الجمعة، 19 أكتوبر 2018

دفاع صرف کتاب وسنت پر عمل کرنے والوں کا۔۔۔

💥دفاع صرف کتاب وسنت پر عمل کرنے والوں کی💥
سعودی عرب سے سنیما گھر کھلنے اور تاش کھیلنے کی خبریں آرہی ہیں۔ ان پر اظہار خیال کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ تو اس پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ:
بے جا کسی کی طرف داری اور صفائی بہتر نہیں ہے۔ کوئی کسی کے ساتھ قبر میں نہیں جائے گا۔
ترکی میں فحاشی کے اڈے چلتے ہیں۔ چار ارب ڈالر سالانہ اردگان کی کمائی ہے۔ اب تک اردگان فحاشی کے عمل کو زنا ثابت نہیں کر پا رہے ہیں۔ اب ان کی کوئی بے جا حمایت کرے یہ کہاں کی دانشمندی ہے۔ اور کوئی امیر المومنین کہنے لگے تو اس سے بڑا پاگل کوئی نہیں ہو سکتا۔
اسی لئے کسی کی بے جا حمایت مناسب نہیں ۔ چاہے کوئی آل سعود ہو یا آل خمینی ہو یا آل ثانی ہو یا آل اردگان ہو یا آل بنا ہو یا آل مودودی۔  
توحید اور کتاب وسنت کے لئے جو کام کرے صرف اسی کام کی حمایت مناسب ہے۔ 
💥اپنا موقف: 
ہم نہ تو کسی کے اندھ بھکت مقلد ہیں کہ لکیر کے فقیر بنے رہیں نہ ہی کسی کے ذہنی وفکری غلام ہیں کہ اسکی ہر فکر کی تائید کرتے رہیں۔ کتاب وسنت پر مبنی ہمارا منہج چمچماتا ہوا بالکل واضح اور صاف ہے بلکہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن اور تابناک ہے۔ اس پر چلا اسے ہم سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں چاہے وہ ہمارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ اور جو اس سے ہٹا اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں چاہے وہ اپنا سب سے قریبی ہی کیوں نہ ہو۔ ہم بے جا نہ تو کسی کی حمایت کرتے ہیں اور بلا دلیل وشواہد نہ ہی کسی کی رد کرتے ہیں۔ 
💥ویسے ایک صاحب نے حالیہ تاش کھیلنے کی محفل سجانے پر جواب اپنے انداز میں لکھا ہے جسے کاپی کر رہا ہوں:
سعودی عرب کے مفتی عبدالقوی !
شیخ عادل کلبانی سعودی عرب کے مشہور اور متنازعہ داعی ہیں،ان کی یہ تصویریں کچھ دوستوں نے مجھے انبکس کردی ہیں اور تصدیق یا تردید چاہی ہے.
یہ تصویریں ایک دن پہلے کی ہیں تصویریں فیک نہیں ہیں،یہ سعودی عرب کے کیپٹل الریاض کی ہیں،جہاں ایک روز پہلے تاش چمپئین شپ کا افتتاح ہوا تھا،شیخ عادل اس تقریب میں مدعو تھے،ایک تصویر شیخ عادل نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ سے بھی شئیر کی ہے،العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ عادل نے نہ صرف لہو و لعب کی اس محفل میں شرکت کی تصدیق کردی ہے بلکہ اس بات کا بھی عزم کیا ہے کہ وہ تاش سیکھنا چاہیں گے. 
شیخ عادل کلبانی کون ہے؟
یہ الریاض شہر میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم عصری علوم کی حاصل کی پھر چھ سال تک سعودی ائیرلائن میں ملازمت کرتے رہے،اسی دوران دین کی طرف ان کا رجحان پیدا ہوا،مختلف علماء سے چلتے پھرتے انہوں نے قرآت وغیرہ کا علم حاصل کیا،ان کی آواز اچھی تھی کچھ عرصہ یہ خانہ کعبہ میں نماز تراویح کے امام رہے.
پھر انہیں خانہ کعبہ کی امامت سے معزول کیا گیا،گانا بجانا اور مرد و زن کے اختلاط کے یہ قائل تھے،2010ء میں انہوں نے گانے بجانے کی حلت پر بقاعدہ فتوی بھی دے ڈالا جس کے بعد ان کے خلاف امام کعبہ شیخ عبدالرحمن سدیس،مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ، شیخ صالح اللحيدان وغیرہ کے فتاوی آئے ،امام کعبہ شیخ شریم نے عادل کلبی کے فتوی کے رد میں ایک شعری قصیدہ بھی "قصیدہ عتاب" کے نام سے لکھا.
