السبت، 20 أكتوبر 2018

کیا سعودی کے کسی مفتی نے اردگان کو کافر کہہ کر اسے واجب القتل قرار دیا ہے؟!🎪

🎪کیا سعودی کے کسی مفتی نے اردگان کو کافر کہہ کر اسے واجب القتل قرار دیا ہے؟!🎪
💥سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں لکھا ہے ((مفتي السعودية: أردوغان فاسق وكافر وقتله واجب.)) ترجمہ: سعودی کے ایک مفتی نے فتویٰ دیا ہے کہ اردگان فاسق اور کافر ہے وہ واجب القتل ہے۔ 
یہ اخوانیوں کا ایک سفید جھوٹ اور طلسماتی پروپیگنڈہ ہے۔ کیوں کہ اندھ بھکتوں نے بنا ویڈیو دیکھے اور سنے تبصرہ کرتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے سنا ہی نہیں کہ سعودی عالم نے ترکی کے تعلق سے سوال کرنے پر کیا کہا ہے۔ در اصل انہوں نے اردگان کو نہ تو فاسق کہا ہے اور نہ ہی کافر اور نہ ہی اسکے قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ یہ تو ایک سعودی مخالف تحریکی نے ایک ہیڈنگ لگا کر ویڈیو کو وائرل کر دیا ہے۔ اب اردگانی بھکت اسی ہیڈنگ کو دیکھ کر تلملا رہے ہیں اور سعودی علماء کو سب وشتم سے نواز رہے ہیں اور طرح طرح کے مشورے دے رہے ہیں۔ جاکر اس لنک پر دیکھیں جہاں ایک مداری نے کہہ دیا کہ تمہارے کان کو کوا لے جا رہا ہے اور وہ بغیر اپنا کان دیکھے اسی کے پیچھے بھاگا جا رہا ہے: 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1950390448606353&id=1609117739400294
💥یہ خبر کہیں سے برصغیر کے تحریکیوں کو بھی لگ گئی پھر کیا تھا ان کے سرخیل اور ترجمان نے اس پر ایک مضمون لکھ ڈالا جسے اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2126900597339107&id=1315372015158640
اس مضمون میں یہ پیراگراف بھی شامل تھا:  ((آج کل عربی زبان میں سوشل میڈیا پر ایک مفتی صاحب کی ویڈیو گردش کر رہی ہے _ اس میں وہ اردگان  کو صراحت سے کافر ،فاسق اور واجب القتل قرار دے رہے ہیں _ لہجہ کے اعتماد سے ایسا لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جہنم کا سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا ٹھیکہ دیا رکھا ہے _ وہ کہہ رہے ہیں کہ اردوان کا طریقہ کار منہجِ توحید سے مغایر ہے _ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا توحیدی منہج یہ ہے کہ کسی کلمہ گو کو ، خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار اور بے عمل ، بلکہ بد عمل ہو ، کافر قرار دیا جائے؟))
لیکن بعض احباب کی طرف سے بھکت اکبر کے ساتھ بحث ومباحثہ کرنے کے بعد اس پیراگراف کو نکال دیا ہے۔  اللہ ہم سب کو اندھ بھکتی سے بچائے۔ 
 💥اس واقعہ نے مجھے مولانا علی میاں ندوی کا وہ واقعہ یاد دلا دیا کہ جب مولانا صلاح الدین مقبول نے ان پر (الاستاذ ابو الحسن علی الندوی وکتاباتہ من وجہ آخر) کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں حضرت والا کی عربی اور اردو میں لکھی گئی کتابوں کے مابین موازنہ کر کے یہ ثابت کیا کہ کس طرح سید والا عربی میں سلفی مائل بنے ہوئے ہیں جب کہ اردو میں صوفی مائل۔ 
اس کتاب کی تکمیل کے بعد جب اسکا ایک نسخہ مولانا علی میاں ندوی کے پاس جواب لکھنے کے لئے بھیجا گیا تو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ بعض احباب کے ذریعے پتہ چلا کہ اس کتاب میں اسلاف کو کلاب یعنی کتا کہہ کر گالیاں دی گئی ہیں اس لئے اسکا جواب دینے سے یا اس پر کہنے سے میں معذور ہوں۔ 
حالانکہ کتاب میں کہیں (کلاب) لکھا ہی نہیں ھے جو کتے کے معنی میں ہوتا ہے  بلکہ (کلابیہ) سے ایک فرقے کی طرف اشارہ ہے۔ 
واقعی اندھ بھکتی بھی کیا بری چیز ہوتی ہے جو انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ھے۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...