کی بھی یہ خواہش ہوئی تھی کہ ایران کی طرح پاکستان میں بھی انقلاب آئے۔ آپ اپنی آخری سانس تک فکر مند تھے کہ ایرانی انقلاب ہمیشہ کے لئے کامیاب رہے۔
تفصیلی مضمون اور تبصروں کیلئے دیکھیں یہ لنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1782294461809085&id=340267439345135
💥ایک ایرانی وفد کی آمد پر دونوں اطراف کی گفتگو کا ما حاصل :
The Islamic unity and brotherhood isn’t a sloganeering, rather is related to heart. The slogan of Islamic unity raised at the time of Iran revolution hasn’t got weakened yet in Iran.
We are moving on and following the same path. These expressions were made by Mohammad Hasan Zamani, Dept. of International Islamic Madrasas, Iran while speaking on behalf of the Iranian delegation at their visit to the headquarters of Jamaat-e-Islami Hind here on Wednesday.
The delegation included Mohammad Baqar Tahriri, Mohammad Ismail Shafaqipur, Ali Misbah, Mohammad Haji Husaini and Syed Abdul Fattah Nawab.
The Iranian delegation visited the headquarters as recognition of Jamaat-e-Islami Hind’s extraordinary role in spreading Islamic teachings.
On behalf of the Jamaat, Amir-e Jamaat Maulana Syed Jalaluddin Omari, Secretary General Nusrat Ali, and secretaries Maulana Mohammad Rafique Qasmi, Mohammad Ahmed, Ashfaque Ahmed, Ejaz Ahmed Aslam, Prof. Hasan Raza took part in the talks.
Both sides discussed issues of the world Muslim community and exchange of each other’s academic experiences, researches and publications. The talks were held in a pleasant atmosphere and all stressed continuation of academic discourses and efforts for achievement of Islamic pride and unity.
ترجمہ:
اسلامی اتحاد اور بھائی چارے (اخوان المسلمین) کوئی نعرہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دل سے ہے. ایرانی انقلاب کے وقت اٹھائے گئے اسلامی اتحاد کا نعرہ ابھی تک ایران میں کمزور نہیں ہوا ہے.
ہم بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں اور اس کی پوری پوری پیروی کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے ہیڈکوارٹر پر ایرانی وفد کی نیابت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار جناب محمد حسن زمانی کر رہے تھے جو کہ بین الاقوامی ایرانی مدارس کے ہیڈ ہیں۔
اس ایرانی وفد میں محمد باقر تحریری، محمد اسماعیل شفقی پور، علی مصباح، محمد حاجی حسینی اور سید عبد الفتاح نواب شامل تھے۔
ایرانی وفد نے اسلامی تعلیمات کو پھیلانے میں جماعت اسلامی ہند کے غیر معمولی کردار کی شناخت کے طور پر ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا.
جماعت اسلامی کی جانب سے امیر جماعت مولانا سید جلال الدین عمری، سیکریٹری جنرل نصرت علی اور سیکریٹری مولانا محمد رفیق قاسمی، محمد احمد، اشفاق احمد، اعجاز احمد اسلم، پروفیسر حسن رضا نے گفتگو میں حصہ لیا.
دونوں اطراف نے مسلم کمیونٹی کے مسائل اور ایک دوسرے کے تعلیمی تجربات، تحقیقات اور اشاعتوں کے تبادلے پر تبادلہ خیال کیا. بات چیت ایک خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی اور علمی خطابات کے تمام تسلسل اور اسلامی فخر اور اتحاد کے حصول کے لئے کوششوں پر زور دیا گیا.