لہذا شیخ عادل کلبانی کی طرف سے تاش سینٹر کی افتتاحی تقریب میں حاضری کوئی غیر متوقع عمل نہیں ہے،جہاں تک تاش کھیلنے کا تعلق ہے یہ بھی سعودی عرب میں کوئی نئی بات نہیں ہے،جو یہاں مقیم ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سعودیز تاش کے شوقین ہیں،قہوہ خانوں میں یہ گیم دستیاب ہوتی ہے،ہم گذشتہ سات آٹھ سال سے اس چیز کا مشاہدہ کرتے آ رہے ہیں،یہ سمپل تاش ہوتی ہے اس میں جوا وغیرہ نہیں ہوتا ہے.
آخری بات،ہمارا منہج اور ہمارا ماننا یہ ہے کہ غلط کام امام کعبہ کرے یا عام مسلمان بہرحال اس کام کو جسٹیفائی نہیں کیا جائے گا،دین اسلام کسی فرد،خطہ اور ملک کی سوچ و فکر کا نام نہیں ہے،اسلام قرآن و حدیث کا نام ہے جو دائمی سرمدی اور ابدی ہے،ہم تو جلیل القدر آئمہ اربعہ میں سے کسی کا فتوی،کسی کی بات ،کسی کا عمل قرآن و سنت سے دلیل نہ کرتا ہو تو اسے دیوار پہ مارنے کے قائل ہیں کلبانی ولبانی کے خلاف شرع فتووں کی کیا حیثیت ہے.
بھئی وہ کوئی اور ہوں گے جو اپنے ذاکروں کا پنکھوں میں کمندیں ڈالنے،اپنے ولیوں کا چمگادڑ کی طرح کنویں میں الٹا لٹکنے اور اپنے بزرگوں کے ہر مضحکہ خیز کام اور فتوے کی توجیہ پیش کرکے انہیں بچاتے ہوں گے،ہم تو اس معاملے میں بڑے گستاخ واقع ہوئے ہیں.
ہر قوم میں مفتی عبدالقوی جیسے مفتی موجود ہوتے ہیں عربوں میں بھی ایسے کئی نمونے موجود ہیں،ان کا عمل قوم کے اہل علم کی اجتماعی فکر کا ترجمان نہیں ہوتا ہے.
بقلم فردوس جمال !!!
____________________________________________
💥ویسے کلبانی صاحب نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ تاش ترویح عن النفس کے ضمن میں آتا ہے اور اسلام نے تفریح کو درست قرار دیا ہے۔ نظریہ اپنا اپنا۔ 
دفاع میں لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تاش کھیلنا جائز ہے دو شرطوں کے ساتھ: 
1. قمار نہ ہو
2. عبادت اور فرائض سے دوری کا سبب نہ بنے.
ویسے یہ تاش لہو لعب ہی کے ضمن میں آتا ہے۔ مزید اس سے وقت کا ضیاع بھی ہے۔ اسی لیے عموماً سعودی علماء اسے ناجائز کہتے ہیں۔
سعودیہ کی حسنات بے شمار ہیں. ابھی بھی یہ روئے زمین کے تمام ممالک سے بہتر ہے. پھر بھی سفید کپڑے پر چھوٹے چھوٹے کالے داغ بھی اچھے نہیں لگتے. بالکل اسی طرح کسی کا پورا کرتا تارکول ہی میں ڈوبا رہے اگر ہم اسے اسی طرح دیکھنے کے عادی ہیں تو کچھ بھی عجیب محسوس نہیں ہوتا۔ 
سعودی حکومت  اپنی معاشی و اقتصادی  بحالی  کے لئے جو کچھ بھی لبرل اقدام کر رہی ہے اس کے ان اقدامات کو نا تو وہاں کی دین دار عوام کی حمایت حاصل ہے نا ہی حق پرست علما کی ۔  لہذا ہر معاملے میں بے جا سعودیہ کی حمایت کرتے ہوئے زبان حال سے  اصول کرخی کی طرز پر اس شعر کی ترجمانی نہیں کرنی چاہئے:
فلعنة ربنا أعداد رمل 
على من رد قول أبي حنيفة
واضح رہے کہ کلبانی صاحب کے ٹوئٹر اکاونٹ پر اور اس کے بند کرنے کے لئے چالیس ہزار سے زیادہ ٹویٹ ہوچکے ہیں جو درشاتے ہیں کہ ابھی سعودی عوام کی اکثریت دین دار  ہے اور مغربیت پر تھوکتی ہے۔
بھیڑ چال میں... ایک سعودی عالم کو جواری کہنے والے حضرات
_________________________________________
دنیا 🌐 میں کئی اقسام کے آؤٹ ڈور اور ان ڈور گیمس کھیلے جاتے ہیں، جن میں سے کئی کسی قوم کی شناخت ہی بن جاتے ہیں مثلاً، کرکٹ، یہ ہندوستان کا قومی کھیل نہیں ہے، باوجود اس کے یہ اپنی ایک منفرد شناخت بنا چکا ہے-