http://jamaateislamihind.org/eng/iran-delegation-of-ulema-intellectuals-visits-jih-headquarters/
💥باقی جماعت اسلامی کے فاسد ایجنڈوں کے تعلق سے خود مودودی کے بیٹے کی زبانی سنیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1393508290776357&id=100003515998420
💥استاذ محترم حضرت مولانا عبد الحمید رحمانی نے جماعت اسلامی کے تعلق سے سوال کئے جانے پر کچھ اس طرح تعارف کرایا جو سننے کے لائق ہے:
https://youtu.be/DhCtupJiCX4
💥ڈاکٹر وصی اللہ عباس حفظہ اللہ نے بھی جماعت اسلامی کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں کہا:
https://youtu.be/CKWaZBcNfBY
💥نیپال کے مشہور نوجوان عالم دین ڈاکٹر عبد الغنی القوفی حفظہ اللہ ابو الاعلی مودودی اور ان کے افکار سے متاثر موجودہ تحریکی جماعت کے تعلق سے بڑے ہی واشگاف انداز میں فرماتے ہیں:
((موجودہ دور میں خارجیت کے جتنے مظاہر موجود ہیں اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ان کے تار کسی نہ کسی طور پر تحریکی فکر سے جڑے ہوئے ہیں. اخوانی اور مودودی طرز فکر درحقیقت صوفی رافضی اور خارجی افکار کا ملغوبہ ہے. اور یہ بات کم از کم تاریخ سے واقف افراد پر مخفی نہیں ہے. بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مودودی افکار درحقیقت اخوانی فکر سے بھی زیادہ خطرناک ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا. اخوانیوں کی دموی تاریخ جو سید قطب اور ان کے بعد کی ہے پورے طور پر مودودی فکر سے متاثر ہی نہیں بلکہ اسی پر قائم ہے. بر صغیر کی یہ تحریکی جماعت اس اعتبار سے اور بھی زیادہ قابل نقد ہے کہ ان کے یہاں مذکورہ جراثیم کے ساتھ ساتھ اشعریت ماتریدیت اور ہندی فلسفہ کے گہرے اثرات اور عرب نسل مخالف رجحانات بھی بہت ہی مضبوط شکل میں موجود ہیں. جو عرب اخوانی تحریکیوں کے یہاں کم از کم اس واضح شکل میں دکھائی نہیں دیتے.
مولانا مودودی اور حسن البنا کا اہل رفض سے تعلق بھی کوئی راز کی بات نہیں. تہران کے خمینی انقلاب ہی کے وقت بلکہ اس سے بھی پہلے سے ان کی جو گہری دوستی رہی ہے اور جس طرح سنی مکتب فکر کے مقابلے میں انہوں نے ان سے پینگیں بڑھائی ہیں اس کے شواہد فلسطین کی حماس، مصر کی اخوان اور بر صغیر کی مودودی تنظیم کے یہاں وافر مقدار میں دستیاب ہیں.
نیپال کے اندر حالیہ دنوں کچھ تحریریں اس تعلق سے منظر عام پر آئیں تو مودودیوں نے خوب واویلا مچایا کہ بھلا ان کا تہران سے کیا تعلق؟ یہ ان پر بہتان تراشی ہے. تعجب ہوتا ہے کہ یہ تحریکی کیا واقعی اتنے بھولے ہیں یا پھر دنیا کو اتنا بھولا سمجھتے ہیں. مودودی کی پالیسی پر قائم کی ہوئی جماعت اور تنظیم چاہے اس کا جو بھی نام رکھ لیا جائے یہ ممکن نہیں کہ ان کے یہاں اہل رفض سے وہ براءت پائی جائے جو دیگر اہل سنت جماعتوں کا طرہ امتیاز ہے. اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کے بھی عملی شواہد موجود ہیں کہ نیپال میں اس فکر کے حاملین نے باقاعدہ تہرانی وفد کی ضیافت کی، بعض علاقوں کا دورہ کروایا اور ان سے جڑے رہنے والوں میں سے بعض کا ایران کا دورہ بھی ہوا. یہ ساری باتیں تقریباً ہر کس وناکس کے علم میں ہیں.
اب وقت آگیا ہے کہ اہل سنت والجماعت کے تمام طبقوں کو ان کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے. اب بہت ہو چکا انہیں اپنا قبلہ متعین کرنا ہی ہوگا. یا مکہ یا تہران وقم. آدھا تیتر آدھا بٹیر کا وقت ختم ہوا.
💥مولانا مودودی صاحب اور ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور ان کے افکار کا بدلتا ہوا منظر نامہ ذیل کی تحریر میں دیکھا جا سکتا ہے. یہ تحریر ان کی ہے جنہوں نے بہت قریب سے اس جماعت اور اس کے بانی کے افکار کا مطالعہ کیا ہے اور بڑی گہرائی اور گیرائی سے ان کا تجزیہ بھی لگاتار کرتے رہے ہیں. میری مراد استاذ الاساتذہ جناب مولانا عبد المعید صاحب مدنی حفظہ اللہ سے ہے. اللہ ان کی عمر اور جہود میں برکت عطا فرمائے. آمین.))
فضیة الشيخ عبد المعید مدنی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
((یہ بات بہت پہلے کہی گئی تھی ۔ لیکن ان کی کتاب (اسلام اور سیاسی کشمکش) ج3 کا جائزہ لینے اور انکے تیسرے دور (1939__1949)کے لٹریچر کا محاکمہ کرنے کے بعد یہ لگا کہ وہ اصلا خارجی نظریات کے حامل ہیں۔
پھر چوتھے دور( 1939_1972 )میں جمہوری، علمانیت کے قائل۔ ان کے اصول کے مطابق اسلام سے کفر کی طرف فلائنگ یا ان کے الفاظ میں حالت اصلی سے حالت واقعی کی طرف فرار۔
مودودی صاحب دراصل ایک دانشور تھے عالم نہیں۔ اصلی عالم نصوص ،اصول اور منہج کا پابند ہوتا ہے۔دانشور نظریہ ضرورت کےتحت بھاگتا ہے ۔ دانشور نتیجہ نکالے بیٹھا ہوتا ہے اور اگر دین پسند ہے تو نصوص کے ساتھ کھیلتا ہے۔
مودودی کے نمایاں انتاجات میں ہے خارجیت اور سیاسی ہڑبونگ، خوارج اور سیاسی ہڑبونگی۔ مودودی کے ہاں اتنا ایچ پیچ اور تضادات ہیں کہ انکی تحریروں کا قاری حیران ہو گا معتزلی ماتریدی بنے کہ خارجی یا رافضی۔ مقلد بنے کہ متبع سنت یا منکر حدیث۔ مغرب کا مخالف بنے یا اس دیوانہ۔ مودودی صاحب تضادات کی پوٹ ہیں۔ جس شخص کی زندگی کے پانچ فکری ادوار ہوں اور نظریہ ضرورت جس کا اصول ہو وہ فتنے کےسوا امت کو کیا دے سکتا ہے۔ جدید خارجیت کی اساس ہی مودوی افکار ہیں ۔اسکی گواہی قرضاوی،اور جعفر ادریس جیسے اخوانی اساطین دیتے ہیں۔اور سارے تکفیری قتالی جدید خارجیت کے قیادی نظریہ ساز تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایمن الظواہری اور اسامہ بن لادن وغیرہ
مودودی صاحب پہلے کانگریسی تھے، پھر مسلم لیگی بنے، پھر خارجیت کی تبلیغ کی ،پھر جمہوریت کو اپنایا آخر میں اعتراف سب غلط تھا صرف دعوت کام کرنا چاہیے تھا۔کیا ایسا شخص امت کو شر کے سوا
کچھ دے سکتا ہے۔
اب ان کی امت رافضیت،خارجیت اور تحریکیت کے تکون یا تثلیث کا حصہ ہے اور نظریہ ضرورت یا حکومت پرستی اس کا دین ہے اور اسی پر اسکو طرہ اور غرور ہے ۔
پتہ نہیں کیوں اُنہیں کبھی کبھی منہج محدثین سے الرجی ہو جاتی تھی، حنفیت کا زور اور منہج محدثین کو نہ سمجھنے کا نتیجہ 'مسلک اعتدال، ہے، مسلک اعتدال کی بے اعتدالی پورے علوم الحدیث پر پانی پھیر دینے کے مترادف ہے، وہی پرانا وظیفہ احادیث ظنی ہیں اور ظنی چیز قابل ثبوت نہیں اور محدثین کا اصول فقہا کی بصیرت کے مقابلے میں در خور اعتنا نہیں، فقہا کا ذوق محدثین کے علمی اصولوں کے مقابلے میں مودودی کی نگاہ میں حدیث کی شرعیت و حجیت کے بارے میں زیادہ قابل اعتبار ہے، طبیعت کے افتاد کی کون سی ساعت تھی جس میں ایسی افسانوی باتیں مودودی کے قلم سے نکل گیئں اور اُن کے متبعین کیلئے حدیث کے متعلق تشکیک کا دروازہ کھول