فرانس میں ایک قدیم انڈور گیم بہت مقبول ہے جسے فرانسیسی زبان میں bolete کہتے ہیں، تقریباً ویسا ہی ایک گیم عرب دنیا میں رائج ہے جسے بہ زبان عربی بلوت کہا جاتا ہے
بلوت نامی اس کھیل کا آغاز عہد خلافت عثمانیہ میں ہوا تھا، جس کا أصل جد امجد ایک ہندوستانی تاجر تھا جو وہیں آباد ہوگیا تھا
یہ کھیل تاش کے پتوں سے کھیلا جاتا ہے لیکن اس میں باون کے بجائے صرف بتیس پتوں کا استعمال ہوتا ہے، اس کھیل کو ایک ساتھ چار لوگ کھیلتے ہیں جو دو الگ الگ ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں، ہر کھلاڑی کے پاس آٹھ آٹھ کارڈ ہوتے ہیں، ان کارڈس کو عربی زبان میں أوراق الحکم کہا جاتا ہے جو چار الگ الگ رنگ کے ہوتے ہیں، اس کھیل کا کل دورانیہ بہ شمول وقفہ ایک گھنٹہ ہوتا ہے لیکن پچیس سے تیس منٹ میں ہی یہ کھیل مکمل ہوجاتا ہے اس لئے وقفہ کچھ طویل کیا جاتا ہے
اس کھیل سے مطلوب مہارت قوتِ فہم و ذکا ہے، دماغ کا استعمال اس میں شطرنج سے کہیں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ دو لوگوں کو مل کر، دو اور لوگوں کے دماغ کو پڑھنا پڑتا ہے اور ان کا دماغی دفاع بھی کرنا ہوتا ہے
آجکل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے متصل جو ایک نیا ثقافتی شہر آباد ہورہا ہے، اس میں حجاز کی تمام قدیم روایات کو فروغ دینے کی خاطر ایک مرکز تفریحات کا قیام بھی عمل میں آیا ہے، چونکہ بلوت عرب کی قدیم ثقافت کا حصہ ہے اور منافع بخش بھی ہے اس لئے اس کھیل کو باقاعدہ ایک لیگ کی طرح منعقد کیا جارہا ہے-
پاکستان کی ایک ویب سائٹ نے لیگ کے افتتاحی پروگرام کو نشر کرنے کے لئے جو خبر بنائی، اس کی ہیڈنگ کچھ اس طرح تھی First gambling center of Saudi Arabia inaugurated in Jeddah
اب اس خبر کا چھپنا تھا کہ "إذا جاء کم فاسق بنبأ" کے منکرین کو ایک موقع ہاتھ لگ گیا اور اچھے خاصے ذی شعور حضرات بھی اس صف میں شامل ہوگئے
واضح کردوں کہ میرا سعودی حکومت یا کسی اور سعودی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، تحقیق کرنا اور حق بیانی سے کام لینا میرا طریق ہے، انجام کی پرواہ کئے بغیر
واللہ اعلم بالصواب
زبیر خان سعیدی 🔰
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10213150307245588&id=1031993485
===________________________________________
سعودی عرب کے متعلق ایک فوٹو دیکھا هے، اس کی حقیقت کیا ھے یہ معلوم نہیں هے، لیکن اس پر تحریکیوں نے سوشل میڈیا پر کہرام مچا رکھا ھے، اسے دیکھ کر اندازہ ھوا کہ سعودی عرب میں بھت خیر هے، اور اس مناسبت سے عربی کا ایک شعر بھت یاد آیا: 
من ذا الذي ترضى سجاياه كلها 
كفى المرء نبلا أن تعد معايبه 
کہ کسی کی شرافت کے لئے یہی کافی ھے کہ اس کے عیوب شمار کئے جائیں، ورنہ امیر المومنین کے ملک کے بارے میں تو یہ شمار ھی نہیں کر سکتے.
(عبداللہ مشتاق)
___________________________________________
شیخ عادل الکلبانی حفظہ اللہ سعودی عرب کی ایک صاحب علم شخصیت ہیں، اگرچہ بہت سے مسئلوں میں آپ ان سے اختلاف کریں۔ ماضی میں شاید امام کعبہ بھی رہ چکے ہیں۔ ایک عرصہ سے، سعودی عرب کی ان معدودے چند علمی شخصیات میں مانے جاتے ہیں جنہوں نے ’’فقہی تیسیر‘‘ (آسان آسان فتوے دینے) کے معاملہ میں شیخ یوسف قرضاوی حفظہ اللہ کی راہ اختیار کر رکھی ہوئی ہے؛ اور اس وجہ سے سعودی عرب کے بہت سے لوگوں سے تند و ترش سن رہے ہیں۔ عورت کے حق میں نقاب کو واجب نہ کہنے کے مسئلہ میں، موسیقی کو حلال ٹھہرانے کے مسئلہ میں، اور اسی طرح کے دیگر امور کو جائز کرنے کے معاملہ میں ایک عرصہ سے یہ سعودی علماء کی مین سٹریم سے ہٹ کر فتوے دے رہے ہیں۔ اور یہ معاملہ ایک عرصہ سے ہے۔ حالیہ مسئلہ کارڈز سے کھیلا جانے والا ایک ان ڈور کھیل جو ’’بلوت‘‘ کے نام سے سعودی عرب میں مقبول ہے، اس کا معاملہ بھی ایسا ہے۔  بہت سے روزمرہ امور میں سعودی عرب کے علماء سختی مائل دیکھے گئے ہیں۔ اس مسئلہ میں بھی اہل علم کی اکثریت، سمیت شیخ ابن باز اور ماضی کی لجنۃ دائمہ للافتاء اس تاش نما کھیل کے حرام ہونے کا فتویٰ دے چکی ہے اگرچہ اس پر پیسے نہ بھی لگائے گئے ہوں۔ یہ البتہ واضح رہے، ’’جوا‘‘ اس کو ان (حرام کہنے والے علماء) نے بھی نہیں کہا۔ بلکہ وہ ’’سد الذرائع‘‘ کے باب سے اس کو اس لیے حرام کہتے ہیں کہ یہ ان کے خیال میں ’جوئے‘ کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ عین یہی دلیل ان کی ’’عورت کی ڈرائیونگ کو حرام‘‘ کہنے کے معاملہ میں بھی رہی ہے کہ ان کے خیال میں یہ بدکاری اور حرام تعلقات کی راہ ہموار کرنے والا ایک عمل ہے۔ نیز یہ کہ یہ (بلوت) اللہ کے ذکر سے غافل کرنے والا کھیل ہے (لڈو کے بارے میں بھی ان علماء کی اکثریت کا رجحان کچھ اسی طرف کو دیکھا گیا ہے کہ یہ حرام ہے)۔ نیز یہ کہ لوگوں میں بغض اور عداوت کے بیج بونے والا کھیل ہے۔ کچھ علماء نے البتہ اپنے فتویٰ میں اس ان ڈور کھیل کو صرف اس صورت میں حرام کہا ہے جب اس پر پیسے لگائے گئے ہوں۔ یعنی جب یہ جوا ہو۔ نیز جب یہ آدمی کو اس کے فرائضِ دینی و دنیوی سے غافل کرنے کا موجب ہو۔ مثلاً دیکھیے یہ دو فتاوى: (فتوی 1: http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=40986  ۔ فتوی 2: http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=40986  ۔ )
آج سوشل میڈیا پر، عام لوگ تو یہ بےبنیاد خبر سنتے ہی کہ ’سعودیہ کے ایک سابق امام کعبہ نے ملک میں جوے خانے کا افتتاح کیا ہے‘، اس بات کو خوب خوب نشر کرنے لگے۔ جوکہ ان (عام عوام) کے حق میں بھی غلط ہی ہے۔ مگر تعجب ہوتا ہے کچھ اچھے اچھے فضلاء پر، جو ’’سعودی عرب کی اسلام دشمنی‘‘ کو سامنے لانے کا یہ موقع گویا جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ سو اس درجہ جلد باز دیکھے گئے کہ تھوڑی بہت تحقیق کر لینا بھی غیر ضروری جانا۔ یہ بھیڑ چال ان قابل احترام حضرات کے حق میں بالکل ٹھیک نہیں۔ ٹویٹر اور فیس بک پر بیٹھے ہوئے بھی یہ ایک آیت اور یہ ایک حدیث کبھی بھولنی نہیں چاہئے:
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ﴿الاسراء: ٣٦﴾ 
’’اور کسی ایسی چیز کے پیچھے مت جا جس کا تجھے علم نہیں۔ بےشک کان، آنکھ اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے‘‘۔
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ   قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ  
حفص بن عاصم سے روایت، کہا: فرمایا رسول اللہﷺ نے: آدمی کے جھوٹا ہونے کےلیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی (سنائی) بات بیان کرنے لگے۔
صحیح مسلم: http://hadith.al-islam.com/Loader.aspx?pageid=237&Words=%D9%8A%D8%AD%D8%AF%D8%AB+%D8%A8%D9%83%D9%84&Type=phrase&Level=exact&ID=5532&Return=http%3a%2f%2fhadith.al-islam.com%2fPortals%2fal-islam_com%2fLoader.aspx%3fpageid%3d236%26Words%3d%D9%8A%D8%AD%D8%AF%D8%AB%2b%D8%A8%D9%83%D9%84%26Level%3dexact%26Type%3dphrase%26SectionID%3d2%26Page%3d0
____________________________________________
کیا حقیقت کیا فسانہ 
سعودی عرب کے مفتی عبدالقوی !