گیئں، ایس. آئ. ایم. (اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا) کے نوجوان ہوں یا تحریک اسلامی کے شخصیت پرست افراد یا تحریکی مزاج رکھنے والے عصری و دینی مدارس کے طلبا، راہ چلتے امام بخاری اور مولانا مودودی کے درمیان موازنہ کرتے نظر آتے ہیں اور شخصیت پرستی کی راہ سے امام بخاری اور اُن کی مہارت حدیث کو بے مصرف بتاتے پھرتے ہیں اور حدیث کی بے توقیری میں بہت دور نکل جاتے ہیں، اِن بے چاروں کی طبیعت میں پرسنالٹی کلیش کا روگ لگ گیا ہے، اُن کا احساس زخمی ہونے لگتا ہے اگر امام بخاری کی شخصیت بڑھی تو مولانا مودودی کا قد گھٹ جائے گا، لہذا امام بخاری اور اُن کی صحیح اور پورے منہج محدثین کو کم وقعت بنا دو، تاکہ مولانا مودودی بلند رہیں۔)).
💥(اہل بدعت کی طرح مودودی کی گھناونی سازش) کے عنوان سے حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ (١٩٦٤م) فرماتے ہیں:
((مودودی صاحب کا مقصد یہ ہے کہ علم حدیث کو ہر پہلو سے کمزور دکھا کر اہل بدعت کی طرح اپنی من مانی کاروائی کریں. مگر اللہ بڑا کارساز ہے وہ اپنے دین کی حفاظت اس طرح کرتا ہے جیسے فرعون کی گود میں موسی علیہ السلام کی تربیت"۔
📚: ((مودودیت اور احادیث نبویہﷺ: ١٢٢))
ایک جگہ مودودیت کا مقابلہ مرزائیت سے کراتے ہوئے کہتے ہیں:
مودودی صاحب کی طرح وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اصل معیار قرآن مجید ہے ، اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب اصل معیار قرآن مجید ہوا تو جو حدیث قرآن مجید سے موافق ہوگئی وہ لی جائے گی اور جو خلاف ہوگی اس کی کوئی تاویل کی جائے گی یا رد کر دی جائے گی ۔
اب یہ ایک ایسا اصول ہے جس سے بڑی شاخیں پھوٹتی ہیں بڑی پگ ڈنڈیاں نکلتی ہیں اور مختلف راستے کھل جاتے ہیں ، بس یہاں سے گمراہی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور انسان آزاد ہوجاتا ہے ، جس طرح چاہے کلامِ الٰہی میں تصرف کرے ، اور جو چاہے احادیث پر حکم لگائے۔"
مودودیت اور احادیث نبویہ ﷺ: ١٠٢، ١٠٣
💥جماعت اسلامی کے بانی ابولاعلی مودودی صاحب کی کتابوں اور رسالوں میں ایسی خطرناک باتیں موجود ہیں کہ جن سے ناواقف آدمی صرف گمراہ ہی نہیں بلکہ کفر میں بھی پڑسکتا ہے۔ ابو الاعلی مودودی نے اپنی مختلف کتابوں میں انبیاء کرام، صحابہ کرام اور احادیث مبارکہ کے خلاف جو تہمت تراسی کی ہے اور دین اسلام میں جو شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی اس وقت کے روافض اور مستشرقین بھی شاید ان کے سامنے پانی بھرتے رہے ہوں۔ موصوف کی ان تمام نکتہ آفرینیوں سے واقف ہونے کے لئے دیکھیں یہ لنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1805305033121275&id=1751060058545773
💥جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے دینی افکار جاننے کیلئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ ضرور کریں:
1- مختلف علما کے آرٹیکلس پر مشتمل کتاب (جماعت اسلامی کو پہچانئے)۔
2- جماعت اسلامی کی حقیقت۔ تالیف: شیخ توصیف الرحمن راشدی حفظہ اللہ
3- خلافت وملوکیت کا شرعی و تاریخی جائزہ۔
تالیف: شیخ صلاح الدین یوسف صاحب رحمہ اللہ
http://www.archive.org/download/Khilafat-o-Malokiyat/Khilafat-o-Malokiyat.pdf