تحریر:ابو ہریرہ
انتخاب واضافہ:خرم شبیر السلفی

شیخ عادل کلبانی سعودی عرب کے مشہور اور متنازعہ داعی ہیں،ان کی یہ تصویریں کچھ دوستوں نے مجھے انبکس کردی ہیں اور تصدیق یا تردید چاہی ہے.

یہ تصویریں ایک دن پہلے کی ہیں تصویریں فیک نہیں ہیں،یہ سعودی عرب کے کیپٹل الریاض کی ہیں،جہاں ایک روز پہلے تاش چمپئین شپ کا افتتاح ہوا تھا،شیخ عادل اس تقریب میں مدعو تھے،ایک تصویر شیخ عادل نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ سے بھی شئیر کی ہے،العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ عادل نے نہ صرف لہو و لعب کی اس محفل میں جانے کی تصدیق کردی ہے بلکہ اس بات کا بھی عزم کیا ہے کہ وہ تاش سیکھنا چاہیں گے. 

شیخ عادل کلبانی کون ہے؟

یہ الریاض شہر میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم عصری علوم کی حاصل کی پھر چھ سال تک سعودی ائیرلائن میں ملازمت کرتا رہا،اسی دوران دین کی طرف ان کا رجحان پیدا ہوا،مختلف علماء سے چلتے پھرتے انہوں نے قرآت وغیرہ کا علم حاصل کیا،ان کی آواز اچھی تھی کچھ عرصہ یہ خانہ کعبہ میں نماز تراویح کے امام رہے.

پھر انہیں خانہ کعبہ کی امامت سے معزول کیا گیا،گانا بجانا اور مرد و زن کے اختلاط کے یہ قائل تھے،2010ء میں انہوں نے گانے بجانے کی حلت پر بقاعدہ فتوی بھی دے ڈالا جس کے بعد ان کے خلاف امام کعبہ شیخ عبدالرحمن سدیس،مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ، شیخ صالح اللحيدان وغیرہ کے فتاوی آئے ،امام کعبہ شیخ شریم نے عادل کلبی کے فتوی کے رد میں ایک شعری قصیدہ بھی "قصیدہ عتاب" کے نام سے لکھا.

لہذا شیخ عادل الکلبانی کی طرف سے تاش سینٹر کی افتتاحی تقریب میں حاضری کوئی غیر متوقع عمل نہیں ہے،جہاں تک تاش کھیلنے کا تعلق ہے یہ بھی سعودی عرب میں کوئی نئی بات نہیں ہے،جو یہاں مقیم ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سعودیز تاش کے شوقین ہیں،قہوہ خانوں میں یہ گیم دستیاب ہوتی ہے،ہم گذشتہ سات آٹھ سال سے اس چیز کا مشاہدہ کرتے آ رہے ہیں،یہ سمپل تاش ہوتی ہے اس میں جوا وغیرہ نہیں ہوتا ہے.

آخری بات،ہمارا منہج اور ہمارا ماننا یہ ہے کہ غلط کام امام کعبہ کرے یا عام مسلمان بہرحال اس کام کو جسٹیفائی نہیں کیا جائے گا،دین اسلام کسی فرد،خطہ اور ملک کی سوچ و فکر کا نام نہیں ہے،اسلام قرآن و حدیث کا نام ہے جو دائمی سرمدی اور ابدی ہے،ہم تو جلیل القدر آئمہ اربعہ میں سے کسی کا فتوی،کسی کی بات ،کسی کا عمل قرآن و سنت سے دلیل نہ کرتا ہو تو اسے دیوار پہ مارنے کے قائل ہیں کلبانی ولبانی کے خلاف شرع فتووں کی کیا حیثیت ہے.

ہر قوم میں مفتی عبدالقوی جیسے مفتی موجود ہوتے ہیں عربوں میں بھی ایسے کئی نمونے موجود ہیں،ان کا عمل قوم کی اجتماعی فکر کا ترجمان نہیں ہوتا ہے.

" ہمارےبھائی فردوس جمال صاحب نےبہت اچھےاندازمیں بات کو واضح کیاہے,کچھ باتیں میں مزیداس میں کرناچاہوں گا,
1: دین کسی مفتی کا محتاج نہیں ہے,اورمفتی بھی انسان ہی ہوتےہیں کہ شیطان انہیں بھی ورغلاسکتاہے,بلکہ زیادہ ہی ورغلاتاہےاس لیےکہ چور وہاں چوری کرتاہےجہاں مال ہو کنگال کےپاس اس نےکیاکرناہےجاکر, اسی طرح شیطان بھی وہیں حملہ کرتاہےجہاں علم ہو جاہل سےاسے کوئی دلچسبی نہیں ہوتی, ہاں البتہ جب کوئی عالم یا مفتی کوئی غلطی کرتاہےتواسلام اوراہل اسلام پر دھبہ ضرور لگتاہے, جبکہ اس کےمقابلے میں جاہل کوئی غلطی کرتاہےتواتنی پریشانی نہیں ہوتی, اورغلطی کرنی جاہل کوبھی نہیں چاہیے, جبکہ علماۓکرام کوتواورزیادہ احتیاط کی ضرورت ہے.
2: اس مفتی کی غلطی سےبہت سارے بدعتی اورمشرک قسم کےعلماء یاعلماۓسو البتہ بہت شورشرابا کریں گےعنقریب کہ دیکھوجی اب توامام کعبہ جیسےبھی جوا اورحرام کاموں کےسینٹرزکاافتتاح کرنےلگے, توان کی خدمت میں عرض ہےکہ کسی ایک کی وجہ سے سب ایک جیسےنہیں ہوجائیں گے,بلکہ اسلام کےماننےوالےاوراس کی خدمت کرنےوالےآج بھی زندہ ہیں اوراللہ کےفضل وکرم سےوہ اپنی جی جان سےاسلام کی نشرواشاعت میں مصروف ہیں,اس لیےبات کوغلط رنگ دینےکی بجاۓاورلوگوں کےزہنوں میں گمراہی پھیلانےسے پہلےاپنی اصلاح کریں,اوراسلام کی نشرواشاعت میں اپناکردار بہتربنائیں,
اللہ تعالی ہم سب کوہرقسم کی برائی سےمحفوظ فرماۓ اوراپنی اصلاح کرنےکی توفیق نصیب فرماۓ,
 آمین یارب العالمین.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1616682071778407&id=100003098884948

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...