4- تاریخ جماعت اسلامی ۔ تالیف: آباد شاہ پوری
https://archive.org/download/TarikhJamateIslami1/Tarikh-Jamate-Islami-1.PDF
5- تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث
تالیف: علامہ داؤد راز دہلوی رحمہ اللہ
https://archive.org/download/TehreekEJamaatIslamiAurMaslakAhlEHadees_201608/Tehreek-e-Jamaat-Islami-Aur-Maslak-Ahl-e-Hadees.PDF
6- تحریکی رجحان (جماعت اسلامی کی بنیادی کمزورریاں) تألیف: شیخ عبد المعید مدنی حفظہ اللہ
https://archive.org/download/TehreekiRujhaanJamaatIslamiKiBunyadiKamzooriyan/Tehreeki-Rujhaan-Jamaat-Islami-Ki-Bunyadi-Kamzooriyan.pdf
7- جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث تنقیدی جائزہ
تالیف: شیخ محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ
https://archive.org/download/JamatEIslamiKaNazriaHadithAikTanqediJaiza/Jamat-e-Islami-Ka-Nazria-Hadith-Aik-Tanqedi-Jaiza.PDF
8- سید ابو الاعلیٰ مودودی کا مخصوص نظریہ حدیث، تالیف: امام العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ (١٩٦٤م)
https://archive.org/download/SayyedAbuUlAalaModoodiKaMakhsoosNazriaEHadees/Sayyed-Abu-ul-Aala-Modoodi-Ka-Makhsoos-Nazria-e-Hadees.pdf
9- تقصیرات تفہیم القرآن، تالیف: شیخ عابد الرحمن
10- انبیاء کا اسلوب دعوت، تالیف: شیخ ربیع ہادی المدخلی حفظہ اللہ
http://www.archive.org/download/AnbiyaKaAslobeDawat/AnbiyaKaAslobeDawat.pdf
11- اس جماعت کی حقیقت کو ان ویب سائٹس پر بھی پڑھ کر جان سکتے ہیں:
http://www.urdumajlis.net/threads/5237/
https://mominsalafi.blogspot.in/2017/01/blog-post_52.html?m=1
http://fitna-e-mawdudiyat.blogspot.in/2015/02/blog-post.html?m=1
💥منافقت کا روپ دھار کر آج سب سے زیادہ یہی تحریکی توحید پرستوں کے خلاف منافقوں کے سردار صہیونیت کے ایجنٹ اردگان کی حمایت کرتے ہیں اور اس خمینی رافضیت کے سب سے زیادہ یہی بہی خوان ہیں جس سے آج مسلمانوں کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ دیکھیں ان کے کارنامے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10216135024748932&id=1250130712
حالانکہ ایران کے جوہری معاہدے کی ناکامی کے موجودہ پس منظر میں ایک طرف جہاں سارے سنی مسلم ممالک خوش ہیں وہیں اس سے تحریکی اردگان کو سب سے زیادہ تکلیف ہو رہی ہے بلکہ اردگان نے ایرانی رافضیوں کا پورا پورا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ دیکھیں اس ترکی ویب سائٹ کو:
www.hurriyetdailynews.com/amp/us-will-lose-from-decision-to-withdraw-from-iran-nuclear-deal-erdogan-131535
اس وقت پڑھے لکھے نوجوان ان تحریکیوں کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔ بلکہ ان کے کھوکھلے نعروں اور حکومت الہیہ کے نام پر جھوٹے پروپیگنڈوں کے دام میں بہت سارے لوگ پھنستے جا رہے ہیں۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے اور اس پر فتن دور میں امت مسلمہ کی اعدائے توحید کی تمام سازشوں سے بچائے۔ آمین
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق